80

وفاقی محتسب کشمالہ طارق کے بیٹے کو سری نگر ہائی وے پر ہوئے حادثے کے مقدمے میں نامزد کردیا گیا

اسلام آباد: وفاقی محتسب کشمالہ طارق کے بیٹے کو سری نگر ہائی وے پر ہوئے حادثے کے مقدمے میں نامزد کردیا گیا، گذشتہ روز سری نگر ہائی وے پر کشمالہ طارق کے شوہر اور بیٹے کی گاڑی کی ٹکر سے ہوئے حادثے میں 4 نوجوان جاں بحق ہوگئے تھے۔گاڑی کی ٹکر کے حادثے میں جاں بحق ہونے والے چاروں نوجوان مانسہرہ سے اے این ایف کا ٹیسٹ دینے کے لیے اسلام آباد آئے تھے۔واقعے کی سی سی ٹی وی ویڈیو سامنےآگئی جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پروٹوکول کی تیز رفتار گاڑیوں نے سگنل توڑا۔ایک گاڑی میں کشمالہ طارق کے شوہر اور بیٹا سوار تھے، واقعے کے بعد گاڑی کے ڈرائیور نے گرفتاری دے دی ہے۔دوسری طرف وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بھی اس حادثے کی بازگشت سنائی دی، وزیراعطم عمران خان نے اسی تناظر میں وفاقی وزراء اور دیگر کو ملی اضافی سیکیورٹی کی تفصیلات طلب کرلیں۔دوران اجلاس عمران خان نے وفاقی وزراء و دیگر سے اضافی سیکیورٹی فوراً واپس لینے کی ہدایت بھی کی۔دریں اثناء کشمالہ طارق کے بیٹے نے عبوری ضمانت کروالی، ایڈیشنل سیشن جج محمد سہیل نے کشمالہ طارق کے بیٹے اذلان کی عبوری ضمانت منظور کرلی ہے اور پولیس کو ملزم کوگرفتار کرنے سے روک دیا ہے۔کشمالہ طارق کے بیٹے اذلان کی ضمانت 50 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض 16 فروری تک کےلیے منظور کی گئی ہے۔وفاقی محتسب برائے ہراسانی کشمالہ طارق نے کشمیر ہائی وے پر ہونے والے حادثے کے حوالے سے بیان جاری کردیا ہے ۔ کشمالہ طارق کا کہنا ہے کہ کشمیر ہائی وے پر پیش آنے والے حادثے کے موقع پر وہ اور اُن کے شوہر ایک گاڑی میں تھے جبکہ بیٹا پیچھے دوسری گاڑی میں تھا۔انہوں نے کہاکہ زبردستی سارا مدعا میرے بیٹے کے سرڈالا جارہا ہے، حقیقت یہ ہے کہ گاڑی ڈرائیور سے کنٹرول نہیں ہوئی۔وفاقی محتسب برائے ہراسانی نے مزید کہاکہ حادثے کے بعد ہم بھاگے نہیں، ہم نے ہی ایمبولینس بلوائی، میرا بیٹا اور شوہر سب ہی تھانے گئے تھے۔اُن کا کہنا تھا کہ جو حادثہ رونما ہوا وہ بہت ہی خوفناک تھا، جو بچے جان سے گئے اُن کے لیے دل بہت پریشان ہے، ہم خود بچوں والے ہیں، مرنے والوں کے ساتھ انصاف ہوگا لیکن ناحق کسی کے بچے کو نہ لپیٹیں۔کشمالہ طارق نے مزید بتایا کہ کل لاہور سے شام 7 بجے کے قریب نکلے، ہم نے ساڑھے10 بجےکے قریب ٹول پلازہ کراس کیا، ہم 2 گاڑیوں میں سوار تھے۔انہوں نے واقعے کی روداد سناتے ہوئے یہ بھی کہاکہ میں اور میرے شوہر ایک گاڑی میں تھےجبکہ پچھلی گاڑی میں میرا بیٹا تھا جب ہم کشمیر ہائی وے پر پہنچے تو ایک دم ہمیں جھٹکا لگا اورچوٹ لگی۔
اس موقع پر ڈرائیور سے گاڑی کنٹرول نہیں ہوسکی اور یہ خوفناک حادثہ پیش آیا،ہم خود بچوں والے ہیں، حادثے کے شکار بچوں کے لیے بہت پریشان ہیں۔ان کا کہنا تھاکہ مجھے سمجھ نہیں آرہا یہ کس قسم کا میڈیا ٹرائل ہے، اس حادثے کی سی سی ٹی ویڈیو دیکھی جائے، اگر ہمارا قصور ہے یا ہم ڈرائیو کررہے ہوں تو ہم ہاتھ جوڑکر معافی مانگیں گے۔کشمالہ طارق نے مزید کہاکہ میرے بیٹےکی تصویریں دکھائی جارہی ہیں جبکہ وہ پچھلی گاڑی میں سوار تھا، غلط رپورٹنگ نہ کریں جو سچ ہے وہ دکھائیں، یہ بہت بڑا حادثہ تھا میرے پاس کوئی الفاظ نہیں ہیں، انسانی جانوں کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں