31

ڈملوٹی :انگریزوں کے تعمیرکردہ کنویں40سال سے بند، آپریشنل کرکے کراچی کے لیے 20ایم جی ڈی پانی حاصل کیاجاسکتا ہے

مون سون سیزن کی غیرمعمولی بارشوں کے سبب کراچی اور اسکے مضافات میں زیر زمین پانی کا لیول کافی اوپر آچکا ہے اور گڈاپ کے علاقے ڈملوٹی کے مقام پر قدیم کنوﺅں کو آپریشنل کرکے 20ملین گیلن ڈیلی پانی فراہم کیا جاسکتا ہے جس سے شہر میں جاری پانی کے بحران میں قدرے کمی لائی جاسکتی ہے تاہم سندھ حکومت اور واٹر بورڈ نے یہ منصوبہ غیرسود مند قرار دیکر اسے کئی سالوں سے سرد خانے کی نذر کررکھا ہے،
تفصیلات کے مطابق انگریزوں نے کراچی اولڈ سٹی ایریا کے لیے پانی کی فراہمی آب کا نظام ڈملوٹی کے مقام پر1881ءمیں تعمیر کیا، ابتدائی طور پر چند کنوﺅں تعمیر کرکے 5ملین گیلن پانی کی فراہمی کی گئی، بعدازاں اسے 20ملین گیلن ڈیلی تک وسعت دیدی گئی، یہ کراچی کے لیے پہلا پائپ لائن سسٹم تھا جو ڈملوٹی سے لیکر لائنزایریا تک 32کلومیٹر نصب کیا گیا، 1970ءتک یہاں سے 16ملین گیلن پانی کراچی کے لیے فراہم کیا جاتا رہا تاہم بارشوں کی کمی اور ملیر ندی سے ریتی بجری چوری ہونے کے باعث زیر زمین پانی کا لیول گرگیا اور یہ کنوﺅں بلاآخر1980ءمیں بند ہوگئے،
واٹر بورڈ کے ایک آفیسر نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ انگریزوں کا تعمیر کردہ یہ نظام آزادی سے قبل تعمیر کیا گیا، ڈملوٹی واٹر سپلائی اسکیم کے تحت ملیر ندی کے اطراف 16کنویں تعمیر کیے گئے جبکہ ندی سے آنے والے پانی کو قدرتی طور پر فلٹر کرنے کیلئے فلٹریشن گیلیریز سسٹم بھی تعمیر کیا گیا، یہ گیلریز کنوﺅں سے ایک کلومیٹر دور ڈالی گئیں جبکہ ان کا نیٹ ورک 16کلومیٹر تک پھیلا ہوا تھا، اگرچہ ملیر ندی کے اطراف سے ریتی بجری 1960سے اٹھائی جارہی تھی تاہم گیلیرز کے اطراف پر پابندی کے باعث ریتی بجری نہیں اٹھائی جارہی تھی تاہم پولیس اور بااثر افراد کی پشت پناہی ملنے کے بعد ریتی بجری مافیا کے حوصلے بلند ہوئے اور انھوں نے 1976سے گیلیرز کے اطراف سے ریتی بجری اٹھانی شروع کردی جس کے باعث بتدریج زیرزمین پانی کا لیول گرنے لگا اور پتھروں سے تعمیر کردہ فراہمی آب کا نیٹ ورک بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونا شروع ہوگیا، اس مقام سے آج بھی ریتی بجری بدستور اٹھائی جارہی جبکہ قانون نافذ کرنےو الے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں،
متعلقہ آفیسر کے مطابق 1970ءتک سولہ کنوﺅں سے 15تا سولہ ملین گیلن روزانہ پانی شہر کو فراہم کیا جاتا تھا، اس وقت صرف ایک کنواں ویل نمبر 6 زیر استعمال ہے جس سے پانچ لاکھ گیلن روزانہ پانی قریبی واقع واٹر بورڈ کی اسٹاف کالونی کو فراہم کیا جاتا ہے جبکہ 8کنویں سیلابی پانی میں بہہ چکے ہیں اور 7کنویں بند پڑے ہیں۔
ڈملوٹی کے رہائشی حاجی احمد بلوچ نے کہا کہ حالیہ غیرمعمولی بارشوں کے سبب زیر زمین پانی کا لیول کافی اونچا ہوگیا ہے اور 60فٹ کھدائی یا بورنگ پر پانی دستیاب ہے، انھوں نے کہاکہ ڈملوٹی کے اطراف زمین زرعی ہے ، مقامی کاشت کار نے گہری بورنگ کرارکھی ہے اور پمپس لگا کر زیر زمین پانی کھنچتے ہیں اور اپنے کھیتوں کو فراہم کرتے ہیں، یوسی ڈملوٹ ¸ میں 16ہزار افراد رہائش پذیر ہیں۔ یہاں واٹر بورڈ کا کوئی سسٹم نہیں ہے، لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت کنویں اور بورنگ تعمیر کررکھی ہے تاہم رہائشیوں کو پانی کی کمی کا سامنا ہے، غریب رہائشی دوردراز مقامات پر جاکر پانی حاصل کرتے ہیں، انھوں نے مطالبہ کیا کہ واٹر بورڈ انگریزوں کے تعمیر کردہ کنوﺅں کو دوبارہ چارج کرکے شہر کے لیے بھی پانی فراہم کرے اور یوسی ڈملوٹی کے رہائشیوںکو پینے اور گھریلو استعمال کے لیے بھی پانی کی فراہمی ممکن بنائے،
واٹر بورڈ کے متعلقہ انجیئنرز کا کہنا ہے کہ ڈملوٹی اور میمن گوٹھ میں زیر زمین پانی کے استتعمال کیلئے منصوبہ کئی سال زیر غور رہا، 2006ءمیں مختلف مقامات پر بورنگ بھی کرائی گئی تاہم اسوقت یہ لیول 500فٹ نیچے پایا گیا، انھوں نے کہا کہ بارشوں کی کمی اور ریتی بجری چوری ہونے کی وجہ سے یہ نظام اب ناکارہ ہوچکا ہے، کراچی میں کسی سال بارش اچھی ہوجاتی ہے تو زیرزمین پانی اونچا ہوجاتا ہے ورنہ عموماً یہاں پانی کا لیول نیچے ہی رہتا ہے، مقامی کاشتکاروں نے بھی چارسو تا 500فٹ بورنگ کراکے ہیوی پمپس لگائے ہوئے ہیں جب ہی پانی کی فراہمی ممکن ہوتی ہے، انھوں نے کہا کہ واٹر بورڈ نے انٹرنیشنل کنسلٹنٹ سے بھی ڈملوٹی کنوﺅں کے لیے مشاورت لی تھی تاہم انھوں نے بھی اس منصوبے کو غیرسود مند قرار دیا ہے۔ خبر کی تصدیق کے لیے نمائندہ ایکسپریس نے ایم ڈی واٹر بورڈ اسد اللہ خان سے رابطے کی کوشش کی لیکن انھوں نے فون موصول نہیں ک

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں