42

کراچی کی بیشتر لائبریریاں خستہ حال اور بنیادی سہولیات سے محروم

شہر کراچی کے بلدیاتی حلقوں میں مجموعی طور پر58 سرکاری لائبریریاں ہیں جن میں بلدیہ عظمیٰ کراچی کی زیر نگرانی 3 لائبریاں قائم ہیں، بلدیہ وسطی کے پاس 11، بلدیہ ملیر 11، بلدیہ کورنگی12، بلدیہ شرقی 5، بلدیہ جنوبی میں 8لائبریاں، بلدیہ غربی ایک لائبریری اور ڈسٹرکٹ کونسل کراچی میں تین لائبریری میں 3لائبریری موجود ہیں جبکہ بلدیہ کیماڑی میں کوئی لائبریری موجود نہیں ہے، سندھ حکومت کی زیر نگرانی 4لائبریریاں کام کرری ہیں،
بلدیاتی اداروں کی زیر نگرانی قائم لائبریریاں 54ہیں جن میں صرف تین لائبریریوں میں ائیرکنڈیشنڈ لگا ہے، کچھ لائبریریاں بہتر حالت میں ہیں جہاں سالانہ نئی کتابوں کا اضافہ ہورہا ہے، بلدیاتی اداروں کی لائبریریاں پیر تا جمعہ کھلتی ہیں، ہفتہ و اتوار بند رہتی ہیں،
سندھ حکومت کی چاروں لائبریریاں اسٹیٹ آف آرٹ اور ائیرکنڈیشنڈ ہیں جن میں دو لائبریریاں پیر تا ہفتہ کھلی رہتی ہیں، سروے کے مطابق مجموعی طور پر لائبریریوں کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے، انٹرنیٹ اور موبائل نے عوام بالخصوص نوجوانوں سے کتا ب کا رشتہ تو توڑا ہے ہی لیکن سرکاری اعلیٰ حکام نے جس طرح اس اہم شعبے کو نظر انداز کیا ہے اس کی مثال شاید دنیا میں ڈھونڈے سے نہیں ملے گی، اس سروے میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ سندھ حکومت کی چار لائبریریوں سمیت جن بلدیاتی اداروں کی لائبریریوں میں نئی و جدید کتابوں کے ساتھ ساتھ ائیرکنڈیشنڈ یا دیگر بنیادی سہولیات میسر ہیں وہاں شہریوں بالخصوص نوجوان بڑی تعداد میں آتے ہیں، جن لائبریریوں میں یہ سہولیات میسر نہیں ہیں وہاں بھی سناٹا نہیں ہے، اکا دکا ہی سہی لیکن کتابوں سے محبت کرنے والے لوگ آتے ضرور ہیں جن کی وجہ سے یہ لائبریریاں آباد ہیں، سروے کے مطابق بیشتر لائبریریاں خستہ حالی کا شکار ہیں، قدیم و نایاب کتابوں کو دیمک چاٹ رہی ہے،، چھتوں اور دیواروں کا پلستر اکھڑ رہاہے، کہیں دروازے موجود ہیں تو کھڑکیاں موجود نہیں، کئی مقامات پر واش رومز کی حالت بھی خراب ہے اور بعض مقامات پر واش رومز بند ہیں، محض چند لائبریریوں میں خواتین کے لیے علیحیدہ سے واش روم کا انتظام ہے،
سندھ حکومت: کراچی میں سندھ حکومت کے زیر انتظام 4لائبریرز ہیں جو اسٹیٹ آف آرٹ اور ائیرکنڈیشنڈ ہیں جہاں بزرگ وخواتین بالخصوص طلباء وطالبات جوق درجوق آتے ہیں اور لائبریریز میں موجود کتابوں اوراخبارات سے استفادہ حاصل کرتے ہیں، خواتین اور مردوں کے لیے علیحیدہ واش رومز ہیں، ان لائبریریوں میں لیاقت میموریل لائبریری سندھ بھر میں سب سے بڑی لائبریری ہے، اس لائبریری میں 2لاکھ سے زائد کتابیں موجود ہیں، فنون لطیفہ، طب، سائنس، تاریخ، انجیئنرنگ ودیگر موضوعات پر کتابیں نہ صرف موجود ہیں بلکہ ہرسال اس میں اضافہ ہوتا ہے، سینکڑوں افراد یہاں روزانہ آتے ہیں اور پرسکون ماحول میں اپنی اسٹڈی کرتے ہیں، یہ لائبریری پیر تا ہفتہ صبح 9بجے تا رات 9بجے تک کھلی رہتی ہے، سندھ حکومت کی زیر نگرانی نیوکراچی میں بھی ایک لائبریری قائم ہے جو جناح ماڈل پبلک لائبریری کے نام سے مشہور ہے، اس لائبریری میں 15ہزار کتابیں ہیں، پیر تاجمعہ صبح 9بجے سے شام پانچ بجے تک کھلی رہتی ہے، اورنگی ٹاؤن میں ماڈل پبلک لائبریری میں 15ہزار کتابیں ہیں، پیر تاجمعہ صبح 9بجے تا شام پانچ بجے تک کھلی رہتی ہے، سچل گوٹھ میں قائم شہید بے نظیربھٹو لائبریری میں 15ہزار کتابیں ہیں، پیر تاجمعہ صبح9بجے تا رات 9بجے تک کھلی رہتی ہے،
ڈائریکٹر جنرل پبلک لائبریریزسندھ نزاکت علی فاضلانی کے مطابق کراچی سمیت سندھ کے چار شہروں کی لائبریوں کو دنیا بھرمیں قائم ای لائبریریز سے منسلک کیا گیا ہے، لیاقت نیشنل لائبریری میں ایک ہال لنکولن کارنرز LiNCOLN کے نام سے قائم کیا گیا ہے جہاں طلباء وطالبات کمپپیوٹر اور انٹرنیٹ کے ذریعے ای لائبریریز سے کتابیں ڈاؤن لوڈ کرکے استفادہ حاصل کرتے ہیں، اس ضمن میں سندھ حکومت باقاعدہ اس سروس کے چارجز ادا کرتی ہے،
بلدیہ عظمیٰ کراچی: بلدیہ عظمیٰ کراچی کی نگرانی میں 3لائبریریاں ہیں جن کے اوقات صبح 9سے شام پانچ بجے تک ہے،فرئیرہال لائبریری 1865ء میں قائم ہوئی، اگرچہ کہ لائبریری کی حالت انتہائی خراب ہے لیکن اخبارات باقاعدگی سے آتے ہیں اور 1958ء سے 2010تک اردو اور انگلش کے دو موقر اخبارات کا ریکارڈ بھی موجود ہے،یہاں 50ہزارسے زائد کتابیں موجود ہیں جن میں کئی نسخے نایاب ہیں،افسوسناک بات یہ ہے کہ نایاب و قدیم کتابوں کے نسخوں میں 10ہزار کو دیمک چاٹ رہی ہے، ان متاثرہ کتب کو پہلی منزل پر رکھا ہوا ہے اور اس حصے کو عوام کے لیے بند کررکھا ہے، بقیہ 40ہزار کتابوں کی حفاظت کے لیے بھی کوئی انتظام نہیں کیا گیا ہے، سالوں سے جراثیم کش اسپرے نہیں ہوا ہے گراؤنڈ فلور پر تین ہال ہیں جہاں مردوں اور خواتین کے بیٹھنے کے لیے علیحدہ انتظام ہے، لائبریری کا واش روم کئی سالوں سے بند پڑا ہے، سابق مئیر وسیم اختر کے دور میں یہ لائبریری گارجین بورڈ کے حوالے کی گئی جنہوں نے لائبریری کو ڈیجیٹل کرنے اور عمارت کی تزئین وآرانش کرنے کے لیے تین سال لائبریری کو بند رکھا لیکن اس دوران کوئی کام نہ ہوسکا، سابق ایڈمنسٹریٹر افتخار شالوانی نے یہ معاہدہ منسوخ کرکے دوبارہ لائبریری کو دوبارہ کھلوادیا، کئی سالوں سے اہم کتابیں خریدی نہیں جاسکی ہیں، البتہ پبلشر اوررائٹرز کو نوازنے کے لیے غیر اہم کتابوں کی سینکڑوں جلدیں خریدلی جاتی ہیں، فیڈرل بی ایریا میں واقع المرکز اسلامی میں قائم سٹی لائبریری کی عمارت بہتر حال میں ہے، 5ہزار کتابیں ہیں، البتہ کئی سالوں سے نئی کتابیں نہیں خریدی جاسکی ہیں، بجلی کی فراہمی کا متبادل نظام یوپی ایس اور جنریٹر نہیں ہے اورنہ ہی پینے کے پانی کے لیے ڈسپنسر موجود ہے البتہ خواتین اورجینٹس کے لیے علحیدہ واش رومز میسر ہیں۔ سی ایس ایس کی تیاری کے لیے طلباو طالبات وزٹ کرتے ہیں، اخبارات باقاعدگی سے آتے ہیں، یہ لائبریری صبح 9سے شام 7بجے تک کھلی رہتی ہے، دین محمد وفائی روڈ میں قائم عطیہ فیضی رحمین آرٹ گیلری میں آرٹ سے متعلق ہزاروں قدیم اور نایاب کتابیں موجود ہیں تاہم سالوں سے کوئی نئی کتاب نہیں خریدی گئی،
ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشن ایسٹ: بلدیہ شرقی میں قائم 5 لائبریریاں بہتر کنڈیشن میں ہیں اور بنیادی سہولیات بھی میسر ہیں، تماملائبریریوں میں اخبارات آرہے ہیں اور ہر سال ڈیمانڈ کے مطابق بئی کتابیں بھی خریدی جاتی ہیں، ٹائمنگ صبح 9سے شام پانچ بجے تک ہے، حسن اسکوائر کے عقب میں گلشن اقبال لائبریری میں 7ہزار اردو انگلش میں کتابیں موجود ہیں، سی ایس ایس کے طلباء اور طالبات یہاں آتے ہیں، گرومند ر سے قریب علامہ اقبال لائبریری میں بھی 7ہزار کتابیں موجود ہیں، طلباء وطالبات اور دیگر وزیٹرز بڑی تعداد میں یہاں آتے ہیں، خالدبن ولید روڈ پر واقع خواجہ شفیع دہلوی لائبریری کا ایک ہال زیر تعمیر ہے، یہاں بھی وافر کتابیں موجود ہیں، نشتر پارک میں واقع لائبریری میں 4ہزار کتابیں ہیں، عمارت بہتر حالت میں ہے البتہ ٹوائلٹ خستہ حال ہے، اختر کالونی لائبریری میں وافر کتابیں موجود ہیں، طلباء وطالبات یہاں سی ایس ایس کی تیاری کے لیے آتے ہیں،
ٖڈی ایم سی سینٹرل: بلدیہ وسطی میں 11لائبریریاں موجود ہیں۔بیشتر لائبریریاں خستہ حالی کا شکار ہیں، واجبات کی عدم ادائیگی کی وجہ سے کسی لائبریری میں اخبار نہیں آرہے ہیں اور کئی سالوں سے نئی کتابوں کا اضافہ نہیں ہوا ہے، سیاسی بھرتیوں کی وجہ سے کسی لائبریری میں شام کی شفٹ نہیں ہے اور تمام لائبریریاں شام چھ بجے بند ہوجاتی ہے، نارتھ ناظم آباد میں فائیو اسٹار چورنگی پر واقع تیموریہ، یہ ڈی ایم سی سینٹرل کی مرکزی ل لائبریری ہے اور بہتر کنڈیشن میں ہے، کئی ہزار کتابیں موجود ہیں، اسٹاف کی کمی کی وجہ سے تیسری شفٹ نہیں لگتی اور لائبریری صبح 9بجے سے شام 5بجے تک کھلی رہتی ہے، لیاقت آباد میں واقع حسرت موہا نی لا ئبریری تباہ حال ہے، دیواریں اور چھتیں اکھڑرہی ہیں،، بہت کم تعداد میں کتابیں موجود ہیں، لیکن رہائشی وہاں اکثر چکر لگاتے ہیں، گلبرگ میں نصیر آباد لائبریری بہتر کنڈیشن میں ہے، وافر کتابیں ہیں، نیو کراچی میں واقع حکیم احسن لائبریری کی عمارت قدرے بہتر حالت میں ہے، کتابیں بھی موجود ہے لیکن پانی کی قلت اور صفائی کاانتظام بہتر نہیں ہے، نیو کراچی میں واقع عمر خان لائبریری میں کتابوں کی شدید کمی ہے، صرف ایک شفٹ صبح میں کھلتی ہے، عمارت خستہ حالی کا شکار ہے، پانی کی قلت ہے، فرنیچر کی بھی کمی ہے، نصیر آباد میں مرکز کھیل و ثقافت میں قائم کرنل محمد خان لائبریری کتابوں کی شدید کمی ہے، فرنٹ کا دروازہ دیمک زدہ ہوکر گرگیا ہے، پانی کی بھی کمی ہے، لیاقت آباد میں واقع صہبا اختر لائبریری میں کتابوں کی شدید کمی ہے، صفائی کا انتظام نہیں، پانی کی قلت ہے، واش روم کا دروازہ ٹوٹ گیا ہے، شاہراہ پاکستان پر کے ایم سی سپرمارکیٹ کے سیکنڈ فلور میں واقع پروفیسر کرار حسین لائبریری کی عمارت کافی بڑی ہے لیکن بہت ابتر حالت میں ہے، کتابوں کی شدید کمی ہے، پانی کی قلت ہے، ناظم آباد چاؤلہ مارکیٹ میں قائم علامہ شبیر احمد عثمانی لائبیریری کی عمارت بہتر حالت میں ہے لیکن کتابوں کی شدید کمی ہے، ناظم آباد میں قائم جگرمرادآبادی لائبریری میں کتابوں کی شدید کمی ہے، پانی کی قلت ہے۔
ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشن کیماڑی: بلدیہ کیماڑی میں کوئی لائبریری موجود نہیں ہے، ترجمان بلدیہ کیماڑی کے مطابق اولڈ گولیمار میں 1995ء میں بلدیہ کی ایک بڑی عمارت میں لائبریری قائم کی گئی تھی جہاں کتابوں کا بڑا ذخیرہ تھا، اخبارات بھی باقاعدگی سے آتے تھے، علاقہ مکین بالخصوص نوجوان لائبریری آتے اور کتابوں و اخبارات سے استفادہ حاصل کرتے تھے، 2001ء میں عمارت کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا، ایک حصہ میں شہری حکومت کراچی کا سائیٹ ٹاؤن آفس قائم کیا گیا جبکہ دوسرے حصے میں لائبریری قائم کردی گئی، 2007ء میں نامعلوم افراد نے سائیٹ ٹاؤن آفس پر حملہ کرکے عمارت کو نذرآتش کردیا جس میں سائیٹ ٹاؤن کا ریکارڈ اور لائبریری کی تمام کتابیں جل کر خاکستر ہوگئیں۔؎
ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشن ویسٹ: بلدیہ غربی کے علاقے اورنگی ساڑھے گیارہ میں صرف ایک لائبریری قائم ہے جسے ایک فلاحی ادارے کو دیدیا گیا ہے، اس لائبریری میں صرف ایک ہزار کتابیں ہیں جبکہ کوئی اخبار نہیں آتا ہے، فلاحی ادارے نے وہاں کمپیوٹر ٹریننگ کا ایک انسٹی ٹیوٹ قائم کردیا ہے۔
ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشن ساؤتھ: بلدیہ جنوبی میں آٹھ لائبریریاں قائم ہیں اور دو اسٹریٹ لائبریریاں بھی موجود ہیں، لیاری زون میں 4لائبریریاں ہیں جہاں لوڈشیڈنگ زیادہ ہوتی ہے، کسی لائبریری میں بجلی کا مبتادل نظام نہ ہونے کی وجہ سے ریڈرز کو سخت پریشانی کا سامنا رہتا ہے، نئی کتابیں سالوں سے نہیں خریدی گئیں، سب سے بڑی لائبریری لیاری ٹیکسٹ بک لائبریری چاکیواڑہ میں واقع ہے، تقریبا 11ہزار کتابیں ہیں، اخبارات آتے ہیں، کھڑکیاں ٹوٹ چکی ہیں، دروزاے اور بجلی کی وائرنگ مرمت طلب ہے، بہار کالونی میں واقع اقبال شہید لائبریری میں 4ہزار کتابیں ہیں اور اخبارات بھی آرہے ہیں، عمارت خستہ حالی کا شکار ہے واش روم انتہائی بوسیدہ ہے لیکن فنکشنل ہے، یہ لائبریری عمارت کی خستہ حالی کی وجہ سے ماضی میں کئی عرصے بند رہی لیکن مکینوں کے اصرار پر کھولی گئی ہے، لیاری جنرل اسپتال کے قریب واقع ایس محمد دین لائبریری میں 4ہزار کتابیں موجود ہیں اور اخبارات بھی آرہے ہیں، عمارت خستہ حالی کا شکار ہے اور دروازے و کھڑکیاں بھی مرمت طلب ہیں، سنگولین پر واقع سیٹلائیٹ لائبریری ہے جو امن و اما ن کی خرابی کی وجہ سے 2013ء تا 2016ء بند رہی اس دوران تمام کتابیں چوری ہوگئیں، تین سال کی بندش کے بعد اسے دوبارہ عوام کے لیے کھول دیا گیا، اس وقت یہاں کتابیں موجود نہیں ہیں لیکن اخبارات آرہے ہیں، لیاری زون میں ایک اسٹریٹ لائبریری ہے جس کی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے اور کھلے آسمان میں رہنے کے باعث کتابوں کی حالت بوسیدہ ہوگئی ہے۔ صدر زون میں بھی چار لائبریریاں ہیں، مرکزی لائبریری فرئیرمارکیٹ میں قائم ہے، لائبریری کمرشل علاقے میں قائم ہے لیکن عمارت پر لائبریری کا بورڈ آویزاں نہیں ہے جس کے باعث بیشتر شہری اس کے وجود سے لاعلم ہیں، عمارت بہتر حالت میں ہے، 10ہزار کتابیں ہیں، اخبارات آرہے ہیں، کچھ لائٹس اور پنکھے خراب ہیں، ٹائمنگ صبح 9بجے سے شام 5بجے تک ہے، ہاشم گذدر لائبریری رنچھوڑ لائن میں واقع ہے، عمارت خستہ حالی کا شکار ہے، چھت کا پلستر جھڑ رہا ہے، دروازے کھڑکیاں، ٹیبل اور کرسیاں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، واش روم بند ہے، 25ہزار کتابیں ہیں لیکن اخبارات نہیں آرہے، اسٹاف کی کمی کی وجہ سے یہ لائبریری صبح 9سے دوپہر 2بجے تک کھلی رہتی ہے، صدر میں واقع جہانگیر پارک لائبریری ائیرکنڈیشنڈ ہے، دیگر سہولیات بھی میسر ہیں، اخبارات آرہے ہیں، نورانی ویلفئیر لائبریری رنچھوڑ لائن میں واقع ہے،10ہزار کتابیں ہیں اور اخبارات بھی آرہے ہیں، یہ لائبریری کا انتظام ایک فلاحی ادارے کے سپرد ہے جس کی وجہ سے بنیادی سہولیات میسر ہیں اور ٹائمنگ بھی صبح 9سے رات 12بجے تک ہے، میٹروپول ہوٹل سے متصل ایک اسٹریٹ لائبریری قائم ہے جہاں کتابیں بوسیدہ حالت میں ہیں۔
ڈسٹرکٹ کونسل کراچی: یہ ضلع دیہی علاقوں پر مشتمل ہے، یہاں تین لائبریریاں ہیں جہاں اخبارات باقاعدگی سے آتے ہیں، تینوں لائبریریوں کے اوقات صبح 9بجے سے رات 8بجے ہیں، شہید عبداللہ مراد لائبریری یوسی درسنہ چنو میں واقع ہے، جس عمارت میں یہ لائبریری قائم ہے وہاں آئی ٹی انسٹی ٹیوٹ بھی ہے، لائبریری ہال ائیرکنڈیشنڈ ہے اور 7ہزار مختلف موضوعات پر موجود ہیں، سی ایس ایس کے طلباء وطالبات بھی یہاں اسٹڈی کے لیے آتے ہیں، مرد و خواتین کے لیے علحیدہ واش رومز قائم ہیں، دیگر دولائبریریوں۔ مرتضی بلوچ لائبریری اور کونکر لائبریری میں بھی تقریبا سات ہزار کتابیں ہیں، دیگر بنیادی سہولیات بھی میسر ہیں لیکن ائیرکنڈیشنڈ نہیں ہے۔
ملیر میونسپل کارپوریشن:بلدیہ ملیر میں 11لائبریریاں قائم ہیں، بلدیہ ملیر میں تقریبا تمام لائبریریاں ابتر حالت میں ہیں، واجبات کی عدم ادائیگی کی وجہ سے کسی لائبریری میں اخبارات نہیں آرہے ہیں، یونین کونسل (یوسی)3میں قائم سردار عبدالرب نشترلائبریری میں کتابیں اور فرنیچر موجود ہے لیکن پانی و ٹوائلٹ کا انتظام نہیں ہے، واجبات کی عدم ادائیگی پر بجلی کی فراہم منقطع ہے، غالب لائبریری یوسی 4میں قائم ہے کتابیں موجود ہیں لیکن عمارت مخدوش ہے، پینے کا پانی میسر نہیں ہے، بابا رحمان لائبریری یوسی 8میں قائم ہے، عمارت مخدوش حالت میں ہے، شاہ لطیف لائبریری شرافی گوٹھ میں قائم ہے، یہ عمارت بھی مخدوش حالت میں ہے، ذوالفقار علی بھٹو لائبریری کی عمارت مخدوش ہے، کتابیں بھی محدود اور خستہ حال ہیں، محمد بن قاسم لائبریری یوسی ون میں نئی تعمیر کردہ عمارت میں قائم ہے، نئی کتابیں خریدی گئی ہیں، کرنل شیر علی خان لائبریری یوسی 8میں قائم ہے، علاقے کے جرائم پیشہ افراد کے آپس کے جھگڑوں کی وجہ یہ لائبریری 5سال سے غیر فعال ہے اور دروازے تک غائب ہیں، یوسی 9میں پیر الہی بخش لائبریری کی عمارت کافی عرصے سے زیر تعمیر ہے لیکن سست روی کی وجہ سے مکمل نہیں کی جاسکی ہے، زیر تعمیر عمارت خالی ہے اورکتابیں موجود نہیں ہیں، خوش حال خان خٹک لائبریری مانسہرہ کالونی میں قائم ہے، قدرے بہتر کنڈیشن میں ہے، کتابیں بھی ہیں، یوسی 5میں قائم برکات مدینہ لائبریری چار سال سے بند پڑی ہے،، ماضی میں اس کی عمارت ہیرونچیوں اورجرائم پیشہ افراد کی آماجگاہ تھی، عمارت تباہ حالی کا نمونہ ہے، ڈی ایم سی انتظامیہ نے عمارت کو بڑی مشکل سے اسے قبضہ گروپ سے واگزار کرایا ہے لیکن ابھی تک لائبریری بحال نہیں کی جاسکی ہے۔
ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشن کورنگی:بلدیہ کورنگی میں 12لائبریریاں ہیں جہاں تمام مقامات پر اخبارات آرہے ہیں، لوڈشیڈنگ کے مسائل ہیں، کسی لائبریری میں ماسوائے ایک لائبریری کے بجلی کا متبادل نظام موجود نہیں ہے، ایک لائبریری بھی ایرکنڈیشنڈ ہے، کورنگی زون میں تین لائبریریاں ہیں، مفکر اسلام لائبریری کی عمارت، واش روم اور فرنیچر خستہ حال ہیں، ڈھائی ہزار سے زائدکتابیں ہیں، پانی کی قلت ہے، علامہ اقبال لائبریری میں 2ہزار کتابیں ہیں، پانی ودیگر سہولیات میسر ہیں، الرحیم لائبریری ایک چھوٹی عمارت میں قائم ہے جس کی ابھی مرمت کی گئی ہیں، ڈیڑھ ہزار کتابیں ہیں اوردیگر سہولیات میسر ہیں، لانڈھی زون میں 7لائبریریاں قائم ہیں۔ مولانا محمد علی جوہر لائبریری کی عمارت خستہ حالی کا شکار ہے، 5ہزار کتابیں ہیں، ایک واش روم فنکشنل ہے اور ایک بند پڑا ہے، سرسید احمد خان لائبریری کی عمارت مناسب ہے اورڈھائی ہزار کتابیں ہیں، مولوی عبدالحق لائبریری کی عمارت بہتر ہے، دیگر سہولیات بھی ہیں، 5000ہزار کتابیں ہیں، فاطمہ جناح لائبریری کی عمارت خستہ حال ہے اور واش روم بند ہے2ہزار 700کتابیں ہیں، سینٹرل ماڈل لائبریری ائیرکنڈیشنڈ ہے اور بجلی کا متبادل نظام بھی موجود ہے، 24ہزار کتابیں ہیں، یہ مرکزی لائبریری 2017ء میں تعمیر کی گئی ہے تمام بنیادی سہولیات میسر ہیں، یہاں سی ایس ایس کی تیاری کے لیے بڑی تعداد میں طلباء وطالبات آتے ہیں، اقراء لائبریری کی عمارت اور فرنیچر خستہ حال ہے تاہم ڈھائی ہزار کتابیں موجود ہیں، ماڈل زون میں ایک لائبریری ہے، محمد علی جناح لائبریری کی عمارت بہتر ہے، دیگر سہولیات بھی موجود ہیں، ساڑھے تین ہزار کتابیں ہیں، شاہ فیصل زون میں ایک لائبریری ہے، لیاقت علی خان لائبریری کی عمارت مرمت طلب ہے، ڈھائی ہزار کتابیں ہیں۔
جامعہ کراچی کی پروفیسر نسرین اسلم شاہ کا کہنا ہے کہ حکومت اور والدین کی ذمہ داری ہے کہ نئی نسل کا کتاب سے رشتہ جوڑے میں اپنا کردار ادا کریں، موٹیویشنل پروگراموں اور لائبریریوں کے احیاء کے لیے لیکچرز کا انعقاد کریں، انھوں نے کہا کہ موجودہ لائبریریوں میں اگر بنیادی سہولیات فراہم کردی جائیں تو یہ لائبریریاں یقینا دوبارہ آباد ہوجائیں گی، کچی آبادیوں میں ترجیحی بنیادوں پر لائبریریاں تعمیر کی جائیں تاکہ وہاں کے نوجوانوں تک کتاب کی رسائی آسان ہوسکے، کتاب سے رشتہ ختم نہیں کیا جاسکتا، لیپ ٹاپ یا موبائل فون پر علم حاصل نہیں کیا جاسکتا، جو مزا کتاب پڑھ کر آتا ہے وہ ان گیجٹس کے ذریعے نہیں مل سکتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں