58

سندھ وائلڈ لائف کی جانب سے کراچی چڑیا گھر کو ملنے والے پانچ شیر صرف 46دن کے لیے عارضی طور پر دیئے جائیں گے،

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ وائلڈ لائف کی جانب سے کراچی چڑیا گھر کو ملنے والے پانچ شیر صرف 46دن کے لیے عارضی طور پر دیئے جائیں گے، ایک شیر پہلے ہی مرچکا ہے، صوبائی حکومت شیروں کے مالک کو موقع دے رہی ہے کہ وہ اپنے شیروں کی قیمت وصول کرنے کے لیے اسے نیلام کردے، نیلامی 45دن کے اندر کرنی ہوگی اور اگر یہ نیلامی نہ ہوسکی تو قانون کی رو سے تمام شیر کراچی چڑیا گھر کی ملکیت ہوجائیں گے۔
واضح رہے کہ سندھ وائلڈ لائف کی جانب سے 14اگست کے دن کراچی چڑیا گھر کو چار شیر اور دو سائبرین ٹائیگر حوالے کیے جانے تھے ، ان شیروں کو غیرقانونی طور پر گلشن معظم کے ایک منی زو میں رکھا گیا تھا جبکہ شیروں کی نگہداشت بھی غیر موزوں طریقے سے کی جارہی تھی، منی زو کی دیواروں کی اونچائی بھی کم تھی جبکہ ایک پنجرے کا دروازہ بھی نہیں تھا اور اسے صرف ایک چارپائی کھڑی کرکے بند کیا گیا تھا، گذشتہ دنوں سوشل میڈیا میں ایک وڈیو وائرل ہونے کے بعد سندھ وائلڈ لائف نے ان شیروں کو ضبط کرلیا تھا تاہم جمعہ کے روز جب متعلقہ حکام انھیں منتقل کرنے کے لیے گلشن معظم میں واقع منی زو پہنچے تو وہاں ایک مادہ ٹائیگر کو مردہ پایا ، سندھ وائلڈ لائف کے حکام نے نمائندہ اردو ٹائمز کو بتایا کہ گلشن معظم میں واقع منی زو میں دو شیروں کا جوڑااور ایک ٹائیگر کا جوڑا رہائش پذیر ہے، ، گذشتہ دنوں ان میں سے دو شیر دروازے کھلا رہ جانے کے باعث منی زو کے احاطے میں آگئے تھے جو ایک مدرسہ سے متصل تھا، اس دوران کسی شخص نے ان شیروں کی وڈیو بنا کر وائرل کردی جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، بعدازاں شیروں کو واپس پنجرے میں بند کردیا گیا تھا اور کسی قسم کا ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا تھا، سندھ وائلڈ لائف کے حکام نے بھی فوری موقع پر پہنچ کر سروے کیا اور شیروں کے مالک زوہیب کے خلاف مقدمہ درج کرلیا اور ان جانوروں کو ضبط بھی کرلیا تاہم جگہ نہ ہونے کے باعث اسی منی زو میں رکھا گیا ہے، انھوں نے کہا کہ شیروں سمیت دیگر درندوں کو رہائشی علاقے میں رکھنا وائلڈلائف قوانین کے تحت جرم ہے، منی زو کے مالک زوہیب نے صرف منی زو کا لائسنس حاصل کررکھاتھا جس کی مدت ختم ہوچکی تھی جبکہ غیرقانونی طور پر شیروں کو بھی یہاں رکھا ہوا تھا، حکام کا کہنا ہے کہ شیروں کا مالک زوہیب نہ تو کوئی کریمنل ہے اور نہ ہی کوئی شکاری، اپنے شوق کے لیے یہ جانور پالے تھے، اب اس نے اپنی غلطی تسلیم کرلی ہے اور آئندہ کوئی درندہ نہ رکھنے کا عہد بھی کیا ہے لہذا اس کی درخواست پر اسے موقع دیا جارہا ہے کہ وہ مالی نقصان سے بچنے کے لیے 45دن کے اندر اخبارات میں اشتہار دیکر ان شیروں کی فروخت کے لیے اوپن آکشن کرے جس میں سرکاری زو یا جانوروں کا کوئی خیراتی ادارہ حصہ لے کر یہ جانور خرید لے اور نگہداشت کی ذمہ داری سنبھال لے، اس دوران یہ تمام جانور 45 دن کے لیے عارضی طور پر کراچی چڑیا گھر کے حوالے کیے جائیںگے، جانوروں کے مالک زوہیب اس بات کا پابند ہوگا کہ وہ تمام شیروں کی خوراک کے اخراجات برداشت کرے، حکام نے بتایا کہ اگر اینیمل ویلفیئر ٹرسٹ نے نیلامی میں یہ جانور خرید لیے تو وہ اس بات کے پابند ہونگے کہ ان شیروں کی افزائش نسل نہ کریں کیونکہ اگر ان کی افزائش نسل کی گئی تو پھر ان کی نگہداشت مشکل ہوجائے گی، لہذا صرف یہی جانور اپنی لائف پوری کرسکیں گے، انھوں نے کہا کہ نیلامی میں کوئی خیراتی ادارہ نہ آیا یا کسی وجہ سے یہ ناکام ہوگئی تو 46 ویں دن یہ تمام جانور کراچی چڑیا گھر کی ملکیت سمجھے جائیں گے، اس کے بعد ان شیروں کی خوراک کا انتظام کراچی چڑیا گھر کی انتظامیہ کو کرنا ہوگا، محکمہ سندھ وائلڈ لائف کے انسپکٹر نعیم خان نے نمائند اردو ٹائمز کو بتایا کہ ہلاک ہونے والی مادہ ٹائیگر مالک زوہیب کی کسٹڈی میں ہی ہلاک ہوئی ہے، اس کا بیان بھی قلمبندکرلیا ہے اور اس کا پوسٹ مارٹم کیا جارہا ہے جس کی رپورٹ جلد آجائے گی، انھوں نے کہا کہ جمعہ کے روز سندھ وائلڈ لائف کے حکام ان شیروں کی منتقلی کے لیے کرین ، پنجرے اور دیگر ضروری اشیاءساتھ لائے تھے تاہم اب ان کی منتقلی کچھ دنوں کے لیے موخرکیاجارہا ہے، دیگر 2 مادہ شیرنیاں میں سے ایک شیرنی حاملہ ہے اس لیے ۔ منتقلی کے موقع پر اسے بے ہوش نہیں کیاجاسکتا ، ایسی صورت میں اس کی زندگی خطرے میں پڑجائے گی، حاملہ شیرنی کو منتقل کرنے کے لیے خصوصی انتظام کیا جائے گا ، البتہ دیگر شیروں کو بے ہوش کرکے منتقل کیا جاسکتا ہے، بہرکیف ان تمام شیروں کی منتقلی اگلے ہفتے تک موخر کردی گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں