13

عمرشریف لیاقت آباد میں نہیں رنچھوڑلین میں واقع سوسالہ قدیم عمارت میں پیدا ہوئے، مداحین کا مطالبہ ہے کہ اس عمارت کو قومی ورثہ قرار دیا جائے،

برصغیر پاک و ہند کے عظیم مزاحیہ اداکار عمر شریف گذشتہ دنوں اس جہاں فانی سے کوچ کرگئے، ان کی جا ئے پیدائش عموما لیاقت آباد سمجھی جاتی ہے جو کہ غلط مفروضہ ہے، فرزند کراچی عمرشریف کی جنم بھومی رنچھوڑ لین کا علاقہ اسلام پورہ ہے جس کا قدیم نام ڈرمیسی واڑہ تھا، جس عمارت میں مزاح کے بادشاہ عمر شریف کی ولادت ہوئی وہ سوسال پرانی ہے جو اسوقت انتہائی خستہ حالی کا شکار ہے، اس عمارت کا نام ڈیڑھیا فلیٹ ہے، جو بلاشبہ پشاور میں واقع دلیپ کمار اور راج کپور کے گھروں کے طرح قومی ورثہ قرار دیئے جانے کے مستحق ہے،
قارئین کرام، عمرشریف نے انتہائی غربت میں اس عمارت میں آنکھ کھولی، کم عمری میں ہی ان کے والد کا انتقال ہوگیا تھا، لیکن قدرت نے انھیں مزاح کا اعلی ذوق عطاکیا تھا جس کی وجہ سے کراچی کی تنگ و تاریک گلیوں میں پرورش پانے والا یہ بچہ ہندوستان و پاکستان اور جہاں جہاں اردو سمجھی جاتی ہے وہاں بلاشرکت غیرے قہقوں کے بے تاج بادشاہ کا اعزاز حاصل کرنے میں کامیاب ہوا،
ناظرین عمر شریف بچپن سے ہی شرارتی اور لاابالی طبعیت کے مالک تھے،، ان کی والدہ نے انھیں اسکول میں داخل کروایا لیکن ان کا پڑھائی میں دل نہ لگا، وہاں بھی نت نئی شرارتیں کرتے نظر آتے، عمرشریف کو ہنر مند بنانے کے لیے مختلف کارخانوں میں بھی بیٹھایا گیا لیکن عمر شریف وہاں بھی دل نہ لگاسکے،
عمر شریف پیدائشی ادکار تھے، ندرتی خیالات کے ساتھ وہ دوستوں کو ایسے لطیفے سناتے کہ قہقہے روکنا ان کے لیے مشکل ہوجاتا، مختلف اداکاروں اور سیاست دانوں کی ہو بہو نقل اتارنے میں انھیں ملکہ حاصل تھا، ان کے دوستوں کے مطابق انتہائی کم عمری میں اسکول کے ایک پروگرام میں سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی ایسی نقل اتاری کہ اس کی گونج جب قریبی تھانے میں پہنچی تو پولیس والوں کی دوڑیں لگ گئی کہ علاقے میں ذوالفقار علی بھٹو آگئے ہیں،
قارئین کرام، عمرشریف کو اپنے علاقے کے مارواڑی ہوٹل کی ملائی والی چائے بہت پسند تھی، یہ ہوٹل آج بھی قائم ہے لیکن ماروڑای مالکان کے بجائے ہوٹل کے مالک اب ایک پختون ہیں جنہوں نے ابھی تک اس کا نام تبدیل نہیں کیا ہے اور ہوٹل کا نام بدستور ملواڑی(مارواڑی) ہوٹل ہی ہے،
عمر شریف جس عمارت میں پیدا ہوئے وہ ڈیڑھیا فلیٹ کہلاتی ہے، یہ عمارت حاجی فتح پور کمپاؤنڈ میں واقع ہے، فلیٹ میں ایک بڑا کمرہ اور ایک چھوٹا کمرہ ہے جس کی وجہ سے اسے ڈیڑھیا فلیٹ کہا جاتا ہے، یہ عمارت کراچی کے گنجان علاقے رنچھوڑ لائن میں واقع ہے جس کے اطراف میں رام سوامی اور عثمان آباد کے علاقے ہیں،
قارئین کرام یہ عمارت انگریزوں کے دور میں سو سال قبل تعمیر ہوئی، اسوقت انتہائی خستہ حالی کا شکار ہے۔ عمارت میں 29فلیٹ ہیں اور تقریبا سب ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، بالخصوص عمر شریف کا گھر جس میں اب کوئی دوسری فیملی رہتی ہے، بدترین حالت میں ہے، سامنے کا فرنٹ پورشن منہدم ہوچکا ہے جبکہ داخلی راستہ بھی خستہ حالی کا شکار ہے، عمارت کے اندر صفائی کے انتظامات انتہائی ناقص ہیں اور جگہ جگہ کچرا و ملبہ بکھرا پڑ ا ہے، عمرشریف کے مداحین کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ اس قدیم عمارت میں عمر شریف نے 22 سال کا عرصہ گذارا اس لیے اس عمارت کو قومی ورثہ قرار دیا جائے، حکومت عمر شریف کے گھر کو اپنی تحویل میں لیکر میوزیم قائم کرے اور اطراف کے فلیٹوں کی تعمیر ومرمت کی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں