58

ساتوں مردم شماری کا آغاز اگست 2022ء کو ہوگا، ہر شمار کنندہ کو ٹیبلیٹ فراہم کیے جائیں گے

ملک میں ساتویں مردم شماری کے لیے اقدامات اٹھانے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ اس مردم شماری میں  جدید ٹیکنالوجی  استعمال کرتے ہوئے ہر شمار کنندہ کو  ٹیبلیٹ فراہم کیے جائیں گے،  اگلی مردم شماری کے لیے23ارب روپے اخراجات آئیں گے،  رواں مالی سال 5ارب روپے مختص کردیئے گئے ہیں،   

تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت کے ادارے محکمہ شماریات بیورو Pakistan Bureau of Statisticsکی زیر نگرانی چھٹی مردم شماری 19سال بعد 2017ء میں دومراحل میں کی گئی جس پر 21ارب روپے اخراجات آئے،آبادی کی provisional report (عبوری رپورٹ) اسی سال شائع کردی گئی تھی جس کی اشاعت کے ساتھ ہی چھوٹے صوبوں بالخصوص سندھ حکومت اور کراچی کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے شدید اعتراضات اٹھائے گئے،سابقہ مسلم لیگ (ن) حکومت کی کابینہ اور مشترکہ مفادات کونسل میں یہ طے ہوا تھا کہ نئی مردم شماری پر تحفظات دور کرنے کیلیے مردم شماری کے پانچ فیصد ڈیٹا کی اسکروٹنی کی جائیگی تاہم مسلم لیگ حکومت (ن) اپنے دور میں نہیں کراسکی ہے۔ بعدازاں تحریک انصاف کی حکومت بھی تین سال کے عرصے میں مردم شماری کے پانچ فیصد ڈیٹا کا آڈٹ نہیں کراسکی ا، رواں سال ماہ اپریل میں وزیر اعظم پاکستان عمران کی زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل کے منعقدہ اجلاس میں اکثریتی ووٹوں کے ساتھ فائنل رپورٹ کے اجراکی منظوری دیدی گئی، اس اجلاس میں وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے کہا کہ 2017ء میں ہونے والی مردم شماری کی فائنل رپورٹ کا فور ی اجراء ضروری ہے تاکہ این ایف سی ایوارڈ اور وسائل کی فراہمی آبادی کے نئے تناسب کے مطابق کیا جائے تاہم انھوں نے اعلان کیا کہ مردم شماری پر ہونے والے تحفظات کے خاتمہ کے لیے تحریک انصاف حکومت جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے جلد نئی مردم شماری کا انعقاد کریگی۔
واضح رہے کہ 2017ء میں ہونے والی مردم شماری میں کراچی کی آبادی صرف ایک کروڑ 60لاکھ 24ہزار 894 ظاہر کی گئی ہے جسے
متحدہ قومی موومنٹ، جماعت اسلامی، پاک سرزمین پارٹی، مہاجر قومی موومنٹ، مہاجر اتحاد تحریک ودیگر جماعتوں نے مسترد کردیا ہے، ان جماعتوں کا کہنا ہے کہ کراچی کی آبادی تین کروڑ ہے۔
محکمہ شماریات بیورو کے آفیسر نے بتایا ہے کہ ساتویں مردم شماری کے انعقاد کے لیے تمام صوبائی حکومتوں کا اعتماد میں لے لیا گیا ہے، متعلقہ افسران سے اجلاس منعقد کیے جارہے ہیں، دو روز قبل وفاقی کابینہ اجلاس میں بھی ساتویں مردم شماری کے لیے لائحہ عمل پر بات چیت کی گئی، انھوں نے کہاکہ آئندہ مردم شماری کے شفاف انعقاد کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا، ہر شمار کنندہEnumeratorکو ٹیبلٹ ڈیوائس دی جائے گی جس کے استعمال کے لیے اسے تربیت دی جائے گی، اس ڈیوائس میں درج معلومات فوری طور پر کنٹرول روم تک پہنچے گی، اس طرح نہ صرف ڈیٹا محفوظ رہے گا بلکہ پورے عمل میں تیز رفتاری آجائے گی، انھوں نے کہا کہ ساتویں مردم شماری کا فیلڈ ورک اگست 2022ء میں شروع کردیا جائے گا اور 2023ء جنوری یا فروری تک مردم شماری کا رزلٹ دیدیا جائے گا، انھوں نے کہاکہ محکمہ شماریات کو ہدایت کی گئی ہے کہ اگلے الیکشن سے 6ماہ قبل مردم شماری کی فائنل رپورٹ الیکشن کمیشن کو فراہم کرنی ہے تاکہ وہ نئی مردم شماری کے تحت نئی حلقہ بندیاں کرسکے۔
سندھ اسمبلی میں تحریک انصاف کے اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ ساتویں مردم شماری میں جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جارہی ہے تاکہ شفافیت قائم رکھی جاسکے، مردم شماری کی کارروائی18ماہ میں مکمل کرلی جائے گی، اس ضمن میں فنڈ مختص کردیئے گئے ہیں، نئے الیکشن نئی مردم شماری کے تحت ہونگے۔
ماہر مردم شماری و محقق ڈاکٹر سید نواز الہدیٰ نے مردم شماری میں ٹیکنالوجی کے استعمال پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ مردم شماری مینوئل طریقے سے ہونی چاہیے، ملک بھر میں شمار کنندہ کو ٹیبلیٹ فراہم کیے جائیں گے، اگر ڈیوائس میں ڈیٹا غلط درج کردیا گیا تو نظرثانی کی گنجائش نہیں ہوگی۔ جبکہ مینوئل سروے میں بلاک شمار کنندہ کو چیک کرنے کے لیے سرکل سپروائزر ہوتا ہے او اسے چیک کرنے کے لیے چارج سپرنٹنڈنت کو مقرر کیا جاتاہے۔اصولی بات نیت کی ہے۔ اگر نیت درست کرلی جائے تو مینوئل طریقے سے شفاف بنیادوں پر مردم شماری ہوسکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں