64

سندھ وائلڈلائف پانچ ضبط ہونے والے شیروں کو کراچی زو منتقل کرنے کے بجائے ایک نجی فارم ہاﺅس میں کریگا،

سندھ وائلڈلائف پانچ ضبط ہونے والے شیروں کو کراچی زو منتقل کرنے کے بجائے ایک نجی فارم ہاﺅس میں کریگا، نجی فارم ہاﺅس گلشن حدید سے 20منٹ کے فاصلے پر ہے لیکن غیرآبادی والے علاقہ میں قائم ہے
سندھ وائلڈ لائف کے کنزرویٹر جاوید مہر نے بتایا کہ یہ فیصلہ شیروں کو صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے، ایک مادہ ٹائیگر پہلے ہی ہلاک ہوچکی ہے ، دیگر شیر بھی کچھ ٹینشن میں ہیں لہذا ان شیروں کو منتقلی کے لیے بڑے راستے سے گذارنا ان کی صحت کے لیے بہتر نہیں ہے، ، گلشن حدید سے کراچی زو کا فاصلہ 2گھنٹے کا ہے، لہذا اصولی فیصلہ کیا گیا ہے کہ ان شیروں کو قریبی واقع نجی فارم ہاﺅس میں منتقل کردیا جائے، انھوں نے کہاکہ جانوروں کے ماہرین اس نجی فارم ہاﺅس کا معائنہ کریں گے جس کے بعد حتمی فصلہ ہوگا،
واضح رہے کہ 4شیر اور 2سائیبرین ٹائیگر غیرقانونی طور پر گلشن حدید کے رہائشی علاقے گلشن معظم میں قائم منی زو میں رہائش پذیر ہیں، منی زو سے متصل ایک مدرسہ بھی قائم ہے، 10اگست کو دو شیر دروازہ کھلا رہنے کی وجہ سے منی زو کے کھلے احاطے میں آگئے تھے جس سے مدرسے اور قریبی علاقے میں خوف وہراس پھیل گیا، اس دوران کسی شخص نے ان شیروں کی وڈیو بنا کروائرل کردی، سندھ وائلڈ لائف کے حکام اطلاع ملتے ہی منی زو پہنچ گئے تاہم اس اثناءمیں شیروں کے مالک نے بحفاظت شیروں کو پنجرہ میں بند کردیا اور کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا،
سندھ وائلڈ لائف نے مزید کارروائی کرتے ہوئے چار شیر اور دو سائبرین ٹائیگر کو ضبط کرلیا لیکن جگہ نہ ہونے کی وجہ سے ابھی تک اسی نجی زو میں رکھا رجارہا ہے،
اسسٹنٹ کنزرویٹر کی جانب سے 13اگست کوسندھ وائلڈ لائف پروٹیکشن آرڈینینس 1972ء سیکشن 10، 13، 22اور 34اے اور سی کے تحت ان شیروں کو عارضی طور پر کراچی چڑیا گھر رکھنے کے احکامات جاری کیے اور مالک زوہیب کو ہدایت کی کہ وہ اپنے شیروں کی قیمت وصول کرنے کے لیے اسے نیلام کردے، نیلامی 45دن کے اندر کرنی ہوگی اور اگر یہ نیلامی نہ ہوسکی تو قانون کی رو سے تمام شیر کراچی چڑیا گھر کی ملکیت ہوجائیں گے۔،اس آرڈر میں کہا گیا ہے کہ مالک کی درخواست پر اسے موقع دیا جارہا ہے کہ وہ مالی نقصان سے بچنے کے لیے 45دن کے اندر اخبارات میں اشتہار دیکر ان شیروں کی فروخت کے لیے اوپن آکشن کرے جس میں سرکاری زو یا جانوروں کا کوئی خیراتی ادارہ حصہ لے کر یہ جانور خرید لے اور نگہداشت کی ذمہ داری سنبھال لے، اس دوران یہ تمام جانور 45 دن کے لیے عارضی طور پر کراچی چڑیا گھر کے حوالے کیے جائیںگے، جانوروں کے مالک زوہیب اس بات کا پابند ہوگا کہ وہ تمام شیروں کی خوراک کے اخراجات برداشت کرے، سندھ وائلڈ لائف کے آرڈر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر اینیمل ویلفیئر ٹرسٹ یا دیگر نے نیلامی میں یہ جانور خرید لیے تو وہ اس بات کے پابند ہونگے کہ ان شیروں کی افزائش نسل نہ کریں کیونکہ اگر ان کی افزائش نسل کی گئی تو پھر ان کی نگہداشت مشکل ہوجائے گی، لہذا صرف یہی جانور اپنی لائف پوری کرنے کے قابل ہونگے،
اس آرڈر پر عملدرآمد کے لیے14اگست کو سندھ وائلڈ لائف کے حکام شیروں کی منتقلی کے لیے مذکورہ منی زو پہنچے تو وہاں انھوں نے مادہ ٹائیگر کو ہلاک پایا جبکہ معائنہ کے بعد ایک شیرنی حاملہ قرار دی گئی، دیگر شیروں میں بھی بے چینی پائی گئی، شیروں کی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے کراچی زو کو شیروں کی منتقلی موخرکردی گئی۔
کنزرویٹر جاوید مہر نے اردو ٹائمز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ایک مادہ ٹائیگر مالک زوہیب کی تحویل میں ہی ہلاک ہوچکی ہے، اب چار شیر اور ایک نر ٹائیگر ہے جس میں ایک شیرنی حاملہ ہے، شیروں کی نیلامی کا وقت آرڈر کے اجراءکی تاریخ سے شروع ہے، یہ شیروں کے مالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ اوپن آکشن کا اہتمام کرے لیکن اس دوران سندھ ائلڈلائف ہر صورت ان شیروں کو رہائشی مقام سے منتقل کریگا، ان شیروں کو مذکورہ منی زو میں نہیں رکھا جاسکتا کیونکہ وہ مقام رہائشی علاقہ ہے، بارشوں کا سلسلہ بھی جاری ہے، کراچی کا زو کا فاصلہ بھی زیادہ ہے، ان حالات میں لمبے فاصلہ کا سفر موزوں نہیں ہے، ہمارے نزدیک شیروں کوتحفظ بھی لازمی ہے اور قانون کی تحت ان شیروں کو رہائشی علاقے سے بھی دور رکھنا ہے، اس لیے کوشش کی جارہی ہے کہ بہترسے بہتر فیصلہ کیاجائے، انھوں نے کہا کہ دو دن قبل ایک نجی فارم ہاﺅس کی جانب سے آفر آئی ہے کہ وہ ان شیروں کو رکھنے کے لیے تیار ہیں، یہ نجی فارم ہاﺅس گلشن حدید سے 20منٹ کے فاصلے پر ہے اور غیررہائشی علاقہ ہے، جاوید مہر کا کہنا ہے کہ تمام امور کو مدنظر رکھتے ہوئے اصولی فیصلہ کرلیا گیا ہے کہ ان شیروں کو کراچی زو کے بجائے مذکورہ فارم ہاﺅس میں متنقل کردیا جائے تاہم جانوروں کے ماہرین اس نجی فارم ہاﺅس کا دورہ کریں گے اور ان کی مشاورت سے حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ جاوید مہر نے کہا کہ نجی فارم میں شیروں اگر منتقل کیے جائیں گے تو مالک زوہیب ہی ان کی خوراک کا بندوبست کریگا، ا س دوران آکشن کی ذمہ داری شیروں کے مالک زوہیب کی ہے، اگر نیلامی معینہ مدت تک نہ ہوسکی تو قانون کی رو سے یہ تمام شیر کراچی زو کی ملکیت میں دیدیئے جائیںگے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں