80

پاکستان ریلوے نے کراچی کے شہریوں کو ماموں بنادیا، خاموشی سے کراچی سرکلر ریلوے کی ایک ٹرین کم کردی گئی

۔کراچی: پاکستان ریلوے نے کراچی کے شہریوں کو ماموں بنادیا اور بڑی خاموشی کے ساتھ کراچی سرکلر ریلوے کی ایک ٹرین کو کم کردیا ہے، سرکلر ریلوے میں دو آپ اور دو ڈائون آپریشن کے بجائے ایک اپ اور ایک ڈائون آپریشن کیا جارہا ہے اور یہ سلسلہ ایک ماہ سے جاری ہے اور کسی کو کانوں کان خبر بھی نہیں ہے کیونکہ ابھی شہریوں نے زیادہ سفر کرنا شروع نہیں کیا ہے، زیادہ تر ریلوے کے ملازمین ہی یہ سہولت اٹھارہے ہیں، سپریم کورٹ کو دکھانے کے لیے ایک جانب روٹ میں توسیع کی جارہی ہے تو دوسری جانب اسے ناکام بنانے کے لیے ٹرین میں کمی ، یعنی ایک ٹرین کم کرکے دو آپریشن کم کردیئے گئے ہیں۔ خیال رہے کہ ابھی چند دن قبل ہی کراچی سرکلر ریلوے کے روٹ کو سٹی اسٹیشن سے اورنگی اسٹیشن توسیع کی گئی ہے۔لیکن اندر کی خبر یہ ہے کہ روٹ میں توسیع صرف عدالت کو دکھانے کے لیے کی جارہی ہے ۔
پاکستان ریلوے کے ذرائع نے اردو ٹائمز کو بتایا کہ ریلوے کے حکام کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی میں کبھی سنجیدہ تھے ہی نہیں ،
عدالت عظمیِ کی ہدایات کے باوجود مسلسل ایک سال تک ٹال مٹول سے کام لیتے رہے، جب عدالت نے سختی کے ساتھ نوٹس جاری کیا تو اس ڈر سے کہ کہیں ان پر توہین عدالت نافذ نہ ہوجائے، نیم مردہ دلی کے ساتھ تین ماہ قبل کراچی سرکلر ریلوے کو جزوی طور پر بحال کیا،
سپریم کورٹ کی ہدایت پر پاکستان ریلوے نے 21سال کی بندش کے بعد گذشتہ سال 19نومبر کو جزوی طور پر کراچی سرکلر ریلوے سٹی اسٹیشن تا پیپری اسٹیشن بحال کی۔ سابق وزیر ریلوے شیخ رشید نے اس کا افتتاح کیا۔ کراچی سرکلر ریلوے کی یہ بحالی دو ٹرینوں کے ساتھ کی گئی۔ دو اپ اور دو ڈائون ٹرین آپریشن کیا جاتا تھا۔ ایک اپ ٹرین صبح 7بجے سٹی اسٹیشن کے ساتھ روانہ ہوتی اور صبح دس بجے پیپری اسٹیشن پہنچتی جبکہ ایک ڈائون ٹرین صبح 7 بجے پیپری اسٹیشن سے روانہ ہوتی اور صبح دس بجے سٹی اسٹیشن پہنچتی۔ اسی طرح شام کا سفر کیا جاتا 2اپ ٹرین شام چار بجے سٹی اسٹیشن سے روانہ ہوتی اور شام سات بجے پیپری اسٹیشن پہنچتی ۔ 2ڈائون ٹرین شام چار بجے پیپری اسٹیشن سے روانہ ہوتی اور شام سات بجے سٹی اسٹیشن پہنچتی۔ پاکستان ریلوے کے اعلان کے مطابق یہ شیڈول نجی و سرکاری دفاتر جانے والے اسٹاف اور محنت کشوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا تھا تاکہ کراچی کے مضافات سے زیادہ سے زیادہ لوگ ٹاور جانے کے لیے سرکلر ریلوے کا استعمال کریں۔ لیکن چونکہ ٹرین کی رفتار سست ہے اور ٹرین متواتر نہیں آتیں اس لیے مسافر اس کی جانب فوری طور پر راغب نہیں ہورہے۔
ہفتہ وار کام کے دنوں میں مسافروں کی تعداد انتہائی کم رہتی اور چھٹیوں والے دنوں ہفتہ و اتوار شہری تفریح کے لیے فیملی کے ہمراہ سفر کرنے لگے 200سے300 لوگ اس میں سفر کرتے لیکن یہ معاملہ بھی دو ماہ جاری رہا اس کے بعد ان چھٹیوں والے دن بھی مسافروں کی تعداد کم ہوگئی۔ پاکستان ریلوے نے یہ کہہ کر سرکلر ریلوے کا روٹ پیپری سے دھابیجی اسٹیشن وسعت دی کہ مسافر زیا دہ آئیں گے لیکن کوئی خاطر خواہ فائدہ نہ ہوا۔ کراچی سرکلر ریلوے کی ایک ٹرین میں 500مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے لیکن مشکل سے 100مسافر سفر کرتے ہیں۔ بعض مرتبہ صورحال اس سے بھی زیادہ خراب ہوجاتی اور ٹرین میں گنتی کے مسافر ہوتے ہیں۔ کراچی سرکلر ریلوے میں اوسطا20فیصد مسافر روزانہ سفر کرتے ہیں۔ بلا آخر پاکستان ریلوے نے بغیر کسی اعلان ایک ماہ قبل ٹرین آپریشن کم کرتے ہوئے ون اپ اور ون ڈائون کردیا ۔ دوسری جانب دس فروری کو سرکلر ریلوے کے روٹ میں دوبارہ توسیع کردی، اس بار یہ توسیع سٹی اسٹیشن تا اورنگی کی گئی، اگرچہ کہ اورنگی گنجان آبادی والا علاقہ ہے تاہم پاکستان ریلوے نے ٹرین کی تعداد میں اضافہ نہیں کیا، نئے شیڈول کے مطابق کراچی سرکلر ریلوے ایک اپ روزانہ شام سوا چار بجے اورنگی اسٹیشن سے روانہ ہوتی ہے اور شام سات بجے دھابیجی اسٹیشن پہنچتی ہے جبکہ ون ڈائون دھابیجی اسٹیشن سے صبح ساڑھے چھ بجے روانہ ہوتی صبح سوا دس بجے اورنگی اسٹیشن پہنچتی ہے۔
ماس ٹرانزٹ ماہرین نے پاکستان ریلوے کی ناقص منصوبہ بندی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریلوے حکام کو چاہیے تھا کہ کراچی سرکلر ریلوے کے گنجان آبادی والے علاقوں گلشن اقبال، لیاقت آباد، ناظم آباد اور گلستان جوہر کو بحال کرتا ، ابھی مضافات والے علاقوں کو بحال کیا گیا ہے جہاں مسافر ہی نہیں ہیں، ماضی میں سرکلر ریلوے جب کامیابی سے چلتی تھی تو انہی علاقوں سے رائیڈر شپ ملتی تھی، ریلوے حکام نے ایک طریقے سے اپنی جان چھڑانے کی کوشش کی ہے تاکہ اگر سپریم
کورٹ میں کوئی جواب دہی کی گئی تو کہہ دیا جائے گا کہ ہم نے کوشش کی لیکن مسافر ہی نہیں آرہے تو ہم کیا کرسکتے ہیں۔

۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں