147

عمر شیخ نے اغوا برائے تاوان کا اعتراف کیا تھا، اہل خانہ ڈینئل پرل

مقتول امریکی صحافی ڈینئل پرل کے خاندان نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ احمد عمر شیخ کی رہائی سے متعلق سپریم کورٹ کے اکثریتی فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر کرے گا۔ڈینئل پرل کے اہل خانہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ احمد عمر شیخ نے 18 برس جھوٹ بولنے کے بعد بالآخر عدالت کے نام اپنے ہاتھ سے لکھے خط میں اعتراف کر لیا تھا کہ اس نے ڈینئل پرل کے اغوا برائے تاوان میں کردار ادا کیا تھا۔ مقتول امریکی صحافی کے اہل خانہ نے کہا کہ اب یہ بات ناقابل یقین ہے کہ احمد عمر شیخ کو کلین چٹ دے کر رہا کرنے کا حکم دیا گیا ہے جس کے بعد وہ دنیا بھر میں دہشت گردی کی کارروائیاں شروع کر سکے گا۔ڈینئل پرل کے اہل خانہ نے ڈینئل پرل کے قاتلوں کو سزا یقینی بنانے کے لیے پاکستان کی وفاقی حکومت، سندھ حکومت اور امریکی حکومت کی کوششوں کی تعریف کی۔اہل خانہ نے کہا کہ انصاف کے لیے ان کی جدوجہد، صحافیوں کی آزادی کی جدوجہد بھی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں