152

ملک میں غربت اور بے روزگاری بڑھ رہی ہے، سرکاری ادارے1800ارب روپے کا سالانہ نقصان کرتے ہیں، معاشی تجزیہ کارفرخ سلیم

معاشی تجزیہ کار ڈاکٹر فرخ سلیم نے کہا ہے کہ پبلک سیکٹر انٹرپرائزز تقریباً1800ارب روپے کا سالانہ اس ملک کا نقصان کرتے ہیں اور یہ مسلسل بڑھ رہا ہے، ان خیالات کا اظہار انھوں نے جیوکے پروگرام ’’جرگہ‘‘میں میزبان سلیم صافی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، انھوں نے کہا کہ جن ممالک میں رشوت ستانی بڑھتی ہے وہاں غربت اور بے روزگاری بھی بڑھ جاتی ہے، یہ بات ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نہے کہی ہے، عالمی ادارے حساب کتاب کے نتیجے میں آپ کو بتاتے ہیں کہ کسی ملک میں رشوت ستانی اور کرپشن کہاں تک پہنچ رہی ہے ۔ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کا کرپشن پر انڈیکس نکالنے کا مطلب یہ ہے کہ ملکوں کو وارننگ دی جائے کہ آپ کہ ہاں کرپشن بڑھ رہی ہے۔

نے کہا کہ عالمی ادارے حساب کتاب کے نتیجے میں آپ کو بتاتے ہیں کہ کسی ملک میں رشوت ستانی اور کرپشن کہاں تک پہنچ رہی ہے ۔ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کا کرپشن پر انڈیکس نکالنے کا مطلب یہ ہے کہ ملکوں کو وارننگ دی جائے کہ آپ کہ ہاں کرپشن بڑھ رہی ہے اور اس کے نتیجے میں غربت، بیروزگاری بڑھ جائے گی تو آپ خدارا اس کو کم کرنے کا کوئی اقدام اٹھائیں۔
پاکستان کے حوالے سے انہو ں نے چار اداروں کا خصوصاً نام بتایا ہے جن میں پولیس سرفہرست ہے۔ترقیاتی فنڈز میں بھی بڑی کرپشن پائی جاتی ہے۔پبلک سیکٹر انٹرپرائززتقریباً1800 ارب روپے کا سالانہ اس ملک کا نقصان کرتے ہیں اور یہ مسلسل بڑھ رہا ہے اس کے کچھ عنصر کرپشن کی نظر ہوجاتا ہے اور کچھ نا اہلی نکل جاتی ہے۔جن سیکٹرز میں کرپشن ہورہی تھی ان سیکٹرز میں کرپشن کی روک تھام کے لئے پی ٹی آئی کی حکومت نے کوئی نئے اقدامات نہیں اٹھائے۔اس کابینہ میں مفادات کا تضاد اتنا زیادہ نظر آتا ہے جتنا پہلی حکومتوں میں نظر نہیں آتا تھایعنی کے آپ کا کاروبار بھی وہی ہے جس کا آپ کو وزیر بنا دیا جاتا ہے۔
گندم، چینی، بجلی کی رپورٹیں آئیں مگر ہمیں ابھی تک یہ پتہ نہیں ہے کہ ان رپورٹوں کے نتیجے میں کوئی کارروائی کی گئی یا کسی کو گرفتار کیا گیا یا ایسے اقدامات اٹھائے گئے کہ مستقبل میں ایسا نہ ہو۔حکومت کوکرپشن کو کم کرنا ہے تو صوابدیدی اختیارات کم کرنا ہوگا اور احتساب کے عمل کو مضبوط کرنا ہوگا۔ہمارے ہاں حکومت اور اپوزیشن کا فوکس ایک دوسرے کو تباہ کرنے پر ہے۔
جب تک سیاسی استحکام ملک میں نہیں لا پائیں گے ہماری معاشی ترقی کے ریٹ میں بہتری نہیں آ پائے گی۔
سینئر صحافی عمر چیمہ نے کہا کہ یہاں مسئلہ ایمانداری سے زیادہ اہلیت کا ہے ۔ عمر چیمہ نے کہا کہ جس طریقے سے ہیومن رائٹس کی رپورٹس آتی ہیں اسی طرح ٹرانسپرنسی کی بھی آتی ہے اور ضروری نہیں وہ ہر چیز میں آن گرائونڈ خود شامل ہوں وہ دوسروں کی رپورٹس کو استعمال کرتے ہیں مثلاً ورلڈ بینک کی رپورٹ ہو پیپرا کے بارے میں کوئی شکایات آرہی ہیں یا ملک میں کرپشن کے حوالے سے جو سروے ہوئے ہیں اس مجموعی صورت حال کا جائزہ لیتے ہیں اور خصوصی طور پر لوگ اپنے ملک کے بارے میں بدعنوانی کے حوالے سے کیا سوچتے ہیں۔یہاں پر مسئلہ یہ ہے کہ ہماری اسٹوریز کو ہتھیار کی طرح استعمال کیا جاتا ہے اب جو جس کے مفاد میں ہے وہ اس اسٹوری کو لے لیتا ہے پاکستان میں جو احتساب ہوا ہے یہ کوئی اچھی مثال نہیں ہے اس کا جو سب سے بڑا نقصان ہے اگر کسی نے کرپشن کی بھی ہے مطلب جو ہمارے ساتھ ہیں وہ صحیح ہیں ہمارے مخالف کرپٹ ہیں۔
ہمارے ہاں قانون کے ذریعے حکمرانی ہوتی ہے قانونی کی حکمرانی نہیں ہوتی۔ اگر ٹاپ لیڈرشپ کی ایمانداری کو معیار رکھا جائے تو میں یہاں کہنا چاہوں گا نوازشریف کے کیس میں ایک ایک چیز کی تصدیق کی گئی ہے یہاں تک کے قطر کے خط کی بھی تصدیق کرائی گئی ہے اور اعتراضات آئے ہیں۔ دوسری طرف عمران خان کے کیس میں کسی چیز کی تصدیق نہیں کی گئی فرض کرلیں ایک بینک کی اسٹیٹمنٹ آئی ہے اب کیا یہ بینک نے جاری کی ہے بینک سے آپ نے پتہ کیا ہے وہ چیزیں نہیں ہوئیں وہاں صادق اور امین کا ٹائٹل دیا گیا، یہاں مسئلہ ایمانداری سے زیادہ اہلیت کا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں