137

موسم کی شدید خرابی کے باعث محمد علی سدپارہ اور دیگر کوہ پیماؤں کی تلاش کو معجزے کا انتظار ہے

موسم کی شدید خرابی کے باعث ریسکیو اینڈ سرچ اپریشن میں تعطل سے وقت گزرنے کے ساتھ لاپتہ کوہ پیماؤں کے زندہ بچنے کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں۔طوفانی ہواؤں اور خراب موسم کے باعث کے ٹو کی چوٹی کو موسم سرما میں بغیر آکسیجن کے سر کرنے کی کوشش میں لاپتہ ہونے والے پاکستان کوہ پیما محمد علی سد پارہ اور ان کے دو غیر ملکی جوہ پیما ساتھیوں جان اسنوری اور جان پابلو مہر کی تلاش کا کام تعطل کا شکار ہے۔ موسم کی شدید خرابی کے باعث وقت گزرنے کے ساتھ کوہ پیماؤں کے زندہ بچنے کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق تلاش کرنے والی ٹیمیں موسمی حالات کی بہتری کے انتظار میں سٹینڈ بائی ہیں۔ جونہی طوفانی ہواؤں کی شدت میں کمی ہوئی سرچ اپریشن آگے بڑھایا جائے گا۔
اس پہاڑی علاقے میں موسم کی پیش گوئی کے مطابق بدھ دوپہر کے وقت موسم خشک اور درجہ حرارت منفی 35 ڈگری رہا۔ اور رات کو سرد ہوا کے شدید طوفانی جھکڑ چلیں جبکہ جمعرات کی دوپہر درجہ حرارت منفی 41 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر جانے کا امکان ہے۔یاد رہے کہ محمد علی سدپارہ اور ان کے ساتھی کوپیماؤں کو آخری مرتبہ کے-2 چوٹی کے بوٹل نیک نامی مقام پر دیکھا گیا تھا۔ جبکہ ان کوہ پیماؤں کی تلاش کا کام موسم کی مسلسل خرابی کی وجہ سے متاثر ہو رہا ہے۔ پاکستان کے کوہ پیما محمد علی سد پارہ، آئس لینڈ کے جان اسنوری اور چلی کے جان پابلو موہر سے اس وقت رابطہ منقطع ہوگیا تھا جب انہوں نے 4 اور 5 فروری کی درمیانی شب بیس کیمپ تھری سے کے- ٹو کی چوٹی کی طرف سفر کا آغاز کیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں