55

ڈی ایچ اے، کلفٹن میں بارش کے بعد نکاسی آب کی بدترین صورتحال پر مکین سراپا احتجاج

کراچی میں ریکارڈ بارشوں کے 5 روز بعد بھی سیکڑوں رہائشیوں کی پریشانی کا اب تک خاتمہ نہیں ہوا کیونکہ شہر کے چند حصے اب تک زیر آب اور بجلی کے تعطل کا شکار ہیں۔متعلقہ محکموں کی طرف سے اقدامات نہ کرنے پر مایوس، ڈی ایچ اے اور کلفٹن کے رہائشی کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ (سی بی سی) کے دفتر کے باہر اکٹھے ہوئے اور دونوں علاقوں میں بارش کے بعد کی صورتحال کے خلاف احتجاج کیا۔تقریباً 100 سے زائد مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ علاقوں میں نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنایا جائے اور سڑکیں دوبارہ تعمیر کی جائیں۔انہوں نے سیلاب سے نجات کے نام پر جمع شدہ فنڈز کے آڈٹ کا بھی مطالبہ کیا اور بورڈ سے صفائی کے کام کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور وہ نعرے بازی کرتے ہوئے مطالبہ کر رہے تھے کہ ان کے علاقوں می نکاسی آب کو بہتر بنایا جائے اور سڑکوں کی مرمت کے ساتھ ساتھ انہیں نئےے سرے سے بنایا جائے جبکہ انہوں نے کنٹونمنٹ بورڈ کلفٹن کے چیف ایگزیکتو سے بھی مسائل حل کرنے کا مطالبہ کیا۔مظاہرین نے فلڈ ریلیف کے نام پر اکٹھا کیے جانے والے فنڈ کے آڈٹ کا مطالبہ کیا اور کنٹونمنٹ بورڈ سے وہ صفائی ستھرائی کو یقینی بنائے۔
چند شہریوں نے کنٹونمنٹ بورڈ کلفٹن کے سربراہ اور ڈی ایچ اے کے ایڈمنسٹریٹر سے استعفے کے ساتھ ساتھ تین دن میں پانی کی نکاسی، 24گھنٹے یں بجلی اور گیس کی بحالی اور مچھر مار اسپرے کا بھی مطالبہ کیا۔اس سلسلے میں ایک فوٹیج بھی سامنے آئی جس میں مظاہرین کو کنٹونمنٹ بورڈ کلفٹن کے دفتر یں دھاوا بولتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے تاہم اس موقع پر پولیس نے مداخلت کرتے ہوئے انہیں روک دیا تھا۔دریں اثناءحکومت سندھ کے ترجمان مرتضی وہاب نے بتایا ہے کہ صوبائی حکومت نے بخاری کمرشل سے بارش کا پانی نکالنے کے لیے اپنی مشینیں خیابان محافظ اور خیابانِ شجاعت میں لگائی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘ہمیں ڈی ایچ اے کے نالوں کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہے تاہم ہم اپنے طور پر کوشش کررہے ہیں’۔مرتضیٰ وہاب نے بعدازاں اپنی ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ڈی ایچ اے میں بہت زیادہ پانی تھا، حکومت سندھ اس وقت خیابان محافظ، خیابان شجاعت اور خیابان بخاری سے پانی کی نکاسی کی کوشش کر رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایچ اے میں استعمال کیے جانے والے چھوٹے پمپوں سے پانی نکالنے میں کافی وقت لگے گا ،
کے الیکٹرک کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق کراچی کے چند علاقوں میں بارشوں کے بعد جہاں نکاسی کا عمل اب تک جاری ہے وہیں 5 روز سے غائب بجلی کی بحالی کے لیے کے الیکٹرک کی فیلڈ ٹیمیں اور آپریشنل عملے کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ادارے کے مطابق بحالی کے کام میں رکاوٹوں اور ڈی ایچ اے اور کلفٹن کے متعدد حصوں میں بارش کا پانی اب تک کھڑے ہونے کے باوجود کے ای شہر کے 95 فیصد سے زائد حصے میں دوبارہ بجلی فراہم کرنے میں کامیاب رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مقامی حکام کی مدد سے نکاسی آب کی کوششوں میں تیزی آرہی ہے، ڈی ایچ اے کے علاقے میں طویل وقت سے غائب بجلی کے معاملات کا سامنا کرنے والے دو فیڈرز کو چلا دیا گیا ہے جن میں، فیز فور (نشان شہید) اور مسلم کمرشل کے علاقے شامل ہیں۔کے الیکٹرک کا کہنا تھا کہ ‘ہماری ٹیمیں ڈی ایچ اے میں 5 فیڈرز کو چلانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں تاہم سب اسٹیشنز کے اندر اور رہائشی احاطے اور تہہ خانے کے اندر پانی بھرے ہونے کی وجہ سے شدید مسائل کا سامنا ہے جس نے عوام کی حفاظت کا ایک سنگین خطرہ پیدا کردیا ہے۔یہ فیڈر بخاری کمرشل ایریا، اتحاد کمرشل ایریا، خیابانِ شہباز اور 26 اسٹیٹ کے کچھ حصوں کو بجلی فراہم کرتے ہیں۔واضح رہے کہ کراچی میں ریکارڈ بارش کو 5 دن گزرنے کے باوجود اب بھی کچھ علاقوں میں پانی کھڑا ہے اور متعدد علاقے بجلی سے محروم ہیں۔

کے الیکٹرک کے ڈسٹری بیوشن ہیڈ حسن انیس نکا کہنا ہے کہ ڈیفنس اور کلفٹن کے علاوہ کہیں پانی کھڑے ہونے کا اتنا مسئلہ پیدا نہیں ہوا اور کہیں بھی بجلی کے مسائل نہیں ہیں۔جب کہ بخاری کمرشل، نشاط کمرشل اور اتحاد کمرشل کے علاقوں میں اب بھی پانی موجود ہے اور اس کی نکاسی کے سلسلے میں کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ اور واٹر بورڈ حکام سے رابطے میں ہیں، وہاں نالے نہ ہونے کی وجہ سے پانی کو اٹھایا جارہا ہے اور جب تک پانی ختم نہیں ہوتا بجلی بحال نہیں ہوسکتی۔دوسری جانب وکیل اور سماجی رہنما جبران ناصر نے اپنی رضاکاروں کی ٹیم کے ہمراہ علی الصبح ڈی ایچ اے اور کلفٹن کی سڑکوں کا معائنہ کیا جہاں اب بھی کچھ علاقوں میں بارش کا پانی کھڑا ہے۔انہوں نے کہا کہ 6گھنٹے کی انتھک محنت کے بعد ہماری ٹیم نے کے پی ٹی انڈر پاس کلفٹن سے گٹر کا تمام کچرا صاف کردیا ہے تاکہ پیر کی صبح لوگوں کو ٹریفک کی روانی آسانی ہو اور تمام لینز چل سکیں۔ان کا کہنا تھا کہ اب ہماری تمام تر توجہ بخاری کمرشل پر ہے جو ایک جھیل بن کر رہ گئی ہے۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر متعلقہ محکمے موثر طریقے سے کام کریں تو شہریوں کو اس طرح کے اقدامات کبھی نہ اٹھانے پڑیں۔ڈیفنس کلفٹن کے چند حصوں کے علاوہ کہیں اتنے مسائل نہیں، اگر کہیں بجلی کے کھمبے گر گئے ہیں تو انہیں ٹھیک کیا جارہا ہے اور انہیں آج ہی بحال کردیا جائے گا۔
واضح رہے کہ کراچی میں ریکارڈ بارش کو گزرے آج پانچواں دن ہے تاہم اب بھی چند علاقوں میں پانی کھڑا ہے اور متعدد علاقے بجلی سے محروم ہیں۔
کراچی کے علاقوں ڈیفنس، کلفٹن، سرجانی، اورنگی ٹاؤن، نیا ناظم آباد اور اولڈ ایریا کے رہائشیوں نے 72 گھنٹے سے زائد کا وقت گزر جانے کے باوجود بجلی بحال نہ ہونے پر سوشل میڈیا پر شکایات کے انبار لگا دیے ہیں۔اس سے قبل کے الیکٹرک نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ہمیں ڈی ایچ اے فیز 8 میں موجود 15فیڈرز کے حوالے سے چیلنجز کا سامنا ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ کچھ علاقوں میں کھڑے ہوئے پانی سے نقصانات کے پیش نظر علاقہ مکینوں نے بجلی بحال نہ کرنے کی درخواست کی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں