86

پیپلزپارٹی نے بلاآخر گھٹنے ٹیک دیئے ، بلدیاتی قانون میں ترمیم پر مذاکرات طے پانے کے بعد جماعت اسلامی کا دھرنا ختم

کراچی: حکمراں جماعت پیپلزپارٹی نے جماعت اسلامی کی جانب سے مسلسل ایک ماہ جاری دھرنے کے باعث
بلاآخر گھٹنے ٹیکنے پر دیئے ہیں اورسندھ بلدیاتی حکومت ترمیمی ایکٹ 2021 میں تبدیلیوں کرنے پر راضی ہوگئی ہے۔ دونوں جماعتوں کے درمیان میئر بلدیہ عظمیِ کراچی کو زیادہ سے زیادہ بااختیار بنانے کے فارمولے پر اتفاق ہوا ہے، بلدیاتی قوانین میں تبدیلیوں کے خوشگوار اثرات نہ صرف کراچی میں ہونگے بلکہ پورے سندھ میں ہونگے۔ قانون میں ترمیم کرتے ہوئے صحت، تعلیم، پانی کی فراہمی اور سیوریج کے نظام سمیت اہم انتظامی امور کا کنٹرول مقامی انتظامیہ کو واپس دیا جائے گا۔ اردو ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ پیش رفت تب سامنے آئی جب وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ دھرنے کے مقام پر پہنچے اور جماعت اسلامی کے رہنماؤں سے گفتگو کی اور دونوں فریقین کے درمیان ترمیم پر اتفاق کیا گیا، جس کے بعد امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمٰن نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا۔اس موقع پر وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ’صحت اور تعلیم کے وہ محکمے جو بلدیاتی اداروں بالخصوص بلدیہ عظمیِ کراچی سے لیے گئے تھے وہ انہیں واپس دیے جائیں گے‘۔انہوں نے کہا کہ میئر کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کراچی کا چیئرمین بھی ہوگا، صوبائی فنانس کمیشن بلدیاتی انتخابات کے ایک ماہ کے اندر قائم کردیا جائےگا، اسی طرح موٹر گاڑیوں کے ٹیکس میں مقامی انتظامیہ کو بھی حصہ دیا جائے گا۔صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ اب تک سندھ حکومت کے تحت کام کرنے والے سولڈ اینڈ ویسٹ منیجمنٹ بورڈ کو مقامی انتظامیہ کے حوالے کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ترمیم سے قبل جو تعلیمی ادارے مقامی انتظامیہ کے پاس تھے وہ بھی منتخب بلدیاتی اداروں کے حوالے کیے جائیں گے۔ اس موقع پر جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نےحکومت سندھ کے مطالبات ماننے کے بعد دھرنا ختم کرتے ہوئے یوم تشکر منانے کا اعلان کیا، فیس بک پر جماعت اسلامی کے پیچ پر جاری کی گئی ویڈیو میں مظاہرین سے خطاب میں حافظ نعیم الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ادارہ نورالحق میں مطالبات منظور ہونے کا جشن منایا جائے گا۔جماعت اسلامی کراچی کی جانب سے فیس بک پر جاری بیان کے مطابق بلدیاتی حکومت ترمیمی ایکٹ کے خلاف جماعت اسلامی کا دھرنا درج ذیل نکات پر ختم کیا گیا۔سندھ حکومت کی جانب سے صوبائی فنانس کمیشن قائم کیا جائے گا جو ایک ماہ کے اندر منتخب شہری حکومت کے حوالے کیا جائے گا، میئر ٹاؤن چیئرمین کمیشن کے اراکین ہوں گے۔سندھ حکومت تمام تعلیمی ادارے، ہسپتال بلدیہ عظمیٰ کراچی کو واپس کرے گی۔آکٹرائے اور موٹر وہیکل ٹیکس میں بلدیہ عظمیٰ کراچی کو بھی حصہ دیا جائے گا۔میئر کراچی چیئرمین واٹر بورڈ ہوں گے۔
بلدیہ عظمیٰ کراچی کو خود مختار بنانے کے لیے سندھ حکومت مالی معاونت کرے گی۔سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں میئر اور چیئرمینز کو اختیارات دیے جائیں گے۔سولڈ اینڈ ویسٹ منیجمنٹ بورڈ میئر کراچی کے ماتحت ہوگا۔کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دلانے میں سندھ حکومت بلدیہ عظمیٰ کراچی کلی مدد کرے گی۔واضح رہے 11 دسمبر کو اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود بھی سندھ اسمبلی میں بلدیاتی ترمیمی ایکٹ 2021منظور کرلیا گیا تھا جس کے بعد یکم جنوری سے جماعت اسلامی نے سندھ اسمبلی کے باہر دھرنا دے دیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں