29

سانحہ صفورا سڑک :حالیہ بارشوں سےسڑک دونوں اطراف سے دھنس گئی، سندھ حکومت مرمت نہیں کرارہی، اگلے سانحہ کا انتظارکررہی ہے، شہریوں کا غم وغصہ

کراچی:سانحہ صفورا کو گذرے پانچ سال کا عرصہ گذرچکا ہے تاہم اس سے جڑے حالات بدستور ویسے ہی ہیں جیسا کہ ماضی میں تھے ، صوبائی حکومت نے وقتی طور پر تو اس علاقے میں سییکوریٹی ، سڑک کی مرمت اور اسٹریٹ لائٹس کی درستگی کے انتظامات کیے تھے لیکن ہمیشہ کی طرح کراچی کی تعمیر وترقی کے حوالے سے سندھ حکومت کی مایوس کن کارکردگی کے بدترین اثرات اسوقت سانحہ صفورا کی سڑک پر نمایاں ہیں،
نمائندہ اردو ٹائمز کے سروے کے مطابق سانحہ صفورا جس سڑک پر پیش آیا وہ صفورا چورنگی سے کچھ فاصلے پر واقع ہے، سڑک کا سرکاری طور پر کوئی نام نہیں ہے تاہم اسے سانحہ صفورا سڑک یا الاظہر گارڈن روڈ کے نام سے عوام میں پہچانا جاتا ہے، اس وقت اس علاقے میں سیکوریٹی کے انتظامات انتہائی ناقص ہیں ، حالیہ بارشوں سے سڑک کے دونوں اطراف سے گذرنے والے برساتی نالے کے سلیب منہدم ہوگئے ہیں جس کے سبب گاڑیوں کی آمد ورفت میں شدید خلل آرہا ہے جبکہ 200فٹ چوڑی سڑک پر جگہ جگہ گڑھے پڑے ہوئے ہیں، رات کو سڑک پر گھپ اندھیرا ہوتا ، بیشتر لائٹس چوری کرلی گئی ہیں، یہ سڑک سپرہائی وے کے جمالی پل تک جاتی ہے جس کی وجہ سے نہ صرف مکینوں بلکہ دیگر قریبی علاقوں کے لیے یہ سڑک اہم ترین ہے اور متبادل راستہ نہ ہونے کی وجہ سے شہریوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے،
واضح رہے کہ 13مئی 2015ءکو اس سڑک پر دہشت گردوں نے ایک چلتی بس میں سوار ہوکر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 45سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے ، جاں بحق ہونے والوں کا تعلق اسماعیلی کمیونٹی سے تھا، اسماعیلی کمیونٹی کے یہ افراد رہائشی پروجیکٹ الاظہر گارڈن سے عائشہ منزل جماعت خانہ جانے کے لیے بس میں سوار ہوئے تھے، اس بدقسمت سڑک کی حالت اسوقت بھی خستہ حال تھی، یہی وجہ تھی کہ بس ناہموار سڑک پرا تنی سست چل رہی تھی کہ دہشت گرد چلتی بس پر باآسانی سوار ہوگئے، شہریوں اور سول سوسائٹی کی شدید تنقید کے بعد وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی ہدایت پر ہنگامی بنیادوں پر سڑک کی کارپیٹنگ اور اسٹریٹ لائٹس کی مرمت کی گئی اور سیکوریٹی کے انتظامات بھی سخت کردیئے گئے۔
سڑک کے اطراف رہائش پذیر رہائشیوں کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر اس سڑک کی مرمت 2016ءمیں کی گئی تاہم سڑک کی تعمیر نو کے بجائے نمائشی کام کیا گیا، ٹوٹی پھوٹی سڑک پر اوپر سے کارپیٹنگ کردی گئی جس کی وجہ سے چھ ماہ میں ہی سڑک مختلف مقامات سے ادھیڑنا شروع ہوگئی اور گذرتے وقت کے ساتھ ساتھ جگہ جگہ گڑھے پڑ گئے تاہم حالیہ بارشوں نے اس سڑک کی صورتحال کو بدترین بنادیا۔
شہری محمد ساجد کا کہنا ہے کہ اسکیم 33میں قدرتی برساتی گذرگاہوں پر لینڈ مافیا نے قبضہ کرکے رہائشی و کمرشل تعمیرات کردی ہیں۔ مون سون میں برساتی پانی کے ریلے گڈاپ کی برساتی ندیوں سے آتے ہیں جس سے پورے علاقے میں تباہی مچ جاتی ہے۔ چند سال قبل تیز بارشوں نے سعدی ٹاﺅن کا پورا علاقہ غرقاب کردیا جس کے بعد صوبائی اور شہری انتظامیہ نے برساتی پانی کی نکاسی کے لیے چھوٹے چھوٹے برساتی نالے تعمیر کردیئے، ان برساتی نالوں کی تعمیر ہونے کی وجہ سے اب برساتی پانی کے ریلوں کا رخ سعدی ٹاﺅن سے تبدیل ہوکر پی سی ایس آئی آر سوسائٹی، نیورضویہ سوسائٹی، جامعہ کراچی ایمپلائز سوسائٹی، اسٹیٹ بینک سوسائٹی، گوالیار سوسائٹی کی جانب ہوگیا ہے، تیز بارشوں میں یہ چھوٹے برساتی نالے ناکافی ثابت ہوتے ہیں جس کی وجہ سے یہ تمام علاقے زیر آب آجاتے ہیں، علاوہ ازیں ان برساتی نالوں کی تعمیرات اتنی ناقص کی گئی تھی کہ حالیہ بارشوں میں سانحہ صفورا سڑک کے دونوں ٹریک سلیب ٹوٹ گئے اور سڑک بھی دھنس گئی۔
محمد ساجد کے مطابق سڑک کے درمیان سے یہ برساتی نالہ گذررہا ہے، حالیہ بارشوں سے دوماہ قبل ایک ٹریک کا سلیب ٹوٹ گیا اور روڈ دھنس گئی اور شہریوں نے آمدورفت دوسرے ٹریک سے جاری رکھی تاہم چند دن قبل سڑک کا دوسرے ٹریک کے نیچے برساتی نالے کا سلیب ٹوٹ گیا اور اس حصے کی سڑک بھی دھنس گئی ، شہریوں نے ڈپٹی کمشنر ایسٹ کے آفس اور دیگر متعلقہ اداروں کو شکایات درج کرائیں کہ سڑک و نالے کی مرمت کی جائے لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی، مجبوراً شہریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت سڑک کے ایک طرف مٹی کی بھرائی کردی ہے جہاں سے دوطرفہ ٹریفک انتہائی ناگفتہ بہ حالت میں گذررہی ہے، محمد ساجد کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسٹریٹ لائٹس نہ ہونے کی وجہ سے رات کو گھپ اندھیرا ہوتا ہے، بیشتر اسٹریٹ لائٹس چوری کرلی گئی ہیں،
ادارہ ترقیات کراچی(کے ڈی اے) کے ایک آفیسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اسکیم 33کا علاقہ کے ڈی اے یا کے ایم سی کے پاس نہیں ہے، اسکے پروجیکٹ ڈائریکٹر ڈپٹی کمشنر ایسٹ ہیں ، ترقیاتی کام اور دیگر امور کی انجام دہی ڈپٹی کمشنر ایسٹ کی ذمہ داری ہے تاہم سیاسی بنیادوں پر ہونے والی بھرتی کی وجہ سے اسکیم 33میں گذشتہ 12سال سے کچھ کام نہیں ہورہا ہے، سانحہ صفورا پیش آنے کے بعد اس سڑک کی مرمت بلدیہ عظمٰی کراچی (کے ایم سی ) نے وزیر اعلیٰ سندھ کی ہدایت پر کی، اس سڑک کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کو چاہیے تھا کہ ہنگامی بنیادوں پر برساتی نالے اور سڑک کی مرمت کا کام کرواتے لیکن انھوں نے اس معاملے میں کوئی دلچسپی نہیں لی البتہ سندھ لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے متعلقہ افسران نے ایک ماہ قبل سڑک کا دورہ کرکے صوبائی حکومت کے اعلیٰ حکام کو درخواست کی ہے کہ سڑک کی تعمیر کے لیے ہنگامی بنیادوں پر فنڈز جاری کیے جائیں، اس ضمن میں ایک سمری بھی بھیجی گئی ہے تاہم وہ ابھی تک منظور نہیں ہوئی ہے،
خبر کی تصدیق کے لیے نمائندہ ایکسپریس اردو ٹائمز نے سیکریٹری لوکل گورنمنٹ نجم شاہ اور ڈپٹی کمشنر ایسٹ محمد علی شاہ سے رابطے کی کوشش کی تاہم انھوں نے فون موصول کرنے کی زحمت نہیں کی، دوسری جانب شہریوں کا کہنا ہے کہ انتہائی حساس نوعیت کی سڑک کی بدترین حالت پر بھی سندھ حکومت ٹس سے مس نہیں ہورہی ہے تو شہر کی بقیہ خراب حالت سڑکوں کا تو کوئی پرسان حال نہ ہوگا، لگتا ہے سندھ حکومت دوبارہ کسی اندوہناک واقعے کے بعد ہی جاگے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں