60

سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ ایک ماہ سے بند، 460ایم جی ڈی سیوریج بغیرٹریٹ سمندرمیں ڈالاجارہا ہے

کراچی : گذشتہ ماہ ہونے والی طوفانی بارشوں سے شہر کے سیوریج کی صفائی کے لیے واحد آپریشنل ٹریٹمنٹ پلانٹ بھی ایک ماہ سے بند پڑا ہے، سپریم کورٹ کی ہدایت پر ماڑی پور پر واقع ٹریٹمنٹ پلانٹ تھری ڈیڑھ سال قبل فعال کیا گیا تھا لیکن حالیہ بارشوں نے جہاں پورے شہرمیں تباہ کاریاں مچائیں وہاں TPIIIبھی زیر آب آگیا، مون سون کی بارشوں کے سیلابی پانی نے ٹریٹمنٹ پلانٹ تھری (TPIII) کی مشینری کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے جس کی وجہ سے مشینوں نے کام کرنا چھوڑدیا ہے، ٹی پی تھری کے ذریعے 77ایم جی ڈی کو ٹریٹ کرکے سمندر میں پھینکا جارہا تھا لیکن ٹریٹمنٹ پلانٹ کے بند ہونے کے باعث اب کراچی کا تمام سیوریج واٹر 460ایم جی ڈی بغیر ٹریٹ ہوئے سمندر میں ڈالا جارہا ہے اور سمندری حیاتیات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق 2008ءمیں کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے تین ٹریٹمنٹ پلانٹس ٹی پی ون ، ٹی پی ٹو اور ٹی پی تھری کی مشینریز کی آپریشنل مدت پوری ہوگئی جس کے سبب تینوں ٹریٹمنٹ پلانٹس بند ہوگئے اور کراچی کا تمام سیوریج واٹر بغیر ٹریٹ کیے سمندر میں ڈالا جانے لگا، کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ نے ٹریٹمنٹ پلانٹس کے احیاء اور لیاری وملیر ندی میں ٹرانسمیشن لائن کی تنصیب کے لیے ایس تھری منصوبہ تشکیل دیا۔2012ءمیں وفاقی و صوبائی حکومتوں نے اس منصوبے کو منظور کیا جس کے تحت وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کو مساوی 50فیصد فنڈز ادا کرنا ہیں۔ اس منصوبہ پر تعمیراتی کام 2013 ء میں ہوا اور اسے دو سال میں مکمل کیا جانا تھا لیکن ایس تھری منصوبہ کی لاگت میں اضافے کے باعث سات سال تک وفاقی و صوبائی حکومتوں کے درمیان یہ منصوبہ متنازعہ بنا رہا جس کی وجہ سے منصوبے کے فیز ٹو پر ترقیاتی کام شروع ہی نہ ہوسکا، فیز ون کا بیشتر کام ہوچکا ہے اور لیاری ندی پر ٹرانسمیشن لائن کی تنصیب کا نصف کام بھی مکمل ہوچکا ہے لیکن ٹریٹمنٹ پلانٹس ابھی تک غیر فعال ہیں،
واضح رہے کہ سپریم کوریٹ کی ہدایت پر کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ نے 2018ءمیں ماڑی پور پر واقع ٹریٹمنٹ پلانٹ تھری (TPIII کی نئی مشینری نصب کردی تھی اور کچھ پرانی مشینری کو کارآمد بنادیا گیا تھا۔اس منصوبے کا افتتاح سپریم کورٹ آف پاکستان کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے 22جولائی 2018ءکو کیا تھا، ٹی پی تھری کی پرانی مشینری کی بحالی اور کچھ نئی مشینوں کی تنصیب سے 77ملین گیلن یومیہ سیوریج ٹریٹمنٹ کرکے ڈیڑھ سال سے سمندر میں جاتا رہا جبکہ 383ایم جی ڈی سیوریج بدستور بغیر ٹریٹ کیے سمندر میں جارہا تھا۔
واٹر بورڈ کے ذرائع کے مطابق نجی کنٹریکٹر ٹی پی تھری کا یہ سسٹم تقریبا ڈیڑھ سال سے چلارہا ہے، اس دوران کنٹریکٹر کے واجبات کی عدم ادائیگی اور دیگر وجوھات کی بناءپر ٹریٹمنٹ پلانٹ تین بار عارضی طور بند بھی ہوا لیکن واٹر بورڈ کی درخواست پر دوبارہ فعال کردیا گیا تاہم اس بار ٹریٹمنٹ پلانٹ کی بندش ایک ماہ سے جاری ہے ، ذرائع نے بتایا کہ واٹر بورڈ اور کنٹریکٹر کے معاہدے کی مدت مکمل ہوچکی ہے اور کنٹریکٹر نے یہ سسٹم واٹر بورڈ کو حوالے کرنے کے لیے خط بھی ارسال کردیا ہے،
پروجیکٹ ڈائریکٹر حنیف بلوچ نے بتایا کہ اگست کو ہونے والی طوفانی بارشوں کے سبب ٹی پی تھری زیر آب آگیا اور اس کا الیکٹریکل سسٹم مکمل طور ناکارہ ہوگیا جبکہ مکینیکل سسٹم درست رہا، انھوں نے کہا کہ ٹی پی تھری کا آپریشنل سسٹم 20دن سے بند پڑا ہے، مون سون بارشوں کی بندش کے دوران الیکٹریکل کا نظام درست کردیا گیا ہے، لیکن ٹی پی تھری کے مقام پر ابھی بھی سیلابی پانی موجود ہے جس کے باعث ابھی مشینری فعال نہیں کی گئی ہے، انھوں نے کہا کہ طوفانی بارشوں کے دوران سمندری پانی بھی ٹی پی تھری کے ٹینکوں میں گھس آیا اور اب بتدریج ڈی واٹرنگ کی جارہی ہے، پیر کے روز بھی بارش ہوئی ہے جس کے سبب ڈی واٹرنگ کا عمل روک دیا گیا ہے، بارش ختم ہوتے ہی ڈی واٹرنگ شروع کردی جائے گی اور جلد ہی مشینری فعال کرکے دوبارہ 77ایم جی ڈی ٹریٹ کرکے سمندر میں ڈالاجائے گا، حنیف بلوچ نے کہا کہ کنٹریکٹر نے ٹی پی تھری کا اپریشنل سسٹم واٹر بورڈ کے حوالے کرنے کے لیے لیٹر ارسال کردیا ہے ، واٹر بورڈ کے اعلیٰ حکام اس کے بارے میں فیصلہ کریں گے، ابھی یہ سسٹم کنٹریکٹر ہی چلارہا ہے، حنیف بلوچ نے کہا کہ حالیہ وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے کراچی پیکیج کے اعلان میں سیوریج کے منصوبوں میں خاطر خواہ فنڈز مختص کیے گئے ہیں تاہم ابھی تک یہ وضاحت نہیں ہوئی ہے کہ ایس تھری منصوبے کے لیے کتنا فنڈز مختص کیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں