47

سیاسی بھرتیاں او ر کوٹہ سسٹم ، کراچی میں یلو لائن منصوبہ تاخیر کا شکار

کراچی میں شہریوں کو سفری سہولیات فراہم کرنے کیلئے بس ریپیڈ ٹرانزٹ سسٹم کا یلولائن منصوبہ کووڈ 19، کوٹہ سسٹم اور سیاسی بنیادوں پر ہونے والی بھرتیوں کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوگیا ہے۔ منصوبے کا آغاز رواں سال شروع ہوجانا چاہیے تھا لیکن سندھ حکومت کی روایتی نااہلی کی وجہ سے یہ منصوبہ بروقت شروع نہیں کیا جاسکا ہے اور ا ب اس پرتعمیراتی کام اگلے سال شروع کیا جائے گا اور تین سال میں مکمل ہوگا۔
واضٓح رہے کہ وزیر اعظم پاکستان کے اعلان کردہ کراچی پیکیج میں بھی یلولائن منصوبہ شامل ہے لیکن صوبائی محکمہ ٹرانسپورٹ کے اعلیٰ حکام کے مطابق کراچی پیکیج میں اس منصوبے کی شمولیت سے کوئی فرق نہیں پڑیگا کیونکہ یلولائن پروجیکٹ پہلے سے ہی زیر کارروائی ہے اور اس میں وفاقی حکومت کی کوئی فنڈنگ شامل نہیں ہے، یہ منصوبہ مکمل طور پر سندھ حکومت کا ہے البتہ ورلڈ بینک آسان شرائط پر قرضہ فراہم کررہا ہے، قرصے کی ادائیگی بھی سندھ حکومت کریگی۔یلولائن منصوبہ پر مجموعی لاگت 438.9ملین ڈالر آئیگی جس میں ورلڈ بینک کا شیئر 381.9ملین ڈالر، سندھ حکومت کا شیئر 19.5ملین ڈالر ہوگا جبکہ پرائیوٹ پارٹیز کا شیئر 37.5ملین ڈالر ہوگا،
صوبائی محکمہ ٹرانسپورٹ کے ایک آفیسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شر ط پر بتایا کہ کراچی میں ماس ٹرانزٹ منصوبوں پر عملدرآمد کے لیے چار سال قبل سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کا قیام عمل میں لایاگیا تھا لیکن اس ادارے میں بیشتر آسامیوں پر سیاسی بنیادوں پر بھرتیاں کی گئیں جس کی وجہ سے تعینات ہونے والے انجئینرز اور دیگر اسٹاف میں وہ معیاری قابلیت نہیں ہے جو ماس ٹرانزٹ جیسے میگا منصوبوں پر عملدرآمد کے لیے درکار ہے، چند افسران ہی وہ مطلوبہ قابلیت رکھتے ہیں جن کے کاندھوں پر تمام کاموں کا بوجھ لاد دیا جاتا ہے، نتیجتاً تمام اہم منصوبوں پر ہونے والی کارروائی سست روی کا شکار ہوجاتی ہے، علاوہ ازیں کووڈ19کی وجہ سے چار ماہ ہونے والے لاک ڈاﺅن سے بھی دفتری امور شدید متاثر رہے۔
صوبائی محکمہ ٹرانسپورٹ کے ذرائع کے مطابق یلولائن بس منصوبے کا تفصیلی ڈیزائین تشکیل دیا جارہا ہے جو دسمبر 2021ءمیں مکمل ہوجائے گا تاہم اس دوران کچھ اجزا ء ( component)کا ڈیزائین مکمل ہو جائے گا جس پر تعمیراتی کام شروع کردیا جائے گا، منصوبہ پر بھرپور طریقے سے تعمیراتی کام 2022ء میں ہی شروع ہوگا، یہ منصوبہ 2025ءتک مکمل ہوگا،
یلولائن کے ابتدائی منصوبہ ( conceptional plan)کے تحت منصوبے کی تعمیر میں 8انڈر پاسز تعمیر ہونگے جو مرتضی چورنگی، سنگر چورنگی، بلال چورنگی ، ویٹا چورنگی، شان چورنگی، بروکس چورنگی، خیابان اتحاد کورنگی روڈ انٹرسیکشن اور سن سیٹ بلورڈ انٹر سیکشن پر تعمیر کیے جائیں گے، علاوہ ازیں جام صادق برج بھی چوڑا کیا جائے گا ، یلو لائن منصوبہ کے لیے بسیں پبلک پرائیوٹ پارٹنرشب بنیادوں پر منگوائی جائیں گی، یلو لائن داﺅد چورنگی تا نمائش چورنگی 21کلومیٹر پر محیط ہے، یہ منصوبہ ورلڈ بینک کے تعاون سے عملدرآمد کیا جارہا ہے جس کا ترقیاتی کام اگلے سال شروع ہوگا جبکہ منصوبہ کی تکمیل تین سال میں ہوگی۔ خبر کی تصدیق کے لیے نمائندہ اردو ٹائمز نے صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ اویس قادر شاہ سے رابطے کی کوشش کی لیکن انھوں نے فون موصول کرنے کی زحمت نہیں کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں