151

سندھ حکومت کی کراچی کے ساتھ روایتی مجرمانہ غفلت ، 65 ملین گیلن یومیہ پانی کے منصوبے پر ترقیاتی کام ڈیڑھ سال سے بند

سندھ حکومت کی کراچی کے ساتھ روایتی مجرمانہ غفلت کے باعث فراہمی آب کے اضافی منصوبے 65 ملین گیلن یومیہ(ایم جی ڈی) پر ترقیاتی کام ڈیڑھ سال سے بند پڑا ہے، پیپلزپارٹی کو سندھ میں حکمرانی کرتے ہوئے 13سال کا عرصہ گذرچکا ہے اور اس دوران کراچی کے لیے دریائے سندھ سے پانی کا ایک قطرہ اضافہ نہیں ہوسکا ہے جبکہ کراچی کی آبادی ساڑھے تین کروڑ ہوچکی ہے، آبادی کے لحاظ سے کراچی کے شہریوں کو پانی کی ضرورت 1200ملین گیلن ہے جبکہ فراہمی صرف 420ملین گیلن روزانہ ہے،
تفصیلات کے مطابق شہر میں پانی کے بحران کے پیش نظر واٹر بورڈ نے اس منصوبے کے لیے 2012ئ سے کوششیں کیں ، 2014ئ میں سندھ حکومت نے اس منصوبے کی منظوری دی، 2016-17 میں اس منصوبے کی ابتدائی اسٹڈی کی گئی، 2017-18 کے بجٹ میں ایک ارب روپے مختص کیے گئے تاہم صرف 25کروڑ روپے جاری کیے گئے ، 2018-19کے بجٹ میں بھی مطلوبہ فنڈز کی ادائیگی نہیں کی گئی، 2019-20کے بجٹ میں 50کروڑ روپے مختص کیے گئے جس میں 3کروڑ 70لاکھ جاری کیے گئے،2020-21کے بجٹ میں صرف 150ملین(پندرہ کروڑ) روپے مختص کیے ہیں جس میں سے 37ملین روپے(تین کروڑ70لاکھ) گذشتہ ماہ جاری کردیئے، واٹر بورڈ نے جاری کردہ فنڈز میں سے تین کروڑ روپے متعلقہ کنٹریکٹرز اور 70لاکھ روپے متعلقہ کنسلٹنٹ کمپنی کو جاری کیے، ، اب تک منصوبے کے دو کمپوننٹ پر کسی قسم کا ترقیاتی کام شروع نہیں ہوا جبکہ دیگر دو کمپوننٹ پر ترقیاتی کام صرف 15فیصد ہوا ہے اور وہ بھی سوا سال سے بند پڑا ہے۔
واٹر بورڈ کے ایک آفیسر نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا ہے کہ65ایم جی ڈی منصوبے کے دو کنٹریکٹرز ہیں جن کے مجموعی واجبات 50کرو´ڑ ہیں جو کئی ماہ سے ادا نہیں کیے جاسکے ہیں، سندھ حکومت کی جانب سے جاری کردہ 37ملین میں سے ہر کنٹریکٹر کو ڈیڑ ھ کروڑ روپے ادائیگی کی جاسکی ہے، کنٹریکٹرز نے اتنی کم ادائیگی پر کام بحال کرنے سے معذرت کرلی ہے، کنٹریکٹرز اسی صورت میں ترقیاتی کام بحال کریں گے جب ان کے تمام بقایاجات ادا کیے جائیں گے۔
واٹر بورڈ کے متعلقہ آفیسر کا کہنا ہے کہ اگرچہ کہ منصوبے میں غیرمعمولی تاخیر ہوچکی ہے اور اس کی تکمیل نہ ہونے سے کراچی کے شہریوں کو اس سال بھی سخت پانی کے بحران کا سامنا کرنا پڑیگا ،شارٹ فال بدستور 780ایم جی ڈی رہے گا، دوسری جانب وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی ہدایت پر منصوبے میں ورلڈبینک کی بھی شمولیت ہوگئی ہے جس کی وجہ سے پروجیکٹ میں مزید تاخیر کا اندیشہ ہوگیا ہے، نئے فیصلے کے تحت 65ایم جی ڈی منصوبہ کا ایک کمپوننٹ ورلڈ بینک کے تعاون سے تعمیر کیا جائے گا، اس کمپوننٹ کے تحت ٹرانسمیشن لائن ہائی پوائنٹ تا کراچی شہر ورلڈ بینک کے تعاون سے نصب کی جائے گی، یہ ٹرانسمیشن لائن 130ملین گیلن فراہمی کے لیے ڈالی جائے گی اور ورلڈ بینک اس کمپوننٹ پر عملدرآمد کریگا، اسی ٹرانسمیشن لائن کے ذریعے 65ایم جی ڈی منصوبے کا پانی کراچی شہر کو فراہم کیا جائے گا، علاوہ ازیں سندھ حکومت کی جانب سے مزید فنڈز کے اجراءکے لیے کارروائی جاری ہے، ان فیصلے کے بعد اب توقع ہے کہ دیگر دو کمپونٹ پر رکا ہوا ترقیاتی کام اگلے ماہ سے بحال کردیا جائے گا اور تیسرے کمپنوننٹ پر ترقیاتی کام نظرثانی شدہ پی سی ون کی منظوری کے بعد شروع ہوگا، ورلڈ بینک کو جو کمپوننٹ حوالے کیا جارہا ہے اس کی پیشرفت پر مزید وقت لگے گا اور مجموعی طور پر یہ منصوبہ چار سال میں مکمل کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ سابق صدر جنرل ضیائ الحق نے 1985ئ میں دریائے سندھ سے کراچی کے لیے 650ایم جی ڈی کوٹہ منظور کیا تھا ، کینجھر جھیل سے کراچی تک یہ پانی لانے کے لیے مختلف ادوار میں ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کیا گیا، اس سلسلے کا آخری منصوبہ K-IIIکے نام سے سابق سٹی ناظم مصطفیٰ کمال کے دور میں مکمل کیا گیا جس کے ذریعے 100ایم جی ڈی پانی شہر کو فراہم کیا جارہا ہے لیکن 650ایم جی ڈی کا ابھی پورا شئیر مکمل نہیں ہوا ہے، اس شئیر میں سے 65ایم جی ڈی فراہمی آب کے اضافے منصوبے کے لیے واٹر بورڈ نے 2017ءسے ترقیاتی کام شروع کیا، اس منصوبے کو 18ماہ میں مکمل کیا جانا تھا تاہم فنڈز کے بروقت اجراءنہ ہونے پروجیکٹ کی لاگت میں اضافے کے سبب اس منصوبے پر کئی بار ترقیاتی بند ہوا اور مجموعی طور پر سست روی کا شکار رہا۔
منصوبے کی موجودہ صورتحال اگرچہ کہ کافی مایوس کن ہے لیکن پروجیکٹ ڈائریکٹر طفر پلیجوکافی پرامید ہیں کہ نئے ہونے والے فیصلوں سے مثبت اور بہتر نتائج ہونگے،انھوں نے کہا کہ 65ایم جی ڈی منصوبے پر رکا ہوا ترقیاتی کام جلد بحال کیا جارہا ہے، سندھ حکومت نے رواں مالی سال کے فنڈز سے 37ملین گذشتہ ماہ جاری کردیئے ہیں ۔ ان جاری کردہ فنڈز سے کنٹریکٹرز کو ادائیگی کردی ہے تاہم ابھی کنٹریکٹرز کے کچھ ایشوز ہیں جن کو حل کرنے کے لیے بقیہ فنڈز کے اجراءکی درخواست سندھ حکومت سے کی جاچکی ہے جس پر کارروائی جاری ہے ، ظفرپلیجو نے کہا کہ توقع ہے یہ فنڈز بھی جلد جاری ہوجائیں گے جس کے بعد ترقیاتی کام بحال ہوجائے گا، انھوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے 65ایم جی ڈی منصوبے کے ایک کمپوننٹ ورلڈ بینک کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ورلڈ بینک اس کمپوننٹ پر اپنے فنڈز سے ترقیاتی کام کریگا، سندھ حکومت کے فنڈز سے تین کمپوننٹ پر ترقیاتی کام کیا جائے گا، ان فیصلوں سے اب اس منصوبہ پر آسانیاں پیدا ہوگئی ہیں، طفر پلیجو کا کہنا ہے کہ منصوبے کی اوریجنل پی سی ون کی لاگت ہے 5.9ارب روپے ہے ، اب ورلڈ بینک کے تعاون سے نئی نظرثانی شدہ پی سی ون جلد تیار کی جائیگی،
ظفر پلیجو نے پروجیکٹ کی تفصیلات بتائے ہوئے کہا کہ 65ملین گیلن ڈیلی اضافی فراہمی آب کی یہ اسکیم کینجھر جھیل سے پیپری پمپنگ اسٹیشن 58کلومیٹر تعمیر کی جائیگی، منصوبے کے چار ترقیاتی پیکیج ہیں ، پیکیج ون اور پیکج تھری زیر تعمیر ہے جس میں کینجھر گجو کینال سے گھارو پمپنگ اسٹیشن تک 14.5کلومیٹر کھلی آرسی سی کنیال اور 5کلومیٹر کنڈیوٹ تعمیر کی جائیگی، اس کے ساتھ ہی ہالیجی جھیل کا احیائ کیا جائے گا جس میں نئے گیٹ کی تنصیب اور ہالیجی جھیل کی صفائی شامل ہے، ہالیجی جھیل سے پانی کی ایک لائن نئی آرسی سی کینال سے ملادی جائیگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں