137

کراچی سمیت سندھ بھر کے 80فیصد کارخانوں میں اآگ بجھانے کے آلات نہیں ہیں، مھنت کش جان ہتیھلی پر رکھ کر کام کررہے ہیں

کراچی: سندھ حکومت کی مجرمانہ غفلت کی وجہ سے کراچی سمیت سندھ بھر کے بیشتر کارخانوں اور فیکٹریز میں محنت کشوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے نہ تو سیفٹی آلات نصب ہیں اور نہ ہی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تربیت یافتہ عملے موجود ہے، ایمرجنسی راستوں کا فقدان اور منظور کردہ لے آﺅٹ پلان کے برخلاف صنعتی عمارتوں کی تعمیر کی وجہ سے اندوہناک حادثات میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔تفصیلات کے مطابق کراچی میں ان فیکٹریز میں گذشتہ چند ماہ میں کئی حادثات رونما ہوچکے ہیں جن میں کئی مزدور ہلاک و زخمی ہوئے، ماضی میں بھی کئی اندوہناک واقعات پیش آئے ہیں جن میں سانحہ بلدیہ ٹا¾ون سرفہرست ہے، صنعتی یونٹس میں مزدورں کی فلاح و بہبود۔ سیفٹی اقدامات اور مزدوروں کی تربیت کے حوالے سے فیکٹری مالکان لیبر ڈیپارٹمنٹ ، سول ڈیفنس اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی اہم ذمہ داریاں ہیں جو بدقسمتی سے پوری نہیں کی جارہی ہیں۔ اور بیشتر صنعتی اداروں میں محنت کشوں کی جان ومال انتہائی غیر محفوظ ہیں، کئی کارخانوں میں مزدور اپنی جانوں کو خطرہ میں ڈال کر کام انجام دیتے ہیں، 80فیصد کارخانوں اور فیکٹریز میں ضروری سہولیات میسر نہیں ہیں جو حادثے کی صورت میں فوری طور پر کارگر ثابت ہوں اور حادثے بالخصوص آگ کو پھیلنے نہیں دیں تاکہ مزدوروں کی جانب و مال کا تحفظ کیا جاسکے۔علاوہ ازیں بیشتر فیکٹریز میں ایمرجنسی راستے بھی موجود نہیں ہیں جو ہنگامی حالات میں انھیں فیکٹری سے نکلنے کو راستہ فراہم کریں۔
مزدور رہنماﺅںں کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں محنت کش کے جان ومال کے تحفظ کے لیے قوانین بھی بنائے گئے ہیں اور ان پر عملدرآمد بھی یقینی بنایا جاتا ہے،سانحہ بلدیہ ٹاﺅن میں 275افراد جاں بحق ہوئے۔ اتنے بڑے سانحے کے بعد حکومت کی آنکھیں کھلیں اور 2015ئ میں سندھ میں مزدور دوست قوانین بنائے گئے لیکن ابھی تک ان پر عملدرآمد نہیں ہورہا ہے، فائر فائٹنگ ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں اس بات پر فوکس کیا جاتا ہے کہ محنت کش کی جان ومال کو ہر قیمت پر محفوظ بنایا جائے، اس کے لیے صنعتی یونٹس میں ایمرجنسی راستے اور ایسے سیفٹی آلات نصب کیے جائیں جو آگ لگنے یا دیگر حادثے کی صورت میں اسے بڑھنے نہ دیں اور فوری طور پر اس پر قابو پالیا جائے تاکہ نوبت فائر بریگیڈ تک نہ جائے، ہمارے یہاں اس کے برعکس ہوتا ہے، یہاں سیفٹی اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے چھوٹی آگ بھی بڑی آگ میں تبدیل ہوجاتی ہے، ایسے کئی واقعات شہر کراچی میں ہوئے ہیں جہاں چھوٹے پیمانے پر آگ لگی تھی جسے فوری طور پر قابو پایا جاسکتا تھا لیکن سیفٹی آلات نصب نہ ہونے کی صورت میں وہ چھوٹی آگ بڑی آگ میں تبدیل ہوگئی اور مزدوروں کی جان و مال کو نقصان پہنچا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں