49

سندھ حکومت ناکام ، کراچی کے ماسٹر پلان 2020 پر تیرہ سال میں عملدرآمدنہ کراسکی

کراچی : شہر کا ماسٹر پلان 2020بھی ماضی کے دیگر ماسٹرپلانز کی طرح معینہ مدت میں عملدرآمد نہیں ہوسکا ہے، اس بار بھی بغیر منصوبہ بندی ونظم وضبط شہر کا پھیلا? اور آبادکاری بے ھنگم طریقے سے تشکیل دی جارہی ہے جس کے نتیجے میں پانی کا بحران سیوریج و ٹرانسپورٹ کا نظام، برساتی نالے، ہا?سنگ ، صنعتی وکمرشل سیکٹرز اور دیگر شہری امور تباہی کے دھانے پر کھڑے ہیں، حالیہ بارشوں نے تو اس شہرکے فرسودہ اور گلے سڑے نظام کی قلعی کھول دی ہے کہ بغیر ماسٹر پلان اگر اس شہر کو نام نہاد ترقی دینے کی کوشش کی گئی تو نتیجتاً تباہی و بربادی کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔
کراچی جو اس اعتبار سے خوش قسمت ہے کہ برطانوی راج سے اب تک شہری انتظامیہ نے کراچی شہر کی تعمیر وترقی کے لیے چھ ماسٹر پلان دیئے ہیں لیکن بدقسمت اس لحاظ سے ہے کہ کسی ایک ماسٹر پلان پر کلی طور پر عملدرآمد نہیں ہوا ہے، اگرچہ کہ پرانے ماسٹر پلانز پر کسی نہ کسی شکل میں جزوی یا اس کے بیشتر حصوں پر معینہ مدت میں عملدرآمد ہوا ہے لیکن چھٹا ماسٹر پلان کراچی اسٹراٹیجیک ڈیولپمنٹ پلان2020ئ اس اعتبار سے ناکام ثابت ہوا ہے کہ اس کی سفارشات یا ڈیٹا پر مبنی کوئی ایک منصوبہ ابھی تک مکمل نہیں ہوا ہے، اگرچہ کہ اس ماسٹر پلان کے تحت کراچی میں پانی کی فراہمی کے لیے میگا منصوبہ K4، سیوریج کا میگا منصوبہ SIII اور بس ریپیڈ ٹرانزٹ منصوبے کی گرین اور اورنج لائن منصوبے زیر تعمیر ہیں لیکن یہ چاروں منصوبے اتنی تاخیر سے شروع ہوئے ہیں کہ تقریباً اپنی افادیت کھوبیٹھے ہیں، مختلف تنازعات میں گھرے یہ تمام منصوبے کب مکمل ہونگے متعلقہ ادارے جواب دینے سے قاصر ہیں، ایس تھری اور کے فور منصوبوں کی لاگت بھی غیرمعمولی طور پر بڑھ چکی ہے۔
المیہ یہ ہے کہ کراچی اسٹریٹیجک ڈیولپمنٹ پلان 2020ئ کو سندھ حکومت نے اون ہی نہیں کیا تھا، یہ تو سپریم کورٹ کا حکم نامہ تھا کہ سندھ حکومت نے 2019ئ میں اس کا گزٹ نوٹیفیکشن نکالا جس سے اس کو لیگل کور مل چکا ہے لیکن سندھ حکومت کی اس مہربانی کا اب کوئی فائدہ نہیں ہے کیونکہ ایک سال بعد یعنی 2020ئ دسمبر میں اس ماسٹر پلان کی معینہ مدت پوری ہورہی ہے۔
ماسٹر پلان ڈیپارٹمنٹ کے ایک آفیسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ انگریزوں کے دور میں کراچی کے لیے 1923ئ اور 1945ئ میں ماسٹر پلان بنایا گیا جبکہ آزادی ملنے کے بعد کراچی کے لیے ، 1951، 1974، 2000ئ اور 2007ئ میں بنایا گیا۔ شہر کا چھٹا ماسٹر پلان کراچی اسٹریٹیجک ڈیولپمنٹ پلان 2020ئ سٹی ناظم مصطفیٰ کمال کے دور میں 2007ئ میں تشکیل پایا گیا، سٹی کونسل نے اسے منظور کیا، بنیادی طور پر یہ ہر سیکٹر سے متعلق پالیسی گائیڈ لائن پر مبنی دستاویزات تھے جسے ٹا?ن کی سطح پر مزید تفصیلی ڈیزائین کرنا تھا لیکن پیپلزپارٹی حکومت نے 2008ئ میں وفاق و سندھ میں عنان حکومت سنبھلتے ہی کراچی کو نظر اندازکرنا شروع کردیا، 2010ئ میں شہری حکومت کو تحلیل کردیا گیا اور نئے بلدیاتی نظام پر عملدرآمد کے لیے قانون سازی شروع کردی ، 2013ئ میں سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ منظور کیا گیا جس میں بلدیاتی اداروں سے تمام اہم شہری امور کے اختیارات چھین کر سندھ حکومت کو تفویض کردیئے گئے جس میں ماسٹر پلان، بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ، کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی، لیاری ڈیولپمنٹ اتھارٹی، ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی، تعلیم وصحت کے ادارے، فوڈ ڈیپارٹمنٹ غرض یہ کہ تمام اختیارات پر سندھ حکومت نے قبضہ جمالیا، حتیٰ یہ کہ بلدیاتی اداروں کی اصل پہچان صفائی ستھرائی کا نظام بھی سندھ سولڈویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے حوالے کردیا گیا، جب بلدیاتی اداروں کو مکمل طور پر بے بس کردیا گیا تو ایسے میں کے ایس ڈی پی 2020ئ کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے، سندھ حکومت نے اسے بھی ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا،
حیرت انگیزبات یہ ہے کہ اس ماسٹرپلان کے دستاویزات میں درج ہے کہ 2020ئ تک کراچی کی آبادی دو کروڑ 75لاکھ ہوجائے گی لیکن 2017ئ کی مردم شماری میں کراچی کی آبادی ایک کروڑ 60لاکھ ظاہر کی گئی ہے۔ یعنی کراچی کی آبادی ایک کروڑ پندرہ لاکھ آبادی گھٹا کر بتائی جارہی ہے، یہ کراچی کے ساتھ کھلی بددیانتی اور ناانصافی ہے،
کراچی کے لیے کے ایس ڈی پی 2020ئ کی اصل سفارشات یہ تھیں کہ شہر کے اولڈ سٹی ایریاز اور مرکزی تجارتی علاقوں و سینٹرل بزنس یونٹس(CBU)کی دکانوں اور گوداموں کو نادرن بائی پاس منتقل کیا جائے اور ان علاقوں کو ازسر ے نو تعمیر کیا جائے، دوسری اہم تجویز یہ تھی کہ شہر کے گنجان علاقوں میں مزید افقی یا عموری ہا?سنگ یونٹس میں اضافہ نہ کیا جائے بلکہ ان ٹا?نز میں آبادکاری کی جائے یہاں سینکڑوں ایکڑ زمین بیکار پڑی ہے اور نئی رہائشی سوسائیٹز میں صحت و تعلیم کے ساتھ ساتھ کمرشل سرگرمیاں بھی قائم کی جائیں تاکہ مقامی لوگوں کو روزگار بھی وہیں میسر آسکے، شہر کو تمام بنیادی سہولیات کے ساتھ ساتھ اس طرح پھیلایا جائے کہ شہر کا ایک مرکزی مقام نہ رہ سکے جیسا کہ اب ہے یعنی ڈسٹرکٹ سا?تھ جہاں ملک کی سب سے بڑی کمرشل اسٹریٹ آئی آئی چندریگر روڈ، صدر ایریا اور اولڈ سٹی ایریا میں اجناس کی منڈی، ہر روز صبح ہوتے ہی آبادی کا بڑا بہا?ٹاور کی طرف جاتا ہوا نظر آتا ہے جس سے نہ صرف ٹریفک جام، آلودگی اور دیگر کئی مسائل جنم لیتے ہیں،
ماسٹر پلان کی سفارشات میں شامل تھا کہ نارتھ ناظم آبادٹا?ن، جمشید ٹا?ن، صدر ٹا?ن، گلبرگ ٹا?ن، گلشن اقبال ٹا?ن میں مزید ہا?سنگ یونٹس نہ تعمیر کیے جائیں بلکہ یہاں کے لیز علاقوں اور کچی آبادیوں کے موجودہ انفرااسٹرکچر کو بہتر کیا جائے، نئے ہا?سنگ یونٹس گڈاپ ٹا?ن، لانڈھی ٹا?ن، اسکیم 33، سرجانی ٹا?ن، ہاکس بے اسکیم وغیرہ میں تعمیر کی جائیں، بنیادی سہولیات کے ساتھ ساتھ یہاں شہریوں اور بلڈرز کو ترغیب اور آسانی فراہم کی جائیں کہ وہ اپنے گھر اور پروجیکٹس ان علاقوں میں تعمیر کریں، لیکن اس کے برعکس سندھ حکومت نے نئے قوانین منظور کراکے آسمان سے چھوتی عمارتیں تعمیر کرنے کی اجازت دیدی گئی، ایسے میں پوری بلڈر مافیا سرگرم ہوگئی اور گنجان آبادی والے علاقوں میں یہ ہا?سنگ یونٹس بنادیئے گئے جو پہلے ہی آبادی کے بوجھ تلے دبے ہوئے تھے جبکہ شہرکے مضافات میں ہزاروں ایکڑ اراضی بدستور خالی پڑی رہی، یوں نارتھ ناظم آباد، جمشید ٹا?ن، صدر، گلشن اقبال سمیت شہرکے مرکزی وپوش علاقے کنکریٹ جنگل میں تبدیل ہوچکے ہیں، خیال رہے کہ بلندعمارتیں تو تعمیر کردی گئیں، لیکن بنیادی انفرااسٹرکچر تبدیل نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے ان علاقوں میں پانی کا شدید بحران پیدا ہوگیا ہے، سیوریج نظام تباہ و برباد ہے اور یہ علاقے کوڑے کے ڈھیر میں تبدیل میں ہوچکے ہیں۔
ماسٹر پلان کی اہم ترین تجویز تھی کہ اولڈسٹی ایریا میں اجناس منڈی کو نادرن بائی پاس میں منتقل کیا جائے، اس ضمن میں بورڈ آف ریونیو نے نادرن بائی پاس پر زمین کی بھی نشاندہی کردی تھی اور اجناس منڈیوں کی ایسوسی ایشنز نے بھی رضامندگی کا اظہار کردیا تھا لیکن سندھ حکومت نے اس منصوبے کو بھی سرخ فیتہ پہنا دیا۔
ماسٹر پلان ڈیپارٹمنٹ کے متعلقہ افسران کے مطابق کراچی شہر میں کئی ادارے لینڈ اونرشپ رکھتے ہیں جن میں ڈیفنس ہا?سنگ اتھارٹی، کنٹونمنٹ بورڈز اور دیگر وفاقی ادارے شامل ہیں جو کراچی کے کسی بھی ماسٹر پلان کا فالو نہیں کرتے ہیں بلکہ اپنے قوانین و منصوبے بندی کے تحت تعمیراتی امور انجام دیتے ہیں، کے ایس ڈی پی 2020ئ بھی دیگر ماسٹر پلانز کی طرح پورے کراچی کے لیے تشکیل دیا گیا تھا لیکن اس بار بھی ان ادارون نے اس ماسٹر پلان پر عملدرآمد نہیں کیا۔
ماسٹر پلان ڈیپارٹمنٹ کے ریٹائرڈ ایگزیکیٹو ڈسٹرکٹ آفیسر افتخار قائم خانی جن کی نگرانی میں کے ایس ڈی پی 2020ئ بنایا گیا تھا ، ان
کا کہنا ہے کہ کے ایس ڈی پی 2020ئ کی سفارشات اور ڈیٹا سے کافی حد تک متعلقہ اداروں نے فائدہ اٹھایا ہے، زیر تعمیر کے فور، ایس تھری اور ماس ٹرانزٹ کے منصوبے اسی ماسٹر پلان کی سفارشات تھیں، انھوں نے کہا کہ اس ماسٹر پلان کی تجاویز اور ڈیٹا سے اب بھی فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے، حکومت کو چاہیے کہ اس ماسٹر پلان کو 2023ئ تک وسعت دیتے ہوئے قانون سازی کرے اور متعلقہ اداروں کو پابند کرے کہ وہ اس پلان کے تحت ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کریں اور اس کے ساتھ ہی ماسٹر پلان 2047ئ پر کام شروع کردے جس کی تکمیل میں تین سال لگیں گے، اس دوران کے ایس ڈی پی 2020ئکی تجاویز پر عملدرآمد کیا جاتا رہے، انھوں نے کہا کہ ماسٹر پلان کی اہم ترین تجاویزاولڈ سٹی ایریاز میں قائم تجارتی مارکیٹوں کو نادرن بائی پاس منتقل کیا جائے، شہر کے گنجان علاقوں میں مزید آبادکاری کو روکا جائے اور مضافات میں قائم ہزاروں خالی اراضی پر تمام بنیادی سہولیات کے ساتھ آبادکاری کی جائے ، کے فور ، ایس تھری اور بس ریپیڈ ٹرانزٹ منصوبوں کو فوری مکمل کیا جائے، انھوں نے کہا کہ اگر ان چند تجاویز پر ہی عملدرآمد کرلیا جائے تو شہر کے بیشتر مسائل حل ہوجائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں