53

کراچی سرکلر ریلوے کے احیاءکے لیے ترقیاتی پیکیج میں 305ارب روپے مختص

وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے کراچی ٹرانفارمیشن پلان کے تحت کراچی سرکلر ریلوے کی تعمیر نو کا اعلان بھی کیا ہے، اس ترقیاتی پیکیج کے تحت جدید سہولیات سے آراستہ کراچی سرکلر ریلوے کے احیاءکے لیے 305ارب 23کروڑ روپے خرچ ہونگے، یہ منصوبہ سندھ حکومت کی نگرانی میں تین سال کی مدت میں تعمیر ہوگا، منصوبہ کے موجودہ ٹریک کو ڈبل ٹریک میں تبدیل کیا جائیگا اور جدید ماس ریپیڈ ٹرانزٹ(ایم آر ٹی) کی طرز کا شاہکار منصوبہ تعمیر کیا جائے گا، اس ترقیاتی پیکیج کے تحت 43.2کلومیٹر محیط کراچی سرکلر ریلوے کی تعمیراتی لاگت 300ارب روپے ہے جس میں 249.2ارب روپے چین کی جانب سے قرضہ ہوگا جبکہ 50.8ارب روپے سندھ حکومت مختص کریگی، اس کے علاوہ کراچی سرکلر ریلوے کے اطراف جنگلے نصب کیے جائیں گے جن پر آنے والی لاگت23کروڑ روپے سندھ حکومت برداشت کریگی، سندھ حکومت کراچی سرکلر ریلوے کی کراسنگ پر انڈر پاسز اور فلائی اوورز بھی تعمیر کریگی جن پر 5ارب روپے خرچ ہونگے،
واضح رہے کہ وزیر اعظم ترقیاتی پیکیج کے تحت کراچی سرکلر ریلوے کی ازسرے نو تعمیر ہوگی جس میں نیا ڈبل ٹریک نصب کیا جائے گا ، اسٹیشنوں کی تعمیر نو ہوہگی اور جدید نوعیت کی ہلکی گیج کی ٹرینیں چلائی جائیں گی جبکہ ان دنوں پاکستان ریلوے بھی کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی پر کام کررہا ہے تاہم یہ منصوبہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر عملدرآمد کیا جارہا ہے تاکہ سرکلر ریلوے فوری طور پر 3ماہ کے اندر بحال کرکے کراچی کے شہریوں کو سفری سہولیات فراہم کی جائیں، اس منصوبے میں ٹریک کو ڈبل نہیں کیاجائے گا اور موجودہ سنگل ٹریک پر ہیوی گیج کی لوکل ٹرینیں چلائی جائیںگی، اسٹیشنوں کو جزوقتی طور پر کارآمد بنایا جائے گا اور موجودہ ٹریک میں بہتری لائی جائے گی، وفاقی حکومت نے رواں مالی سال کے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام میں اس منصوبے کی بحالی کے لیئے 1.8 ارب روپے رکھے ہیں ، ٹریک کی بحالی کا کام پاکستان ریلویز نے شروع بھی کردیا ہے۔
پاکستان ریلوے کے تحت کے سی آر بحالی منصوبے کو دو مرحلوں میں مکمل کیا جائیگا۔ پہلے مرحلی میں آئندہ تین ماہ کے اندر سٹی اسٹیشن سے اورنگی تک ہر گھنٹے میں دو ٹرینیں چلائی جائیں گی جب کہ دوسرے مرحلے میں پورے ٹریک کو آپریشنل کیا جائے گا، اسوقت پاکستان ریلویز نے کے سی آر بحالی منصوبے پر سٹی سے شاہ عبدالطیف اسٹیشن تک دس کلومیٹر ٹریک کو مکمل بحال کردیا ہے۔ پہلے مرحلے کے تحت سٹی سے اورنگی اسٹیشن تک 14 کلومیٹر ٹریک کو مکمل بحال کرنا ہے۔ دوسرے مرحلے میں بقیہ 16 کلومیٹر ٹریک کو بحال کیا جائیگا جس میں سندھ حکومت 5 ارب روپے کی لاگت سے انڈر پاسز اور اووہیڈ برجز تعمیرکریگی،
ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق کراچی سرکلر ریلوے منصوبہ 20سال سے تاخیر کا شکار ہے، وفاقی حکومت نے کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی کے لیے 2005ئ میں کراچی اربن ٹرانسپورٹ کارپوریشن (کے یو ٹی سی ) قائم کی، اس ادارے نے جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی(جائیکا) کے مالی تعاون سے منصوبے کی فزیبیلیٹی کیلیے کام شروع کیا ، 2013ئ تک جائیکا نے اپنے فنڈز سے کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی اور4,653 متاثرین کی نوآبادکاری کیلیے فزیبیلٹی مکمل کی۔اس موقع پر جاپان حکومت نے آسان شرائط پر قرضہ دینے پر رضامندی کا اظہار بھی کیا جس میں سرکلر ریلوے کے احیاءاور متاثرین کی ری سیٹلمنٹ منصوبے شامل تھے،جائیکا کا اصرار تھا کہ سرکلرے ریلوے کے متاثرین کی نوآبادکاری کا منصوبہ جائیکا کی زیر نگرانی بین الاقوامی بنیادوں اور انسانی اصولوں پر کیا جائے گا تاکہ متاثرین کو ایک بہتر معیار زندگی فراہم کیا جائے لیکن سندھ حکومت کا کہنا تھا کہ نوآبادکار منصوبہ سندھ حکومت کی زیر نگرانی ہوگا البتہ فنڈز جائیکا کو فراہم کرنے ہوں گے،سندھ حکومت نوآبادکار منصوبے کے ذریعے اپنی روایت کے مطابق بے قاعدگی کے چکر میں تھی، جائیکا نے سندھ حکومت کی یہ تجویز رد کردی اور جاپان حکومت نے یہ منصوبہ بھی ڈراپ کردیا،
بعدازاں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی درخواست پر 2016ءمیں سابق وزیر اعظم نواز شریف نے چینی حکومت سے بات چیت کرکے KCRمنصوبے کو سی پیک سے منسلک کردیا اور یہ منصوبہ سندھ حکومت کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ سی پیک کے تحت ہی چینی حکومت 249.2ارب روپے کا آسان شرائط کا قرضہ دیگی اوراسی قرضے کی بنیاد پر سرکلر ریلوے کا جدید بنیادوں پر احیاءکیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں