147

ٹرانسپورٹ کی کوئی اسکیم مکمل نہ ہوسکی،2020 کراچی میں وفاق و سندھ کی مایوس کن کارکردگی

گذشتہ سالوں کی طرح 2020ء، میں بھی شہر قائد میں کوئی ٹرانسپورٹ اسکیم مکمل نہیں کی جاسکی ہے ، بس ریپیڈ ٹرانزٹ سسٹم کی اورنج لائن اور گرین لائن ابھی تک مکمل نہیں کی جاسکی ہیں ، ریڈ لائن اور یلولائن پر بھی ترقیاتی کام شروع نہ ہوسکا ، البتہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر کراچی سرکلر ریلوے کو سٹی اسٹیشن تا پیپری مارشلنگ یارڈ تک جزوی طور پر بحال کردیا گیا ہے لیکن کراچی سرکلر ریلوے کے گنجان آبادی والے لوپ کی بحالی نہ ہونے کی وجہ سے شہریوں کو خاطر خواہ فائدہ نہیں پہنچ رہا ہے، بہت کم تعداد کورونا وائرس کی وجہ سے پبلک ٹرانسپورٹ میں شدید کمی واقع ہوگئی ہے، روایتی ٹرانسپورٹرز بھی اپنا کاروبار چھوڑکر دوسرے بزنس میں جارہے ہیں۔میں مسافراس میں سفر کررہے ہیں،
اگرچہ کہ گذرا سال2020ء مختلف وجوھات کے باعث ٹرانسپورٹ سیکٹر کے لیے کوئی بہترسال نہیں رہا لیکن 2021ءکراچی کے شہریوں کے لیے خوش آئند ثابت ہوگا، اس سال شہری ماس ٹرانزٹ کی سہولت سے لطف اندوز ہونگے اور ماہ جون میں بس ریپیڈ ٹرانزٹ کی اورنج لائن اور گرین لائن پر 100نئی بسوں کے ساتھ سفری سہولیات کا آغاز ہوجائیگا،
بہرکیف گذرے سال (2020) میں ٹرانسپورٹ اسکیموں کے حوالے سے وفاقی و سندھ حکومت کی کارکردگی کوئی خاص نہیں رہی بالخصوص سندھ حکومت نے شہرقائد کو چنگچی رکشاﺅں کے حوالے کرکے میٹروپولیٹین کے تشخص کو بری طرح مجروح کیا ہے، کراچی سرکلر ریلوے کی جزوی بحالی کی وجہ سے وفاقی حکومت کی کارکردگی قدرے بہتررہی، سندھ حکومت کی غفلت کی وجہ سے شہر میں ایک بڑی بس کا اضافہ نہیں ہوا ہے بلکہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کی زیر سرپرستی چلنے والی 36سی این جی بسیں بھی سات ماہ قبل بند کردی گئی ہیں، سندھ حکومت نے نجی بس کمپنی ڈائیوسے 2019ء میں ایک ہزار بسوں کا معاہدہ کیا تھا جو2020ءمیں نامعلوم وجوہ پر منسوخ کردیا گیا،
دوسری جانب کووڈ 19 اور سرکاری سرپرستی نہ ہونے کی وجہ سے نجی پبلک ٹرانسپورٹ میں شدید کمی واقع ہوچکی ہے، اور سینکڑوں روٹس بند ہوچکے ہیں ، موجودہ پبلک ٹرانسپورٹ بھیبب ساٹھ سال پرانی ہیں لیکن شہری ا ن خستہ حال پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے پر مجبور ہیں صوبائی حکومت کی غفلت کی وجہ سے شہر میں ہزارو ں کی تعداد میں 9اور 12سیٹوں والے چنگچی رکشا غیرقانونی طور پر پبلک ٹرانسپورٹ کا روپ دھار چکے ہیں لیکن ان کے روٹس طویل فاصلوں کے لیے نہیں ہیںاس لیے شہریوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے اور اپنی منزل مقصول تک پہینچنے کے لیے انھیں دو سے تین چنگچی رکشاﺅں میں سفر کرنا پڑتا ہے جس کے لیے انھیں دوگنا کرایہ ادا کرنا پڑتا ہے،
گرین لائن: وفاقی حکومت کے ادارے سندھ انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹیڈ(ایس آئی ڈی سی ایل) کی زیر نگرانی بس ریپیڈ ٹرانزٹ گرین لائن منصوبہ سرجانی ٹاﺅن عبداللہ موڑ تا میونسپل پارک (جامع کلاتھ مارکیٹٰ) کی تعمیر کا آغاز جنوری 2016ئ میں کیا گیا تھا اور اسے دسمبر 2017ءمیں مکمل کیا جانا تھا تاہم وفاقی حکومت کی سست روی ، ڈیزائین میں ہونے والی بار بار تبدیلی اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے درمیان اختلاف رائے کے سبب یہ منصوبہ تاخیر کا شکار ہے، گرین لائن بس منصوبہ کے فیز ون کا پہلا مرحلہ سرجانی ٹاﺅن تا گرومندر 17کلومیٹر تک محیط ہے، اس مرحلے میں سول ورکس 100 فیصد مکمل ہے، گرین لائن بس منصوبہ کے فیز ون کا دوسرا حصہ نمائش چورنگی انڈر پاس تین سال سے سست روی کا شکار ہے تاہم 2020ءمیں انڈر پاس کی چھت کا کام مکمل کرکے اسے عام ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے، چھت کے نیچے انڈر پاس کا کام بدستور جاری ہے ، دوسال سے تاخیر کا شکار گرین لائن کا فیز ٹو تاج میڈیکل کمپلیکس تا میونسپل پارک پر ترقیاتی کام گذشتہ سال 2020ءمیں ، نومبر میں شروع کیا جاچکا ہے، متعلقہ آفیسر ایس آئی ڈی سی ایل کا کہنا ہے کہ نمائش چورنگی انڈر پاس اور فیز ٹو تاج میڈیکل کمپلیکس تا میونسپل پارک کووڈ 19کی وجہ سے چار ماہ شدید متاثر رہا، نمائش چورنگی انڈر پاس کا کام 2021ء مارچ میں مکمل کرلیا جائے گا، گرین لائن منصوبے کا فیزٹو تاج میڈیکل کمپلیکس تا میونسپل پارک زیر تعمیر ہے اور اسے 12ماہ میں مکمل کیاجانا ہے، متعلقہ آفیسر نے کہا کہ وفاقی حکومت 2021ءجون میں سرجانی تا نمائش چورنگی بس آپریشن شروع کردے گی، وفاقی حکومت نے گرین لائن کے لیے 80بسوں کی خریداری کا ٹینڈر ایوارڈ کردیا ہے، سندھ حکومت کی درخواست پر وفاقی حکومت اسی کنٹریکٹر سے اورنج لائن کے لیے 20بسیں بھی درآمد کریگی تاہم اس کی ادائیگی سندھ حکومت کریگی،
اورنج لائن: اورنج لائن بس منصوبہ سندھ حکومت کے ادارے سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کی زیر نگرانی 2016ءمیں شروع کیا گیا تھا اور اسے ایک سال میں مکمل کیا جانا تھا لیکن ساڑھے چار سال گذرجانے کے باوجود اسے مکمل نہیں کیا جاسکا ہے ۔ کووڈ 19کی وجہ سے منصوبہ پر ترقیاتی کام پانچ ماہ مکمل طور پر بند رہا، سیکریٹری ٹرانسپورٹ شارق احمد کا کہنا ہے کہ اورنج لائن کا ترقیاتی کام تقریباً مکمل ہے، اس کا سول انفرااسٹرکچر 100فیصد مکمل ہے جبکہ اسٹیشن زیر تعمیر ہیں جن میں مکینیکل ورک80فیصد اور الیکٹریکل ورک 40مکمل ہے، انھوں نے کہا کہ 2021ءفروری کے آخر تک یہ دونوں کام بھی مکمل کرلیے جائیں گے، سیکریٹری ٹرانسپورٹ نے کہاکہ اورنج لائن بس منصوبے کی بسوں کی خریداری اور تین سال تک بسیں چلانے کا انتظام وفاقی حکومت کے ادارے ایس آئی ڈی سی ایل کے سپرد کردیا گیا ہے، وفاقی حکومت سے معاہدہ طے پایا جاچکا ہے، اس ضمن میں سندھ حکومت 2ارب روپے بسوں کی خریداری اور بس آپریشنل کے لیے وفاقی حکومت کو ادائیگی کریگی۔انھوں تک کہا کہ معاہدے کے تحت وفاقی حکومت 2021جون تک بسیں درآمد کرکے اورنج لائن اور گرین لائن پر بس آپریشن شروع کردے گی۔
ریڈ لائن : وفاقی و سندھ حکومت کی عدم دلچسپی کے باعث ریڈ لائن بس منصوبہ کئی سالوں سے تاخیر کا شکار رہا تاہم سال2019ء میں کئی اہم پیشرفت ہوئیں، اس سال وفاقی حکمت نے یہ منصوبہ منظور کیا جبکہ عالمی ڈونرز ایجنسیوں نے قرضہ منظور کیا۔ ریڈ لائن بس پروجیکٹ سندھ حکومت کا منصوبہ ہے، وفاقی حکومت نے ساورن گارنٹی دی ہے تاہم قرضے کی ادائیگی سندھ حکومت کو 30سال میں ادا کرنی ہوگی ، ریڈ لائن منصوبے پر 493.5 یو ایس ملین ڈالر آرہی ہے اور اس میں ڈونرز ایجنسیوں آسان شرائط پر قرضہ فراہم کریں گی، یہ منصوبہ ماڈل کالونی تا ٹاو ر تعمیر کیا جائے گا، سیکریٹری ٹرانسپورٹ شارق احمد نے بتایا کہ ریڈ لائن بس منصوبے پر تعمیراتی کام 2021ءمارچ میں شروع کردیا جائے گا اور اسے 24ماہ میں مکمل کرلیا جائے گا،
یلو لائن :یلولائن منصوبہ کووڈ 19اور سندھ حکومت کی روایتی سست روی کی وجہ سے 2020ءمیں شروع نہیں کیا جاسکا ہے۔ یلو لائن داﺅد چورنگی تا نمائش چورنگی 21کلومیٹر پر محیط ہے، منصوبہ کے لیے ورلڈ بینک آسان شرائط پر قرضہ فراہم کررہا ہے، قرصے کی ادائیگی سندھ حکومت کریگی۔یلولائن منصوبہ پر مجموعی لاگت 438.9ملین ڈالر آئیگی جس میں ورلڈ بینک کا شیئر 381.9ملین ڈالر، سندھ حکومت کا شیئر 19.5ملین ڈالر ہوگا جبکہ پرائیوٹ پارٹیز کا شیئر 37.5ملین ڈالر ہوگا، صوبائی محکمہ ٹرانسپورٹ کے ایک آفیسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شر ط پر بتایا کہ یلولائن بس منصوبے کا تفصیلی ڈیزائین تشکیل دیا جارہا ہے جو دسمبر 2021ئ میں مکمل ہوجائے گا تاہم اس دوران کچھ اجزائ( component)کا ڈیزائین مکمل ہو جائے گا جس پر تعمیراتی کام شروع کردیا جائے گا، منصوبہ پر بھرپور طریقے سے تعمیراتی کام 2022ئ میں ہی شروع ہوگا، یہ منصوبہ 2025ءتک مکمل ہوگا، سیکریٹری ٹرانسپورٹ شارق احمد نے کہا ہے کہ یلو لائن کے ڈیزائین کی تیاری کے لیے کنسلٹنٹ کا تقرر کیا جارہا ہے، منصوبے پر تعمیراتی کام 2021کے آخر میں شروع کردیا جائے گا۔
کراچی سرکلر ریلوے:سپریم کورٹ کی ہدایت پر پاکستان ریلوے نے ہنگامی بنیادوں پر کراچی سرکلرریلوے کو 2020نومبر میں جزوی طورپر مین لائن ٹریک سٹی اسٹیشن تا پیپری مارشلنگ یارڈ تک بحال کیا لیکن سرکلر ریلوے کے گنجان آبادیوں والے لوپ کو بحال نہ کیاجاسکا، اردو ٹائمز سروے کے مطابق سٹی اسٹیشن تا پیپری مارشلنگ یارڈ مین لائن ٹریک پر واقع ہے اور یہاں مسافروں کی تعداد زیادہ نہیں ہے، عام دنوں میں نہایت کم تعداد میں مسافرسفرکرتے ہیں جبکہ چھٹیوں والے دن ہفتہ و اتوار کو شہری تفریح کے لیے بڑی تعداد میں سرکلر ریلوے میں سفر کررہے ہیں، پاکستان ریلوے کے متعلقہ افسران کے مطابق سرکلر ریلوے کی مکمل بحالی کے لیے تیزی سے کام جاری ہے، تجاوزات کا خاتمہ کیاجارہا ہے جبکہ اسٹیشنوں کی تزئین وآرائش پر بھی کام جاری ہے، بہت جلد سٹی اسٹیشن تا اورنگی اسٹیشن ریلوے سروس بحال کردی جائیں گی جبکہ دیگر علاقوں میں مرحلہ وار سروس بحال کی جائے گی
کراچی سرکلر ریلوے کے ٹریک پر 24لیول کراسنگ آرہے ہیں جہاں سندھ حکومت مختلف مقامات پر فلائی اوورز اور انڈرپاسز تعمیر کریگی، سیکریٹری ٹرانسپورٹ شارق احمد نے کہا کہ کراچی سرکلر ریلوے کے 11لیول کراسنگ پر فلائی اوورز اور انڈر پاسز تعمیر کیے جائیں گے جس میں ایک فلائی اوور ناظم آباد نمبر 7پر وفاقی حکومت تعمیر کریگی، بقیہ 10 لیول کراسنگ پر سندھ حکومت تعمیرکریگی، اس ضمن میں سندھ حکومت نے 3ارب روپے فنڈز بھی مختص کردیئے ہیں، انھوں نے کہا کہ تعمیراتی کام دو ماہ میں شروع کردیا جائے گا۔
سیکریٹری ٹرانسپورٹ شارق احمد نے کہا کہ پبلک ٹرانسپورٹ کی کمی کے پیش نظر سندھ حکومت نے 26سیٹوں والی منی بسوں سے روٹ پرمٹ کے اجراءکی پابندی اٹھالی ہے، یہ پابندی بشریٰ زیدی کیس کے بعد 1985ءمیں لگائی گئی تھی، ٹرانسپورٹرز کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ 26سیٹوں والی بسیں لائیں ، سندھ حکومت انھیں روٹ پرمٹ جاری کریگی، علاوہ ازیں سندھ حکومت نے پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ کی بنیادوں پر 250نئی بڑی بسیں لانے کی منصوبہ بندی کی ہے جس میں 240بسیں کراچی میں چلیں گی جبکہ 10بسیں لاڑکانہ میں آپریٹ ہونگی، یہ بسیں ماہ جون تک آجائیںگی۔
75سی این جی بسیں: سابق شہری حکومت کے دور میں عوام کو سفری سہولت پہنچانے کے لیے خریدی گئی 75 سی این جی بسوں میں سے 64بسیں کئی عرصے سے خراب پڑی ہیں اور سرجانی ٹاﺅن ڈپو میں گل سڑ رہی ہیں، 10بسیں مختلف سرکاری اداروں کو تحفے میں دی جاچکی ہیں جبکہ ایک بس ہنگامی آرائی میں نذرآتش ہوچکی ہے۔ بلدیہ عظمیٰ کراچی گذشتہ کئی سالوںسے سندھ حکومت سے درخواست کررہی ہے کہ ان بسوں کی مرمت کے لیے فنڈز جاری کیے جائیں لیکن سندھ حکومت نے ان سی این جی بسوں کی مرمت کے لیے صرف ایک بار فنڈز جاری کیے جس سے 36بسیں صحیح کی جاسکیں ۔ یہ بسیں گلشن حدید تا ٹاور چل رہی تھیں لیکن نجی کمپنی سے معاہدہ ختم ہونے کے باعث 7ماہ قبل بند کردی گئیں،
متعلقہ آفیسر نے بتایا کہ گذشتہ ہفتے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت کابینہ اجلاس میں فیصلہ ہوا ہے کہ نجی ٹرانسپورٹ کمپنیوں سے ٹینڈر طلب کیے جائیں گے ، منتخب ہونے والے کمپنی سے پانچ سال کا معاہدہ کیا جائے گا جس کے تحت 64بسوں کو اپنے فنڈز سے بلڈ آپریٹ کی بنیاد پر دوبارہ آپریشنل کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں