8

مزاحیہ اداکاری کے میدان میں عمر شریف برصغیر کے بے تاج بادشاہ ہیں

برصغیر میں طنز و مزاح کی اگر بات کی جائے تو کسی بھی صنف میں ہندوستان پاکستان کا مقابلہ نہیں کرپاتا، فلم اسٹیج ڈرامہ ہر پلیٹ فارم میں پاکستان کا مقام پڑوسی ملک سے بہت بلند وبالا ہے۔ ہر میدان میں پاکستان اداکار کوہ ہمالیہ پر کھڑے نظر آتے ہیں، لکھاریوں میں خواجہ معین الدین، انور مقصود، کمال احمد رضوی وغیرہ نے اپنا لوہا ایسا منوایا ہے کہ ہندوستانی رائٹر ان کے آگے پانی بھرتے نظر آتے ہیں،
بات اگر مزاحیہ اداکاری میں لیجنڈکے مقام کی جائے تو پاکستان کی جانب سے منورظریف، معین اختر اور عمرشریف کے نام آتے ہیں جبکہ ہندوستان میں کوئی نام لیجنڈ کے مقام پر نظر نہیں آتا، اگرچہ کہ ہندوستان ان تمام اداکاروں کو بڑا مانتا ہے لیکن مرعوب صرف عمر شریف سے ہے، ہندوستای اداکار اگر کسی کے آگے زانو تلمذ ہوئے ہیں تو وہ ہیں لیجنڈ عمر شریف، یوں کہا جاسکتا ہے کہ برصغیر بلکہ جہاں جہاں اردو سمجھی جاتی ہے وہاں طنز و مزاح کے بلاشرکت غیرے بے تاج بادشاہ عمر شریف ہیں،
عمر شریف گذشتہ ہفتے جرمنی میں وفات پا گئے ہیں۔ ان کی عمر 61 برس تھی اور وہ عارض قلب سمیت کئی بیماریوں میں مبتلا تھے۔عمر شریف کو علاج کی غرض سے 28 ستمبر کو پاکستان سے براستہ جرمنی امریکہ منتقل کیا جا رہا تھا تاہم جرمنی میں عارضی قیام کے دوران ہی ان کی طبعیت مزید بگڑی اور وہ جانبر نہ ہو سکے۔
عمر شریف نے 70 سے زائد ڈراموں کے سکرپٹ لکھے جن کے مصنف، ہدایتکار اور اداکار وہ خود تھے اور ان ڈراموں نے مقبولیت کے ریکارڈ قائم کیے
عمر شریف کا اصل نام محمد عمر تھا وہ کراچی میں 19 اپریل 1960 کو رام سوامی کے علاقے اسلام پورہ میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کی عمر چار سال تھی کہ والد کا انتقال ہو گیا اور ان کے خاندان کو شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے عمر شریف کو بچپن سے مختلف نوعیت کے چھوٹے موٹے کام کرنے پڑے لیکن کوئی کام انھوں نے دلجمعی سے نہیں کیا، پڑھائی بھی انھوں نے نہیں کی بلکہ وہ اسکول سے بھاگ جایا کرتے تھے،
رام سوامی کے علاقے اسلام پورہ میں عمر شریف نے 22سال گذارے، بعدازاں وہ لیاقت آباد منتقل ہوگئے، وہ بچپن سے ہی بذلہ سنج واقع ہوئے تھے، جب ہوش سنبھالا تو اپنے محلے کے مختلف کرداروں سمیت مشہور فلمی اداکاروں اور سیاست دانوں کی بول چال اور انداز کی نقالی کرنے لگے۔ ان کے ایک دوست شوکت کے مطابق عمر شریف نے اسکول کے ایک پروگرام میں سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے ایسی ہوبہو نقل اتاری کہ تھانے میں بیٹھے پولیس والوں کے دوڑیں لگ گئیں کہ علاقے میں ذوالفقار علی بھٹو تقریر کررہے ہیں،
یہی وجہ تھی کہ عمر شریف کی بذلہ سنجی، جملے بازی اور لطیفہ گوئی پورے علاقے میں مشہور ہو گئی تھی۔ سکول کے بعد عمر شریف جب گلی محلے میں نکلتے تو ان کے ارد گرد لڑکوں کا ہجوم ہوتا اور وہ انھیں ہنسانے میں مصروف ہو جاتے۔عمر شریف صرف 14 سال کی عمر میں تھیٹر سے بطور اداکار وابستہ ہوئے۔ ان کے سٹیج اداکار بننے کا قصہ بھی بہت افسانوی ہے۔کراچی کے آدم جی ہال میں جاری سٹیج ڈرامے کے ایک گجراتی اداکار کو اپنے عزیزکی وفات پر ڈرامہ چھوڑ کر جانا پڑا تو شو سے دو گھنٹے قبل عمرشریف کو بلایا گیا اور میک اپ روم میں کاغذات کا پلندہ ہاتھ میں یہ کہہ کر تھما دیا گیا کہ تمہیں جوتشی بننا ہے۔
عمر شریف کو اس ڈرامے کے لیے تین بار انٹری دینا تھی۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے متعدد فنکار بتاتے ہیں کہ پہلی ہی انٹری پر ہی عمرشریف نے اپنی پرفارمنس سے حاضرین کے دل جیت لیے اور جب وہ سٹیج سے ہٹے تو دیر تک تالیاں بجتی رہیں۔ 14 سال کے عمر شریف کو اس ڈرامے میں بہترین کارکردگی دکھانے پر شو کے آخری دن پانچ ہزار روپے، 70 سی سی موٹرسائیکل اور پورے سال کا پٹرول انعام میں دیا گیا تھا۔
اور پھر انھوں نے اس میدان میں اداکاری کے علاوہ بطور مصنف اور ہدایتکار بھی اپنے فن کا لوہا منوایا۔ عمر شریف نے 70 سے زائد ڈراموں کے سکرپٹ لکھے جن کے مصنف، ہدایتکار اور اداکار وہ خود تھے اور ان ڈراموں نے مقبولیت کے ریکارڈ قائم کیے۔
’بہروپیا‘ وہ کھیل تھا جس میں عمر شریف کا ٹیلنٹ کھل کر سامنے آیا اور پھر ’بڈھا گھر پہ ہے‘ اور ’بکرا قسطوں پہ‘ نے انھیں پاکستان کے ساتھ ساتھ انڈیا میں بھی وہ مقبولیت عطا کی کہ عمر شریف برصغیر کے بے تاج بادشاہ بن گئے۔
ڈرامہ بکرا قسطوں پہ کی مقبولیت اس قدر تھی کہ عمر شریف نے اس کے پانچ پارٹ بنائے۔ عمر شریف نے پہلی بار سٹیج ڈرامے ریکارڈ کرنے کا رواج بھی ڈالا۔ ’یس سر عید، نو سر عید‘ عمر شریف کا پہلا ڈرامہ تھا جس کی ویڈیو ریکارڈنگ کی گئی تھی۔ سٹیج ڈراموں کی ویڈیو ریکارڈنگ نے انھیں برصغیر سمیت دنیا بھر میں اردو اور پنجابی بولنے والوں کا پسندیدہ کامیڈین بنا دیا تھا۔
90 کی دہائی میں عمر شریف کراچی سے لاہور منتقل بھی ہوئے جہاں انھوں نے اچھرہ میں شمع سنیما کو لاہور تھیٹر میں بدل دیا۔ مذکورہ تھیٹر میں عمر شریف نے کئی یادگار ڈارمے کیے۔
اسٹیج ڈراموں کے ساتھ ساتھ عمر شریف نے مسٹر420، مسٹر چارلی اور چاند بابو جیسی فلمیں بھی پروڈیوس کیں۔ مسٹر 420 کے لیے انھیں دو نیشنل اور چار نگار ایوارڈز بھی ملے جو پاکستان میں ایک ریکارڈ ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے جن فلموں میں کام کیا ان میں حساب، کندن، بہروپیا، پیدا گیر، خاندان اور لاٹ صاحب شامل ہیں۔
عمر شریف نے پاکستان میں نجی ٹی وی چینلز پر بھی شوز کیے اور ایسے ہی ایک شو ’عمر شریف ورسز عمر شریف‘ میں وہ 400 سے زیادہ بہروپوں میں نظر آئے جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔
عمر شریف نے تین شادیاں کی تھیں۔ ان کی پہلی بیوی ان کی پڑوسن تھیں، ان کا گھر میں آنا جانا تھا اور وہ ان کی والدہ کا خیال رکھتی تھیں اس لیے انھوں نے ان سے شادی کی۔ عمر شریف کی دوسری شادی ڈرامہ آرٹسٹ شکیلہ قریشی سے ہوئی اور زیادہ نہیں چل سکی جس کے بعد تیسری شادی انھوں نے سٹیج اداکارہ زرین غزل سے کی۔
ان کی تیسری بیوی زرین ہی ان کے ساتھ بیرون ملک علاج کے لیے گئی تھیں جبکہ دونوں میں پراپرٹی کے معاملے پر ایک کیس سندھ ہائی کورٹ میں زیر سماعت تھا جہاں عمر شریف نے درخواست کی تھی کہ ان کی یادداشت کمزور ہے اور ان کی اہلیہ نے ان سے گفٹ ڈیڈ پر دستخط کراو لیے تھے اور وہ 11 کروڑ روپے مالیت کا فلیٹ فروخت کرنا چاہتی تھیں تاہم اس فیصلے سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔

عمر شریف کی زندگی میں ایک بڑا صدمہ ان کی نوجوان بیٹی حرا شریف کی موت کا بھی تھا، جن کی غیر قانونی پیوندکاری کے دوران ہلاکت ہو گئی تھی، ان کے بیٹے نے ایف آئی اے کو ایک درخواست دی تھی کہ لاہور کے ایک ڈاکٹر نے ان سے 34 لاکھ رپے لیے تھے اس کے بعد کشمیر منتقل کیا گیا جہاں آپریشن کے بعد حرا کی حالت بگڑ گئی اور اس کا انتقال ہو گیا، وہ بیٹی کا ذکر کرتے رنجیدہ ہو جاتے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں