96

پائلٹ نے اڑن طشتری نہیں بادل دیکھا، خلائی سائنسدان جاوید سمیع

پنجاب یونیورسٹی کے خلائی سائنسدان جاوید سمیع نے پاکستانی فضائوں میں اڑن تشتری کا امکان مسترد کردیا ہے، ان
کا کہنا ہے کہ چند روز قبل پاکستانی پائلٹ نے فضاء میں جو چیز دیکھی تھی وہ اڑن طشتری نہیں بلکہ ایک بادل تھا جسے لین ٹیکولر کلاؤڈ( Lenticular cloud) کہا جاتا ہے۔جاوید سمیع کے مطابق جہاز عام طور پر 37 ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کرتے ہیں، سوشل میڈیا پر وائرل ہونیوالی ویڈیو اس وقت بنائی گئی جب پی آئی اے کا جہاز ایک ہزار فٹ کی بلندی پر تھا۔پائلٹ نے فضاء میں ایک بصری عمل کا مشاہدہ کیا، پائلٹ کو نظر آنیوالی شےلین ٹیکولر کلاؤڈ تھا، کمرشل پائلٹ اکثر ایسے بادلوں کا مشاہدہ کرتے ہیں، 500 سے 900 کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار پر اجسام کی تصویر لیں تو ان کی ہئیت پھیل جاتی ہے۔واضح رہے کہ چند دن قبل پی آئی کے پائلٹ نے دوران پرواز سفید چمکتی ہوئی چیز دیکھی تو وڈیو بناکر وائرل جس کردی، جس میں اس کا تاثر اڑن تشتری کا آرہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں