159

نواب شاہ یونیورسٹی میں کراچی کی طالبات مکمل نظر انداز، سندھ سرکار نے اشتہار جاری کردیا

سندھ سرکار نے ایک بار پھر کراچی کے ساتھ تعصبات کی انتہا کردی ہے، جیالا حکومت نے جہاں کراچی کے شہریوں کو روزگار، پانی ٹرانسپورٹ اور دیگر شہری سہولیات سے محروم کررکھاہے، وہیں اب کراچی کی خواتین پر تعلیم کے دروازے بند کیے جارہے ہیں، تفصیلات کے مطابق سندھ میں خواتین کی صرف دو سرکاری جامعات ہیں لیکن این کے معیار بھی دو ہیں ۔
پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت نے دونوں سرکاری خواتین جامعات کی داخلہ پالیسی ایک دوسرے سے قطعی مختلف رکھی ہیں ، ایک جامعہ پیپلز میڈیکل یونیورسٹی آف ہیلتھ اینڈ سائنس برائے خواتین نوابشاہ ہے جس کی داخلہ پالیسی میں ساڑھے تین کروڑ کے شہر کراچی کی طالبات کے لیے میرٹ پر ایک نشست بھی مختص نہیں اور اس کے اشتہار میں کہا گیا ہے کہ کراچی کے سوا پورے صوبے کے تمام اضلاع کی طالبات داخلے کیلئے رجوع کرسکتی ہیں جبکہ دوسری خواتین کی جامعہ نصرت بھٹو ویمن یونیورسٹی سکھر ہے جس کی داخلہ پالیسی میں کراچی سمیت پورے ملک کی طالبات کو میرٹ پر نمائندگی دی گئی ہے۔
واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر گذ شتہ تین روز سے پیپلز میڈیکل یونیورسٹی کے اشتہار کا چرچہ ہے جس میں یونیورسٹی میں میڈیکل کے داخلوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا کہ داخلوں میں کراچی کے علاوہ پورے سندھ کے تمام اضلاع کی ڈومیسائل کی حامل طالبات داخلے کے لیے رجوع کرسکتی ہیں، کراچی کے شہریوں نے پیپلزپارٹی کی اس متعصبانہ پالیسی کا سخت برا منایا ہے، واٹس اپ اور فیس بک پر ناگواری اور طنزیہ پیغامات بھرمار کردی گئی ہے، ان پیغامات اور داخلے کا یہ اشتہار واٹس اپ پر اتنی مرتبہ آگے بھیجا گیا ہے کہ اب اسے بیک وقت پانچ افراد کو بھیجنا ممکن نہیں رہا ہےاور اسے ایک ہی شخص کو ایک مرتبہ ہی بھیجا جا سکتا ہے۔شہریوں کی جانب سے اس داخلہ پالیسی پر تنقید کی جارہی ہے کوئی اس پالیسی کو کراچی کے ساتھ ناانصافی قرار دے رہا ہے تو کوئی داخلہ پالیسی کو مکمل میرٹ پر کرنے کے حق میں ہے۔
دوسری جانب سکھر یونیورسٹی برائے خواتین کی داخلہ پالیسی پورے پاکستان کے لیے بنائی گئی ہے۔
سکھر ویمن یونیورسٹی کی وائس چانسلر ڈاکٹر ثمرین حسین نے اردو ٹائمز سے بات چیت کرتے ہوءے کہا کہ یونیورسٹی میں داخلے مکمل میرٹ پر کل پاکستان کی بنیاد پر ہیں جس کے مطابق داخلہ ٹیسٹ کے 60؍ فیصد اور بقیہ میٹرک، انٹر اور انٹرویو کے ہوتے ہیں جبکہ پورے ملک سے لوگ یہاں داخلوں کیلئے رجوع کرتے ہیں۔پیپلز میڈیکل یونیورسٹی نوابشاہ کی متعلقہ انتظامیہ نے اردو ٹائمز کو بتایا کہ ہم نے اس اشتہار کی وضاحت شائع کردی ہے جس کے تحت کراچی کی طالبات کی تبادلے کی بنیاد پر 10؍ نشستیں ہیں مگر میرٹ پر نہیں، سندھ جناح میڈیکل یونیورسٹی اور ڈاؤ میڈیکل کی پانچ پانچ طالبات یہاں تبادلے کی بنیاد پر آسکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کو میرٹ پر نشستیں دینا ہمارے اختیار میں نہیں ہم محکمہ بورڈز و جامعات کے ماتحت ہیں مگر داخلہ پالیسی محکمہ صحت دیتا ہے اگر محکمہ صحت کراچی کے لیے نشستیں مختص کردے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں کیوں کہ ماضی میں کراچی کے لیے میرٹ کی نشستیں تھیں۔ واضح رہے کہ سندھ سرکار کی دوہری پالیسیوں نے کراچی کے نوحوانوں کے لیے تعلیمی قتل دیگر جامعات میں بھی روا رکھا ہے، ظلم کی انتہا ہے کہ کراچی میں قائم جامعات میں تو اندرون سندھ کا بھرپور کوٹہ رکھا گیا ہے لیکن اندرون سندھ قائم جامعات میں یا تو کراچی کے لیے کوئی نشست ہے ہی نہیں یا پھر مھدود پیمانے پر نشستیں میرٹ پر رکھی گئی ہیں، کراچی میں قائم دائود انجینئرنگ یونیورسٹی میں اندرون سندھ کے طلبہ کے لیے 50؍ فیصد اور شہری علاقوں کے لیے50؍ فیصد نشستیں مختص ہیں۔کراچی میں قائم دیگر جامعات جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کی اندرون سندھ کی 46؍ اور ڈائو میڈیکل یونیورسٹی میں اندرون سندھ کی 23؍ نشستیں مختص ہیں۔ این ای ڈی یونیورسٹی میں اندرون سندھ کے تعلیمی بورڈز کی بنیاد پر نشستیں ہیں جبکہ جامعہ کراچی میں اندرون سندھ کے طلبہ کے لیے بھی نشستیں مختص ہیں اور صرف جامعہ کراچی کے 21؍ ٹیسٹ والے شعبوں میں پورے سندھ کے طلبہ کے لیے داخلے کھلے ہیں، اس سے بھی زیادہ دلچسپ، انوکھی اور متعصبانہ صورتحال لیاری میڈیکل کالج کی داخلہ پالیسی کی ہے جہاں 50؍ فیصد نشستیں کراچی کے ان چار ٹاؤنز کے لیے مختص ہیں جہاں دیہی علاقے لگتے ہیں ان میں لیاری ٹاؤن، کیماری ٹاؤن، ملیر ٹاؤن اور گڈاپ ٹاؤن شامل ہیں جبکہ باقی 50؍ فیصد نشستیں کراچی کے 14؍ ٹاؤن اور اندرون سندھ کی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں