62

مادہ ٹائیگر ہلاک ، کراچی چڑیا گھر کو ملنے والے شیر آئندہ ہفتے تک موخر، شہری مایوس

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ وائلڈ لائف کی جانب سے کراچی چڑیا گھر کو ملنے والے چھ شیروں میں سے ایک مادہ ٹائیگر ہلاک ہوگئی ہے جس کی وجہ سے بقیہ شیروں کی منتقلی چند دنوں کے لیے موخر کردی گئی ہے،، شیر وں کی جوڑی دیکھنے کے لیے شہریوں کی بڑی تعداد آج کراچی زو پہنچی ہوئی تھی تاہم ان کے نہ آنے کی اطلاع پر شدید مایوس ہوئی،
تفصیلات کے مطابق سندھ وائلڈ لائف کی جانب سے 14اگست پاکستان کی 73ء ویں آزادی کی خوشی کے موقع پر کراچی چڑیا گھر کو چار شیر اور دو سائبرین ٹائیگر حوالے کیے جانے تھے ، جنگل کے بادشاہوں اور ملکاﺅں کو غیرقانونی طور پر ایک منی زو میں رکھا گیا تھا جو گذشتہ دنوں سوشل میڈیا میں ایک وڈیو وائرل ہونے کے بعد سندھ وائلڈ لائف نے ضبط کیے تھے تاہم جمعہ کے روز جب متعلقہ حکام انھیں منتقل کرنے کے لیے گلشن عظیم میں واقع منی زو پہنچے تو وہاں ایک مادہ ٹائیگر کو مردہ پایا ، اس موقع پر سندھ وائلڈ لائف کے حکام نے نمائندہ اردو ٹائمز کو بتایا کہ ایک مادہ ٹائیگر جو کہ حاملہ تھی وہ مرچکی ہے جبکہ دیگر دو شیرنیاں بھی حاملہ ہیں، منتقلی کے لیے مادہ شیرنیوں کو بے ہوش نہیں کیاجاسکتا ، ایسی صورت میں ان کی زندگیاں خطرے میں پڑجائیں گی، شیرنیوں کی منتقل کرنے کے لیے خصوصی انتظام کیا جائے گا ، البتہ شیروں کو بے ہوش کرکے منتقل کیا جاسکتا ہے، بہرکیف ان تمام شیروں کی منتقلی اگلے ہفتے تک موخر کردی گئی ہے، سندھ وائلڈ لائف کے مطابق یہ تمام شیر گلشن حدید کے قریب گلشن عظیم میں واقع منی زو میں غیرقانونی طور پر رہائش پذیر تھے ، گذشتہ دنوں دو شیر پنجرے سے نکل کر ایک مدرسے کے قریب احاطے میں آگئے تھے جس کی وڈیو وائرل ہونے کے بعد سندھ وائلڈ لائف نے قانون کے مطابق کارروائی کی۔سندھ وائلڈ لائف کے انسپکٹر نے اردو ٹائمز کو بتایا کہ تمام شیر اپنے مالک کے پالتو ہیں تاہم رہائشی علاقوں میں درندے رکھنا قانوناً جرم ہے اس لیے انھیں ضبط کیا جارہا ہے ، منی زو میں شیروں کی اطلاع ملتے ہی شہری یہ شیر دیکھنے کے لیے پہنچے ، ان اجنبی لوگوں کی آمد کی وجہ سے تمام جانور کچھ ڈسٹرب ہوگئے ہیں ان جانوروں کے پرسکون ہوتے ہی انھیں کراچی چڑیا گھرشفٹ کردیا جائےگا، توقع ہے کہ اگلے ہفتے ان کی منتقلی کراچی چڑیا گھر کر دی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں