78

کراچی میں کووڈ نائنٹین کی وجہ سے بی آرٹی ایس کی گرین ، یلو، اورنج اور ریڈ لائن منصوبے متاثر ہوئے

 شہر قائد میں کووڈ نائنٹین کی وجہ سے کئی میگا منصوبے متاثر ہوئے ہیں جن میں بس ریپڈ ٹرانزٹ کی گرین لائن، اورنج لائن، ریڈ لائن اور یلو لائن منصوبے بھی شامل ہیں۔ دنیا بھر میں اس ہلاکت خیز وبا کی وجہ سے لاک ڈائون کا نفاذ 2019ء کے اختتام پر کردیا گیا لیکن پاکستان میں لاک ڈائون کا نفاذ مارچ 2020ء میں کیا گیا۔ کراچی سمیت سندھ بھر میں مکمل لاک ڈائون گذشتہ سال تقریبا 5ماہ کے لیے کیا گیا جس کی وجہ سے تعلیمی۔ سرکاری۔ کاروباری اور ترقیاتی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئیں ۔ تمام چھوٹے بڑے منصوبوں پر ترقیاتی کام تقریبا پانچ ماہ مکمل طور پر بند پڑا رہا بالخصوص میگا منصوبوں کو اس بندش کا شدید نقصان اٹھانا پڑا۔ اورنج لائن اور گرین لائن منصوبوں پر کام کرنے والے مزدوروں کا تعلق اندرون سندھ اور پنجاب سے ہے۔ یہ تمام محنت کش لاک ڈائون میں اپنے آبائ گائوں واپس چلے گئے ۔ جب لاک ڈائون میں نرمی کی گئی اور  ترقیاتی کام بحال کیے گئے تو ان محنت کشوں کی فوری واپسی نہ ہوسکی جس کی وجہ سے ترقیاتی کاموں کی رفتار سست رہی اور مکمل سرگرمی بحال ہونے میں مزید 2سے 3ماہ لگ گئے۔گرین لائن منصوبے کے فیزون نمائش چورنگی انڈر پاس کی چھت کا کام مارچ 2020ء میں مکمل کیا جانا تھالیکن ترقیاتی کاموں کی بندش کی وجہ سے نہ کیا جاسکا۔ یہ کام بلاآخر اگست میں مکمل کیا گیا اور اسے ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا۔ اسی طرح اورنج لائن منصوبے پر ترقیاتی کام چھ ماہ مکمل بند رہا۔اورنج لائن منصوبے کی تکمیل کی ڈیڈ لائن دسمبر 2020ء رکھی گئی تھی لیکن لاک ڈائون اور دیگر وجوہات کے باعث یہ منصوبہ بروقت مکمل نہیں کیا جاسکا۔ اگرچہ کہ منصوبے پر ترقیاتی کام کی بحالی گزشتہ سال ستمبر میں کردی گئی تھی لیکن محنت کشوں کی فوری واپسی نہ ہونے اور چین سے لفٹوں و دیگر مشینریز کی درآمد میں تاخیر کی وجہ سے منصوبہ ابھی تک مکمل نہیں کیا جاسکا ہے۔ حکومت سندھ کی جانب سے اب اس منصوبے کی ڈیڈ لائن مارچ 2021ء رکھی گئی ہے۔ کووڈ 19کی وجہ سے نہ صرف ملکی وصوبائ سطح پر ترقیاتی پروجیکٹس متاثر رہے بلکہ انٹرنیشنل سطح پر بھی معاملات آگے نہ بڑھ پائے۔ گرین لائن اور اورنج لائن منصوبوں کے لیے 100بسیں بیرون ملک سے درآمد کرنی ہیں ۔ اس ضمن میں کووڈ 19 کی وجہ سے بین الاقوامی سرگرمیاں بھی ماند رہیں جس نے بسوں کے درآمد ہونے والے معاملات کو متاثر کیا۔ اسی طرح بس ریپیڈ ٹرانزٹ کی ریڈ لائن اور یلو لائن پر عملدرآمد کے لیے ہونے والی فارن فنڈنگ اور ٹینڈر کارروائ بھی معطل رہی۔ بہر کیف دنیا کے بیشتر ممالک کے مقابلے میں پاکستان کووڈ19کی تباہ کاریوں سے بہت حد تک محفوظ ہے اور یہاں اتنی ہلاکتیں نہیں ہوئیں جتنی امریکی یورپ و دیگر ممالک میں ہوئ ہیں ۔ پاکستان بھر میں کاروباری و سرکاری سرگرمیاں بھی بحال ہوچکی ہیں اور ترقیاتی منصوبوں پر پوری رفتار کے ساتھ عملدرآمد کیا جارہا ہے۔ کراچی میں اورنج لائن اور گرین لائن کے لیے بسوں کی درآمد کا معاہدہ طے پا چکا ہے اور اس معاہدے کے مطابق رواں سال کے اختتام پر یہ بسیں دونوں کوریڈور پر چلنا بھی شروع ہوجائیں گی جبکہ ریڈ لائن اور یہ یلو لائن کی منصوبہ بندی پر بھی تیزی سے کام جاری ہے اور توقع ہے کہ رواں سال ہی ان پر ترقیاتی کام شروع کردیا جائے گا۔ پاکستان میں کووڈ 19کی دوسری لہر بھی کمزور پڑ رہی ہے اور پاکستانی عوام کے اچھے  مدافعتی نظام نے اس وباء کو کنٹرول میں بھی رکھا ہے لیکن ہمارے کئی عزیز واقارب اور دیگر افراد اس وباء کا شکار بھی ہوئے ہیں۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ اس مہلک وباء کو نظرانداز نہ کیا جائے۔ ماسک کا لازمی استعمال کیا جائے اور تمام ایس او پیز کا خیال رکھتے ہوئے اپنی تعمیری سرگرمیاں جاری رکھی جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں