52

گرین لائن کی بقیہ 40 نئی جدید بسیں بھی کراچی پورٹ کی حدود میں پہنچ گئی ہیں

کراچی کے شہریوں کے لیے خوش خبری۔ گرین لائن کی بقیہ 40 نئی جدید بسیں بھی کراچی پورٹ کی حدود میں پہنچ گئی ہیں، گذشتہ ماہ پہلے ہی 40بسیں آچکی ہیں۔ ماہ دسمبر میں ٹوٹل 80بسیں سرجانی سے نمائش چورنگی چلیں گی، اور کراچی کے شہریوں کو پہلے ماس ٹرانزٹ سسٹم سے سفری سہولیات ملنی شروع ہوجائے گی، کرایہ بھی زیادہ نہیں۔ کم ازکم 15روپے اور زیادہ سے زیادہ 55روپے وصول کیا جائے گا۔
گرین لائن کی بسیں چین سے درآمد کی جارہی ہیں، 40 بسیں ماہ ستمبر میں آئیں، جنہیں کراچی پورٹ سے سرجانی ڈپو پہنچایا جاچکا ہے، وہاں ڈرائیورز و دیگر اسٹاف کو بسوں کے فنکشن سے متعلق آگاہ کیا جارہا ہے اور آپریٹ کرنے کی تربیت دی جارہی ہے، بقیہ 40بسیں بھی کراچی کے سمندر کی حدود میں داخل ہوچکی ہیں۔ کراچی پورٹ کی برتھ پر جیسے ہی جگہ خالی ہوگی۔چین سے آنے والا بحری جہاز برتھ پر لگے گا اور بسیں اتار لی جائیں گی، اور پھر ان کو بھی سرجانی ڈپو پہنچایا جائے گا۔چینی ماہرین کی نگرانی میں ان بسوں کا بھی ٹیسٹ ٹرائل ہوگا۔
تصیلات کے مطابق یہ منصوبہ وفاقی حکومت تعمیر کررہی ہے، گرین لائن بی آرٹی ایس منصوبہ 2016ء میں سابق وزیر اعظم نواز شریف نے شروع کیا اور اسے 2017ء میں مکمل کیا جانا تھا، سندھ حکومت اور قائداعظم مزار مینیجمنٹ بورڈ کے اعتراضات کی وجہ سے منصوبے کے ڈیزائین میں بار بار تبدیلیوں اور دیگر وجوہ کی بناء پر یہ منصوبہ 5 سال تاخیر کا شکار رہا تاہم اب عمران خان کے دور اقتدار میں اس کا 17کلومیٹر کا ٹریک مکمل کیا جاچکا ہے، گرین لائن بس منصوبہ سرجانی عبداللہ موڑ سے جامعہ کلاتھ 24کلومیٹر دو فیز میں تعمیر کیا جارہا ہے، فیز ون سرجانی عبداللہ موڑ سے نمائش چورنگی تک طویل ہے، اس فیز میں گرومندر تک سول ورک مکمل ہوچکا ہے، سرجانی ٹاؤن پر واقع بس ٹرمینل کا ترقیاتی کام بھی مکمل کرلیا گیا ہے جبکہ الیکٹریکل اور مکینیکل کے کام اور نمائش چورنگی انڈر پاس کا کام تکمیل کے آخری مراحل میں ہے، دوستو۔۔۔۔ Covid 19کی وجہ سے چین کی بندرگاہ پر کمرشل سرگرمیاں متاثر رہیں جس کی وجہ سے گرین لائن بسوں کی درآمدگی بھی دو ماہ تاخیر کا شکار رہی،لیکن انتظار کی گھڑیاں ختم ہوچکی ہیں، بسیں آچکی ہیں جو نئی اور ڈیزل ہائبرڈ ہونگی، کراچی کے شہری جو ٹوٹی پھوٹی بسوں اور غیرقانونی چنگ چیوں میں سفر کرنے پر مجبور تھے وہ کم ازکم ایک روٹ پرماس ٹرانزٹ سسٹم سے استفادہ حاصل کرسکیں گے، دوستو،،، گرین لائن کا فیزٹو تاج میڈیکل کمپلیکس سے میونسپل پارک(جامع کلاتھ) تک طویل ہے، اس فیز پر ترقیاتی کام جاری ہے لیکن چونکہ ایم اے جناح روڈ مصروف ترین سڑک ہے اس لیے یہاں ٹریفک کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے ترقیاتی کام سست روی سے کیا جارہاہے اس لیے یہ فیز اگلے سال تک مکمل کیا جائے گا۔ اس فیز کی تکمیل کے بعد بس آپریشن میں جامع کلاتھ تک وسعت دیدی جائے گی،
اہم ترین بات، گرین لائن بس ریپیڈ ٹرانزٹ کے کرایہ کے بارے میں ہے، کرایہ کے نرخ طے کرنے کا اختیار وفاقی حکومت کے پاس نہیں ہے بلکہ سندھ حکومت کے پاس ہے، تین سال قبل سندھ حکومت نے گرین لائن کا کرایہ مقررکردیا تھا، نوٹی فیکشن بھی جاری
کردیا تھا جس کے تحت کم سے کم کرایہ 15 روپے مقرر کیا گیا، ہر کلومیٹر پر پانچ روپے اضافہ کے ساتھ زیادہ سے زیادہ 55 روپے طے کیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں