47

کمزورقوانین اور وائلڈ لائف کے حکام، کراچی تا کشمورشیر پالنا شان کی علامت بن گیا

کراچی اور اندرون سندھ کے رہائشی علاقوں میں سیاسی بااثر افراد نے سینکڑوں کی تعداد میں پرائیوٹ زو قائم کررکھے ہیں جہاں شیر ٹائیگر، ریچھ، بھیڑیئے اور دیگر ردرندوں کی پرورش کی جارہی ہے، یہ نیٹ ورک اتنا مضبوط ہے کہ سندھ وائلڈ لائف کے حکام نے بھی سمجھوتہ کرنے میں عافیت سمجھ رکھی ہے جبکہ قوانین میں اسقدر سقم ہے کہ اس نیٹ ورک کو توڑنا بھی آسان نہیں ہے، اس مافیا میں دو قسم کے عناصر پائے جاتے ہیں ، نمبرون وہ اشرافیہ جو افریقی شیروں، بنگال وسائیبرین ٹائیگر کو پالنا اپنی شان بڑھانے کے لیے کرتے ہیں، انھوں نے ان جانوروں کو اسٹیٹس سمبل بنالیا ہے اورصرف اپنے ہی طبقے میں ان کی نمائش کرتے ہیں، نمبر دو کاروباری عناصر جو شیر ٹائیگر اور دیگر درندوں کو افزائش نسل کے لیے پاتے ہیں اور ان کے بچے20سے 30لاکھ میں فروخت کرتے ہیں، یہ کاروباری حضرات نہ صرف جانوروں کی امپورٹ بلکہ ایکسپورٹ کے کالے دھندے میں بھی ملوث ہیں،
جانوروں کے حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ نجی زو یا فارم ہاﺅس میں شیر وں اور دیگر درندوں کا پالنا خطرہ سے خالی نہیں ہے، رہائشی علاقوں میں شیروں کی موجودگی نہ صرف جاں لیوا حادثے کا سبب بن سکتی ہے بلکہ نجی طورپر قائم زو میں جانوروں کی نگہداشت اور حقوق بھی پورے نہیں کیے جارہے ہیں،
سندھ وائلڈ لائف کے متعلقہ افسران کے مطابق موجودہ وائلڈ لائف کے قوانین میں کئی قسم کے سقم پائے جاتے ہیںجس کے سبب کراچی اور اندرون سندھ کئی مقامات پر شیر، ٹائیگر اور دیگر گوشت خور جانور پالے جارہے ہیں، اس سارے نیٹ ورک کو بارسوخ اور سیاسی پشت پناہی حاصل ہے ، سندھ حکومت قانونی طور پران پرائیوٹ زو کا لائسنس جاری کرتی ہے لیکن یہ شرائط طے نہیں کرتی کہ کونسے جانور پرائیوٹ زو میں رکھے جائیں گے، قانون کے اس سقم کا فائدہ پرائیوٹ زو مالکان بھی اٹھاتے ہیں اور جانوروں کا کاروبار کرنے والی مافیا بھی اٹھاتی ہے جو شیروں اور ٹائیگرکی افزائش نسل کرکے ان کے بچوں کو مہنگے داموں ملک کے اندر اور بیرون ملک فروخت کرتی ہے،
نمائند ہ اردو ٹائمز نے کراچی میں ہونے والے ایک کیس کی تفصیلات معلوم کی ہیں جو کچھ اس طرح ہیں، کراچی کے رہائشی علاقے گلشن معظم میں چار شیر اور دوٹائیگر نجی منی زو میں انتہائی خراب حالت کے ساتھ رکھے جارہے تھے، جن میں سے کچھ شیر پنجرے سے باہر آگئے جس کی وجہ سے علاقے میں خوف وہراس پھیل گیا، موجودہ قوانین کے تحت رہائشی علاقوں میں درندوں کو نہیں رکھا جاسکتا ہے، سندھ وائلڈ لائف نے اطلاع ملتے ہی فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے ان شیروں کو ضبط کرلیا اور اب انھیں غیررہائشی علاقے میں منتقل کیا جارہا ہے، شیروں اور ٹائیگر کو انتہائی مخدوش حالت میں رکھا جارہا تھا اور ان کے ذریعے افزائش نسل بھی کی جارہی تھی، حالیہ طور پر ایک مادہ ٹائیگر ہلاک ہوچکی ہے جبکہ ایک دیگر جانور بھی سخت ٹینشن میں ہیں، ایک افریقی شیرنی بھی حاملہ ہے اور ابھی تک حیات ہے، اب اس کیس میں کچھ قانونی سقم آڑے آرہا ہے اور کچھ سیاسی دباﺅ بھی چل رہا ہے، بہر حال جو کچھ بھی ہوشیر کے مالک کو سزا دینے کے بجائے اسے سہولت دی جارہی ہے کہ وہ اپنے ان شیروں کی قیمت وصول کرنے کے لیے نیلام عام کردے،
سندھ وائلڈ لائف نے ن جانوروں کے مالک کو پابند کیا ہے کہ وہ 45دن میں ان جانوروں کی نیلامی کرے جس میں جانوروں کے حقوق کی تنظیم اور سرکاری زو حصہ لے سکیں گے، اگر معینہ مدت تک نیلامی نہ کی گئی تو قانون کی رو سے یہ تمام شیر کراچی زو کی ملکیت ہوجائیںگے،
نمائندہ اردو ٹائمز کے مطابق رہائشی علاقوں میں درندوں کا رکھا جانا سندھ وائلڈ لائف کی ناکامی ہے، اس میں سندھ وائلڈ لائف کے کچھ کرپٹ حکام کی سرپرستی بھی شامل ہے، لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ سندھ وائلڈ لائف کو نہ صرف قوانین کی کمزوری کا سامنا ہے بلکہ وسائل کی بھی کمی ہے، اسٹاف اور گاڑیوں کی شدید کمی کی وجہ سے سندھ وائلڈ لائف بھر پور طریقے سے صوبہ بھر کا سروے نہیں کرپاتا۔
سوسائٹی فار پروٹیکشن آف اینیمل رائٹس کے صدر زین مصطفی نے کہا ہے کہ کراچی اور اندرون سندھ قائم نجی زو میں شیروں اور دیگر Carnivoresکو انتہائی مخدوش حالت میں رکھا جارہا ہے اور ان جانوروں کے حقوق کا قطعی خیال نہیں رکھا جاتا، ان جانوروں کے پنجرے نہایت چھوٹے ہوتے ہیں اور ان کی لوکیشن بھی غیرموزوں ہوتی ہے، کہیں زیادہ دھوپ پڑرہی ہوتی ہے اور کہیں بالکل بند کمرہ ہوتا ہے، ان نجی زو مالکان کے پاس نہ تو جانوروں کے ڈاکٹر ہیں اور نہ ہی جانوروں کے رویئے و نفسیات کے ایکسپرٹ ہوتے ہیں، اس وجہ سے یہ جانور بیمار پڑجاتے ہیں اور اکثر مر بھی جاتے ہیں، زین مصطفی نے کہا کہ شیر ، ٹائیگر اور دیگر درندوں کو اگر بچپن سے بھی پالا جائے تو یہ اس طرح پالتو نہیں ہوتے جیسے سبزی خور جانور ہوجاتے ہیں، ان درندوں کو جیسے ہی مطلوبہ ماحول ملتا ہے یہ حملہ کربیٹھتے ہیں، اکثر یہ اپنے مالک اور خیال کرنے والوں پر بھی حملہ کردیتے ہیں، اس لیے ان درندوں کو رہائشی علاقوں میں رکھنا انسانوں کے لیے نہایت خطرناک ہے، زین مصطفی نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ جانوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سخت قوانین نافذ کیے جائیں، پرائیوٹ زو میں رہائش پذیر شیروں اور دیگر درندوں کو فی الفور بازیاب کیا جائے اور انھیں انٹرنیشنل اینیمل ویلفئیر ٹرسٹ کے حوالے کیا جائے تاکہ ان کی قدرتی طریقے سے نگہداشت کی جائے۔
سندھ وائلڈ لائف کے کنزرویٹربتایا ہے کہ جانوروں کے تحفظ کے لیے نئے اور سخت قوانین سندھ اسمبلی سے منظور کیے جاچکے ہیں اور اب انھیں گورنر سندھ کے پاس منظوری کے لیے بھیجا ہے، گورنر سندھ سے منظوری ملتے ہی یہ قوانین نافذالعمل ہوجائیں گے، ان قوانین کے تحت نجی زو مالکان کو مخصوص قسم کے سبزی خور جانور رکھنے کی اجازت ہوگی ، شیر، ٹائیگر اور دیگر carnivoresرکھنے کی اجازت نہیں ہوگی، انھوں نے کہاکہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو کو سخت سزا اور جرمانے کا سامنا کرنا ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں