55

چھمک چھلو‘ فیم گلوکار ایکون کا سینیگال میں سائنس فکشن طرز کا شہر تعمیر کرنے کا اعلان

’بولی وڈ کی 2011 کی مقبول فلم ’راون‘ کے مشہور گانے ’چھمک چھلو‘ میں آواز کا جادو جگانے والے افریقی نژاد امریکی گلوکار 47 سالہ ایکون نے افریقی ملک سینیگال میں سائنس فکشن طرز کا نیا سیاحتی شہر تعمیر کرنے کا اعلان کرکے سب کو حیران کردیا۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ الیانے دملا بدارا ایکون تھیام المعروف ایکون نے 31 اگست کو اپنے آبائی ملک سینیگال کے سرکاری عہدیداروں کے ساتھ ایک مقام کا دورہ کرنے کے بعد وہاں ’ایکون سٹی‘ تعمیر کرنے کا اعلان کیا۔ایکون نے بتایا کہ ابتدائی طور پر نئے شہر کی تعمیر میں 6 ارب امریکی ڈالر یعنی پاکستانی 90 کھرب روپے لاگت آئی گی اور نئے شہر کی تعمیر کا آغاز آئندہ سال کی پہلی سہ ماہی میں ہوگا۔ایکون نے اسی طرح کے منصوبے کا اعلان 2018 میں کیا تھا اور بتایا تھا کہ وہ اپنے آبائی ملک میں جدید ترین طرز کا ایک سیاحتی شہر بنائیں گے اور اب انہوں نے اس کا باضابطہ اعلان کردیا۔ایکون کی جانب سے اعلان کردہ نئے شہر کو ہولی وڈ فلم ’بلیک پینتھر‘ میں دکھائے گئے سائنس فکشن افریقی مقامات کی طرح بنایا جائے گا اور وہاں کی علیحدہ کرپٹو کرنسی ’ایکیون‘ بھی ہوگی۔’ایکون سٹی‘ میں علیحدہ ہسپتال، علیحدہ پولیس اسٹیشن، علیحدہ تعلیمی نظام اور کئی سیاحتی پوائنٹس بھی ہوں گے اور اس شہر میں ایک ایسا ہوٹل بھی تعمیر کیا جائے گا، جس میں افریقہ کے تمام ممالک کی ثقافتی جھلک دکھائی دے گی۔’ایکون سٹی‘ میں ایک ایسا ہوٹل تعمیر کیا جائے گا جس میں براعظم افریقہ کے 54 ممالک کی ثقافت کو پیش کیا جائے گا، یعنی اس ہوٹل کے کمروں کو تمام افریقی ممالک کی ثقافتی طرز پر سجایا اور تعمیر کیا جائے گا۔غربت، بیروزگاری اور انتہائی کم سرمایہ کاری جیسے مسائل کا سامنا کرنے والے ملک سینیگال کی حکومت نے ایکون کی جانب سے 6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے نئے شہر کی تعمیر کے اعلان پر خوشی کا اظہار کیا ہے اور اسے ملک کے مستقبل کے لیے بہترین بھی قرار دیا ہے۔’ایکون سٹی‘ کو وسطی افریقی ملک سینیگال کے دارالحکومت ڈاکار سے محض 100 کلو میٹر کی دوری پر معروف سیاحتی مقامات کے ارد گرد تعمیر کیا جائے گا اور خیال کیا جا رہا ہے کہ ابتدائی تین میں شہر کا بنیادی ڈھانچہ تعمیر کرلیا جائے گا۔اگرچہ یہ پہلا موقع ہے کہ ایکون نے سینیگال میں اپنے ہی نام سے الگ شہر تعمیر کا اعلان کیا ہے، تاہم وہ ماضی میں وہاں کے دیہات میں بجلی کی فراہمی، بچوں کی غذائی قلت کے منصوبے اور تعلیم جیسے فلاحی منصوبوں پر کام کرتے آ رہے ہیں۔ایکون کی پیدائش اگرچہ امریکا میں ہوئی، تاہم انہوں نے بچپن اور جوانی کا کافی عرصہ سینیگال میں گزارا، جہاں کی ان کی دادی کے گھر میں بھی بجلی تک کی سہولت میسر نہیں تھی اور وہ موم بتیاں جلا کر روشنی کرتی تھیں۔
سینیگال کی 40 فیصد آبادی کے پاس جدید دور میں بھی بجلی کی بنیادی سہولت دستیاب نہ ہونے کے باعث ہی ایکون نے 2014 میں وہاں کے دیہات کو بجلی فراہم کرنے کے منصوبوں کا آغاز کیا تھا۔
ایکون بنیادی طور مسلمان ہیں، تاہم زیادہ تر افراد انہیں کسی بھی مذہب کا پیروکار تسلیم نہیں کرتے، کیوں کہ انہوں نے کبھی بھی کھل کر اپنے مذہب سے متعلق بات نہیں کی، تاہم انہوں نے ماضی میں کچھ انٹرویوز میں اعتراف کیا تھا کہ وہ نہ صرف پیدائشی مسلمان ہیں بلکہ وہ اسلامی تعلیمات پر عمل کو ہی اپنی کامیابی کا راز سمجھتے ہیں۔رواں برس مارچ میں ان کی جانب سے عمرے کی سعادت حاصل کرنے کی تصاویر بھی انٹرنیٹ پر خوب وائرل ہوئی تھیں۔2003 میں گلوکاری کا آغاز کرنے والے ایکون کا رواں برس چھٹا میوزک ایلبم ریلیز ہوا تھا اور ان کے گانوں کو امریکا سمیت افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں بھی خوب پسند کیا جاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں