52

وزیراعظم پیکیج میں کے فور کے لیے 110ارب منظور، کراچی میں پانی کا مسئلہ تین سال میں حل ہوگا

وزیر اعظم پاکستان عمران نے ہفتہ کو کراچی دورے کے موقع پر کراچی کی ترقی کے لیے 1113 ارب روپے کے ترقیاتی پیکج کا اعلان کیا ہے، ترقیاتی پیکیج کے تحت مختلف منصوبوں پر عملدرآمد کیا جائے گا، ترقیاتی پیکیج کے تحت `110ارب روپے فراہمی آب کے منصوبوں میں رکھے گئے ہیں، ترقیاتی پیکیج میں فراہمی آب کا میگا منصوبہ KIVٰفیز ون کے لیے 80 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، کے فور منصوبہ گذشتہ دو سال سے مختلف مالی اور ڈیزائین کے امور پر تنازعات کا شکار ہے اور ترقیاتی کام ایک سال سے بند پڑا ہے، کراچی کے شہری اس منصوبے کے بروقت مکمل نہ ہونے کے باعث پانی کے بدترین بحران کا سامنا کررہے ہیں، ہفتہ کے روز وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے کراچی کا سب سے بڑا مسئلہ قلت آب کو قرار دیا ہے، اپنی تقریر میں انھوں نے شہریوں کو خوشخبری دی ہے کہ کے فور منصوبے کا ایک حصہ صوبائی جبکہ دوسرا حصہ وفاقی حکومت لے گی اور اسے جلد از جلد مکمل کر کے آئندہ 3 برس میں کراچی کا پانی کا مسئلہ مستقل طور پر حل کردیا جائے گا، ماہرین کا کہنا ہے کہ کے فور منصوبے میں تین بڑی رکاوٹیں تھیں، کے فور کا روٹ ، ڈیزائین اور تعمیراتی مالیت میں اضافہ ۔ روٹ کا مسئلہ تین ماہ قبل حل ہوچکا ہے، ڈیزائین میں ترمیم کے لیے کنسلٹنٹ عثمانی اینڈ کمپنی کو دو ماہ کا وقت دیا ہے جس میں ایک ماہ گذرچکا ہے جبکہ مالی امور کا معاملہ وزیراعظم پاکستان نے کراچی پیکیج کا اعلان کرکے حل کردیا ہے، ایکسپریس ٹریبیون نے KIVمنصوبے کے بیک گراﺅنڈ کی تفصیلات جمع کی ہیں جس کے تحت کے فور منصوبہ مالی و تیکنیکی امور میں تنازعات کے باعث گذشتہ ایک سال سے بند پڑا ہے تاہم چند ماہ قبل اہم پیشرفت ہوچکی ہے اور منصوبہ میں حائل رکاوٹیں بتدریج حل ہونے کی جانب گامزن ہیں، کے فور منصوبے پر عملدرآمد کے لیے جو گائیڈ لائن اختیار کی گئی ہے وہ کے فور کے روٹ تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ ہے، یہ ایک اچھا اور مثبت فیصلہ ہے ، کیونکہ اگر روٹ میں تبدیلی کی جاتی ہے تو یہ منصوبہ پانچ سال موخر ہوجائے گا، واضح رہے کہ کے فور کے کنسلٹنٹ عثمانی اینڈ کمپنی کے تشکیل کردہ روٹ اور ڈیزائین پر مختلف انجیئنرنگ اعتراضات تھے ، منصوبہ کی مالیت میں بھی غیرمعمولی اضافہ ہوچکا تھا، ان امور کو حل کرنے کے لیے چھ ماہ قبل سندھ حکومت نے نیسپاک کو ٹاسک دیا تھا کہ عثمانی اینڈ کمپنی کے تشکیل کردہ ڈیزائین پر نظر ثانی رپورٹ تیارکی جائے، تین ماہ قبل نیسپاک نے جو رپورٹ جمع کرائی اس نے مسئلہ حل کرنے کے بجائے ایک نیا پنڈورا بکس کھول دیا، نیسپاک نے اپنی سفارشات میں کے فور کے روٹ میں تبدیلی لازمی قرار دی ، ڈیزائین میں بھی تبدیلی ناگزیر ٹھہرائی جبکہ روٹ میں تبدیلی کی وجہ سے تعمیراتی مالیت بھی کئی گنا اضافہ کردیا، اب سندھ حکومت نے اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے مزید ایک ٹیکنیکل کمیٹی قائم کی جس میں نامور انجئینرز، آرکیٹیکٹ، این ای ڈی کے پروفیسرز اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو جمع کیا گیا، ان تمام ماہرین نے بہ نظر غائر نیسپاک کی رپورٹ پر غور کرکے یہ فیصلہ دیا کہ کے فور کے روٹ میں تبدیلی نہیں کی جائے گی تاہم نیسپاک کی سفارشات کے تحت ڈیزائین میں حائل رکاوٹوں کو انجینئنرنگ بنیادوں میں حل کیا جائے گا،کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے افسران کے مطابق کے فور کے کنسلٹنٹ عثمانی اینڈ کمپنی کو ڈیزائین میں ترمیم کے لیے دو ماہ کا وقت دیا گیا تھا جس میں ایک ماہ گذرچکا ہے اور اب ایک ماہ میں عثمانی اینڈ کمپنی کو فائنل ڈیزائین جمع کرانا ہے، پروجیکٹ کے متعلقہ انجئینرز نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ KIV منصوبہ کا سنگ بنیاد 2016ئ میں رکھا گیا اور اسے دو سال میں مکمل کیا جانا تھا تاہم چار سال گذر جانے کے باوجود اس کا صرف 20فیصد کام ہی کیا جاسکا ہے، KIV منصوبہ 260ملین گیلن ڈیلی پر مشتمل ہے جس کے لیے کیبجھر جھیل سے کراچی 121کلومیٹر تک نہری نظام تعمیر کرنا ہے، منصوبہ کے مکمل نہ ہونے سے کراچی میں جاری بدترین پانی کا بحران حل نہیں ہوسکا ہے، کراچی میں بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر پانی کی ضرورت 1200ملین گیلن ڈیلی تاہم فراہمی صرف 420ملین گیلن ہورہی ہے۔کے فور فیز ون کی تکمیل سے پانی کے بحران میں کمی ضرور آئے گی لیکن یہ بحران مکمل طور پر حل نہیں کیاجاسکے گا، اس کے لیے ضروری ہے کہ کے فور کے مزید دو فیز مکمل کیے جائیں۔واضح رہے کہ کے فور منصوبہ مجموعی طور پر 650 ایم جی ڈی کا ہے جس میں کے فور فیز ون 260 ملین گیلن ڈیلی (ایم جی ڈی) ، فئز ٹو 260ایم جی ڈی اور فیز تھری 130ایم جی ڈی کا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں