101

گرین لائن نےکامیابی کے ریکارڈ توڑ دیئے، مسافروں کی لمبی قطاریں

وفاقی حکومت کے زیر انتظام پہلے ماس ٹرانزٹ سسٹم گرین لائن میں شہر یوں کا رش بڑھتا جارہا ہے، ورکنگ ڈے میں مصروف اوقات میں لمبی قطاریں لگ رہی ہیں جبکہ چھٹی والے دنوں میں بھی بے پنا رش دیکھنے میں آرہا ہے۔مسافروں کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کو ٹاور تک شٹل بس سروس شروع کرنی چاہیے اور اپنے کرایہ کا نظام بہتر کرنا چاہیے۔ اس طرح یہ سروس نہ صرف مزید کامیابی حاصل کریگی بلکہ مسافروں کو بھی سفر میں آسانی ہوگی۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے گذشتہ سال 25دسمبرکو کراچی میں گرین لائن کا فیز ون مکمل کرکے اسے سرجانی ٹاؤن سے نمائش چورنگی تک آپریشنل کردیا، آغاز میں اسے صبح آٹھ بجے سے دوپہر 12بجے تک چلایا گیا، شروع میں مختصر ٹائمنگ کی وجہ سے مسافروں کی تعداد زیادہ نہیں تھی، 10جنوری سے گرین لائن کی سروس صبح سات بجے سے رات دس بجے تک چلنی شروع ہوگئی۔ 10جنوری کے بعد مسافروں کارش بتدریج بڑھتا گیا۔
گرین لائن بس سروس کے سینئر منیجر عبدالعزیزکا کہنا ہے کہ ورکنگ ڈے میں مصروف اوقات صبح آٹھ بجے تا صبح دس بجے اور شام 5بجے تا رات 8بجے کے دوران مسافروں کی قطاریں لگ رہی ہیں، مسافر گرین لائن بس عملے کے ساتھ تعاون کررہے ہیں، خواتین اور مرد حضرات کی الگ الگ منظم طریقے سے لائنیں لگتی ہیں، اب تک ورکنگ ڈے میں مسافروں کی تعداد 30ہزار سے 40ہزار ہے جبکہ چھٹی والے دن یہ تعداد مزید بڑھ کر 50ہزار تک شمار کی گئی ہے، انھوں نے کہا کہ چھٹی والے دن شہری اپنی فیملی کے ساتھ دوردراز علاقوں سے آرہے ہیں اور گرین لائن میں سفر کرکے انجوائے کررہے ہیں جو اس سروس کی کامیابی کی علامت ہے۔انھوں نے کہاکہ بس میں بیٹھنے کے لیے 35سیٹوں اور کھڑے ہوکر سفر کرنے کے لیے115مسافروں کی گنجائش ہے، مجموعی طور پر بیک وقت 150مسافر کرسکتے ہیں۔
سروے کے مطابق مصروف اوقات میں مسافر لمبی قطاریں لگا کر گرین بسوں میں سفر کرنا پسند کررہے ہیں، شہری پرانی کھٹارا

پبلک ٹرانسپورٹ اور نجی موٹر بائیک سروس کو ترک کرکے اس میں سفر کررہے ہیں۔نمائش بس اسٹاپ پر قطار میں کھڑے ایک مسافر محمد یامین نے بتایا کہ وہ ٹاور سے پبلک ٹرانسپورٹ خان کوچ میں بیٹھ کر نمائش چورنگی پر آئے ہیں اور اب نمائش چورنگی سے گرین لائن میں بیٹھ کر نارتھ کراچی جائیں گے، اس سوال پر کہ خان کوچ بھی نارتھ کراچی جاتی ہے تو وہ اس سے اتر کر گرین لائن میں کیوں بیٹھ گئے، تو محمد یامین نے کہا کہ خان کوچ پرانی بس ہے، گنجائش سے زیادہ مسافروں کو سوار کیا جاتا ہے بلکہ مصروف اوقات میں تو بسوں کی چھتوں پر بیٹھ کر سفر کرنا پڑتا ہے، جگہ جگہ رکتی ہوئی جاتی ہے، کرایہ بھی 60روپے لیا جاتا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں گرین لائن بس سستی، آرام دے اور تیزرفتار سروس ہے، کرایہ 55روپے وصول کیاجارہا ہے جو دیگر ٹرانسپورٹ سے کم ہے، انھوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ٹاور سے نمائش چورنگی تک شٹل بس سروس شروع کی جائے کیونکہ مسافر ٹاور سے نمائش چورنگی آتے ہیں تو دیگر پبلک ٹرانسپورٹ کے کنڈیکٹر ان سے 25روپے وصول کررہے ہیں جو مسافروں کو مہنگا پڑ رہا ہے، اگروفاقی حکومت ٹاور سے نمائش چورنگی کم سے کم کرایہ 10روپے پر بس شٹل سروس شروع کردے تو مسافروں کے لیے نہایت بہتر ہوجائے گا، ایک دوسرے مسافر حاجی محمد علی جو گرین لائن
بس میں کھڑے ہوکر سفر کررتھے، انھوں نے کہاکہ ان کی اپنی گاڑی ہے، آج وہ اسے ایک جگہ پارک کرکے گرین لائن بس سروس کو ٹیسٹ کرنے کے لیے سوار ہوئے ہیں،انھوں نے کہاکہ گرین لائن میں سفرکرنے کا تجربہ اچھا رہا، اچھی مینجمنٹ ہے، شہریوں کو چاہیے کہ اس سروس کی حفاظت کریں اور حکومت کو بھی چاہیے کہ مستقل بنیادوں پر یہ اچھی مینجمنٹ قائم رکھے، کیونکہ ماضی میں حکومت کے زیر نگرائی کراچی سرکلر ریلوے، کراچی ٹرانسپورٹ کارپوریشن، اربن ٹرانسپورٹ اسکیم وغیرہ متعارف کرائی گئیں، اپنے آغاز میں اچھی مینجمنٹ اور سخت مانیٹرنگ کی وجہ سے یہ تمام سروسز نہ صرف کامیاب رہیں بلکہ کئی عرصے تک مسافروں کو بہتر سفری سہولیات دیتی رہیں لیکن بعدازاں حکومتی عدم توجہی کی وجہ یہ تمام سروس ناکام ہوکر بند ہوگئیں۔
سروے کے مطابق گرین لائن بس سروس کے 22اسٹیشن ہیں ورکنگ ڈے میں کے مصروف اوقات میں ان اسٹیشنوں پر لمبی قطاریں لگ رہی ہیں اور لوگ ان قطارروں میں آدھا گھنٹا انتظار کرکے بسوں میں انٹر ہوتے ہیں۔ ٹوٹل 80بسیں اس کوریڈر پر چل رہی ہیں۔ بس ٹرمینل سرجانی اور آخری اسٹیشن نمائش انڈر پاس پر بسوں کی آمد میں کسی قسم کی تاخیر نہیں ہوتی، لیکن لمبی قطاروں کی وجہ سے مسافروں کو بیٹھنے میں کچھ وقت لگتا ہے۔ جب بسیں اندر سے بھرجاتی ہیں پھر فورآ ہی دوسری بس آجاتی ہےِ اسٹینڈ بائی میں کئی بسیں پہلے ہی کھڑی رہتی ہیں، دیگر اسٹیشنوں پر 2سے 5منٹ کے وقفے سے بسیں آتی ہیں۔ مختلف اسٹیشنوں پر کچھ لفٹس اورایکسکلیٹر خراب تھے اور بند پڑے تھے۔ مسافر پیڈسٹرین برج پر پیدل چل کرسیڑھیاں عبور کرکے سفر کرنے پر مجبور تھے، مین نمائش انڈر پاس پر بھی دونوں طرف کے ایکسکلیٹر خراب پڑے تھے۔ اس موقع پر مسافروں کا کہنا ہے کہ گرین لائن بعض امور میں بہتر سروس دے رہی ہے لیکن چند امور میں معاملات خراب ہیں، نئی سروس ہے، ابھی شروع ہوئے ایک ماہ بھی نہیں ہوا لیکن ابھی سے لفٹس اور ایکسکلیٹر خراب ہونا شروع ہوگئے ہیں، ایک بزرگ مسافر محمد عباس نے کہا کہ گرین لائن کا کرایہ کم سے کم 15روپے اور زیادہ سے زیادہ 55روپے ہے، ہر اسٹیشن پر 5روپے کے اضافہ کے ساتھ کرایہ بڑھ جاتا ہے، کرایہ جات کا نرخ نامہ حکومت کا منظورکردہ ہے اور مسافروں کے لیے قابل قبول ہے لیکن شکایت یہ ہے کہ اس کرایہ نامے پر صرف کارڈ سسٹم پر عملدرآمد کیاجارہا ہے جبکہ پیپر ٹکٹ پر یکساں کرایہ 55روپے وصول کیاجارہا ہے، انھوں نے کہاکہ کرایہ کی مد میں گرین لائن مینجمنٹ دوطریقے سے کرایہ وصول کررہی ہے، پیپر ٹکٹ اور کارڈ سسٹم، کارڈ 100روپے کا خریدنا پڑتا ہے جس میں بیلنس لوڈ کرانا پڑتا ہے، پیپر ٹکٹ پر یکساں 55روپے مقرر کیا گیا ہے، مسافر ایک بس اسٹیشن کا سفر کرے یا پورے 21کلو میٹر کا سفر کرے اسے پورا کرایہ 55روپے دینا پڑتا ہے، البتہ کارڈ سسٹم پر حکومت کا منظورکردہ کرایہ 15، 20، 25اور زیادہ سے زیادہ 55روپے وصول کیاجارہا ہے، محمد عباس نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ جو سہولت کارڈ پر رکھی گئی ہے وہ پیپرٹکٹ پر بھی رکھی جائے۔
گرین لائن کے سینئر منیجرعبدالعزیز نے کہا کہ گرین لائن بس سروس جدید ٹیکنالوجی انٹیلیجنس ٹرانسپورٹ سسٹم(آئی ٹی ایس)کے تحت کام کررہی ہے، اس میں کرایہ کے اسٹیج کارڈ سسٹم پر لاگو کیے جاسکتے ہیں، پیپر ٹکٹ پر نہیں کیے جاسکتے، پیپر ٹکٹ پر چیٹنگ کے چانس ہوتے ہیں، اگر پیپر پر کرایئے کے اسٹیج لاگو کیے جائیں تو مسافروں کی مانیٹرنگ ممکن نہیں اور ایک ٹکٹ پر مسافر بلاروک ٹوک اس اسٹیشن تک کا
سفر کرسکتے ہیں جہاں کا کرایہ اس نے ادا نہیں کیا ہو، جس سے گرین لائن کو مالی خسارہ ہوگا، کارڈ سسٹم پر ایسا نہیں ہوگا، پلاسٹک کارڈ گرین
لائن کے آئی ٹی ایس سے منسلک ہوتا ہے، انٹری اور اخراج کے گیٹ پر اسے مشین سے گذارا جاتا ہے تو ساری تفصیلات کمپیوٹرائزڈ سسٹم پر آجاتی ہے اور اس میں کسی قسم کا غلط استعمال نہیں ہوسکتا۔عبدالعزیز نے کہا کہ قانونی طور پر وفاقی حکومت شٹل بس سروس شروع نہیں کرسکتی کیونکہ سڑکوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کی کسٹوڈین سندھ حکومت ہے، اگر وہ کرانا چاہے تو کرالے، گرین لائن بس سروس وفاقی حکومت کا منصوبہ ہے، منصوبہ کا فیز ون سرجانی تا نمائش تعمیراتی کام مکمل کرکے یہاں بس سروس چلائی جارہی ہے، فیز ٹو تاج میڈیکل کمپلیکس تا جامع کلاتھ زیر تعمیر ہے اور اسے ایک سال میں مکمل کرلیا جائے گا، فیز ٹو کی تکمیل کے بعد مسافروں کی سفری سہولت میں مزید اضافہ ہوجائے گا، عبدالعزیز نے کہا کہ وفاقی حکومت بس آپریشن کی ذمہ داری تین سال تک نبھائی گی اس کے بعد یہ انتظام بسوں سمیت سندھ حکومت کے حوالے کردیا جائے گا، کیونکہ اصل کسٹوڈین سندھ حکومت ہے جو مستقل بنیادوں پر یہاں بسیں چلائے گی، سینئر منیجرعبدالعزیز نے کہا کہ کچھ اسٹیشنوں کی لفٹس اور ایکسکلیٹر خراب ہوئے ہیں، انھیں جلد ہی مرمت کے درست کردیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں