72

پیپلزپارٹی نے بغیر منصوبہ بندی سندھ میں 6 سے 9 سیٹر چنگ چی رکشے پر پابندی لگادی، شہریوں کو سفری سہولیات میں سخت مشکلات کا سامنا ہوگا

کراچی: سندھ کی حکمران جماعت پیپلزپارٹی کی ہدایت پر صوبائی محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے صوبے میں6 سے 9 سیٹر چنگ چی رکشے پر پابندی لگا دی ہے۔شہریوں نے اس فیصلہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اچی شہر میں ویسے ہی پبلک ٹرانسپورٹ کی شدید کمی ہے، ایسے میں چنگچی رکشہ کی بندش عوام دشمن اقدام ہے۔
تفصیلات کے مطابق سندھ کے محکمہ ٹرانسپورٹ نے واضح کیا ہے کہ صوبے میں 6 سے 9 سیٹر والے تمام چنگچی رکشے غیر قانونی طور پر چل رہے ہیں۔محکمہ ٹرانسپو رٹ نے پولیس کو ہدایت کی ہے کہ صوبے میں چلنے والے چنگ چی رکشوں کے مالکان کے پاس اگر روٹ پرمٹ،فٹنس سرٹیفکیٹس اور دیگر کاغذات نہ ہوں تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ایک نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ محکمہ ٹرانسپورٹ کو 6 سے 9 سیٹر چنگ چی رکشوں کے خلاف کئی شکایات موصول ہوئی تھیں، یہ شکایات ٹریفک کی روانی میں خلل ڈالنے سے متعلق ہیں۔نوٹیفکیشن کے مطابق رکشوں کی فٹنس نہ ہونے اور کم عمر بچوں کی ڈرائیونگ اور ھادثات کی بھی شکایات موصول ہوئی ہیں،اس سلسلے میں محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے ڈی آئی جی ٹریفک پولیس، صوبے کے تمام ایس ایس پیز اور ریجنل سیکریٹریز ٹرانسپورٹ کو خط لکھ دیا ہے، جس میں مسئلے کی نشان دہی کی گئی ہے۔دوسری جانب شہریوں کا کہنا ہے کہ چنگ چی رکشا بے شک بدترین پبلک ٹرانسپورٹ سواری ہے لیکن اس وقت کراچی کا سب سے بڑا مسئلہ بسوں کی کمی کا ہے، ایسے میں یہ چنگ چی رکشا سروس غنیمت ہے، کم ازکم شہریوں کو منزل مقصود تک تو پہنچارہی ہے، حکومت کو چاہیے کہ پہلے منصوبہ بندی کرے اور بڑی بسیں شہر میں لے کر آئے ، اسکے بعد ان چنگ چی رکشائوں پر پابندی لگائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں