34

ریڈ لائن بس منصوبے کا آغاز اگلے سال ہوگا

کراچی: کووڈ 19کی وجہ سے جہاں ملک بھر کے ترقیاتی منصوبے متاثر ہوئے ہیں وہیں کراچی کے بس ریپیڈ ٹرانزٹ سسٹم(بی آر ٹی ایس) کی ریڈ لائن بس منصوبہ میں بھی قدرے تاخیر آئی تاہم حالیہ کچھ دن قبل منصوبے کے لیے مثبت پیشرفت ہوئی ہے، عالمی ڈونرایجنسیوں کی جانب سے منصوبے کے منظور کردہ قرضے کو استعمال کرنے کی اجازت دیدی گئی ہے اور توقع ہے پروجیکٹ پر تعمیراتی کام اگلے سال کے آغاز میں شروع ہوجائے گا۔
ریڈ لائن منصوبہ بھی دیگر ٹرانسپورٹ کے منصوبوں کی طرح وزیر اعظم پاکستان کے کراچی ٹرانسفارمیشن پلان میں شامل کرلیا گیا ہے لیکن اس منصوبے میں وفاقی حکومت کا کوئی فنڈ نہیں ہوگا، سندھ حکومت نہ صرف اس منصوبے میں فنڈز فراہم کریگی بلکہ عالمی ڈونر ایجنسیوں سے حاصل کردہ قرضوں کی ادائیگی بھی ممکن بنائے گی،
منصوبہ بندی کے تحت اس پروجیکٹ کا تعمیراتی کام رواں سال اگست میں شروع ہوجانا چاہیے تھا تاہم کووڈ 19کی وجہ سے دنیا بھر میں کاروباری ، سماجی اور ترقیاتی سرگرمیاں معطل ہونے سے یہ منصوبہ بھی شروع نہ کیا جاسکا،
صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ اویس شاہ نے بتایا کہ ریڈ لائن منصوبے میں ہونے والی تاخیر میں سندھ حکومت کا کوئی قصور نہیں بلکہ کووڈ 19کی وجہ سے دنیا بھر میں جو تعطل آیا اس کے اثرات ملک بھر میں بھی آئے تاہم اس دوران سندھ حکومت نے وڈیو کانفرنسیں اور دیگر ذرائع استعمال کرکے اپنی کاوش جاری رکھی جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ بین الاقوامی ڈونر ایجنسیوں نے چار دن قبل loan effective کردیا ہے اور سندھ حکومت نے بلاتاخیر دوسرے ہی دن ریڈ لائن منصوبے کے لیے ٹینڈر طلب کرلیے، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سندھ حکومت ہاتھ پر ہاتھ دھر کر نہیں بیٹھی تھی اور لاک ڈاﺅن کے دوران بھی سماجی فاصلے کو برقرار رکھتے ہوئے پروجیکٹ کے ڈیزائین اور ٹینڈر دستاویزات تیار کررہی تھی، انھوں نے کہا کہ منصوبہ میں عالمی ڈونرز ایجنسیاں فنڈنگ کررہی ہیں، ٹینڈر دستاویزات کی اسکروٹنی سمیت ہر امور پر انتہائی احتیاط اور بین الاقوامی قوانین کو ملحوظ خاطر رکھا جارہا ہے، انھوں نے کہا کہ کوشش کی جارہی کہ ٹینڈر کارروائی جلدازجلد مکمل کرکے تعمیراتی کام اگلے سال کے آغاز میں شروع کیا جائے ۔
ریڈ لائن منصوبے کے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر رشید مغل کا کہنا ہے کہ منصوبہ پر 493.5 یو ایس ملین ڈالر آرہی ہے اور اس میں ڈونرز ایجنسیوں آسان شرائط پر قرضہ فراہم کریں گی جس میں ایشیئین ڈیولپمنٹ بینک 225.3ملین ڈالر، ایشیئین انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ بینک 71.81ملین ، فرنچ ڈیولپمنٹ ایجنسی 71.81 ملین فراہم کریگی، منصوبہ میں سندھ حکومت کا بھی شئیر ہوگا جوکہ 75.71 ملین ڈالر ہے، ریڈ لائن منصوبے کو انوائرمنٹ فرینڈلی بنانے کے لیے گرین کلائمنٹ فنڈ (جی سی ایف) بھی اس پروجیکٹ کیلئے اسپانسر کریگی جو کہ 49ملین ہے جس میں 11.8ملین ڈالر گرانٹ ہوگی جبکہ بقیہ 37.2ملین ڈالر آسان شرائط پر قرضہ ہوگا۔
واضح رہے کہ یہ ریڈ لائن منصوبہ کئی سالوں سے تاخیر کا شکار رہا ہے تاہم وفاقی و سندھ حکومت اور ڈونرز ایجنسیوں کی دلچسپی کی وجہ سے اب بلاآخر عملی شکل اختیار کررہا ہے، ایکنیک نے گذشتہ سال یہ منصوبہ منظور کیا جبکہ عالمی ڈونرز ایجنسیوں نے چھ ماہ قبل قرضہ منظور کیا۔ ریڈ لائن بس پروجیکٹ سندھ حکومت کا منصوبہ ہے، وفاقی حکومت نے ساورن گارنٹی دی ہے تاہم قرضے کی ادائیگی سندھ حکومت کو 30سال میں ادا کرنی ہوگی ،
سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر رشید مغل کا کہنا ہے کہ گرین کلائمنٹ فنڈ (جی سی ایف) بھی اس پروجیکٹ کو ماحول دوست بنانے کے لیے فنڈز فراہم کررہی ہے جو بائیو گیس پلانٹ کی تنصیب ، ڈرینیج سسٹم اور بائیسکل ٹریک کی تعمیر پر خرچ کیے جائیں گے۔
ریڈ لائن منصوبے کی خاص بات یہ ہے کہ پیپلز چورنگی سے لے کر صفورا چورنگی تک سائیکلنگ ٹریک بھی تعمیر کیا جائے گا، شہر میں پہلی بار بی آر ٹی ایس کا نیا نظام تھرڈ جنریشن متعارف کرایا جارہا ہے جس میں ریڈ لائن بس منصوبے کے خصوصی کوریڈور سے10 پبلک ٹرانسپورٹ روٹس مزید منسلک ہونگے جو فیڈر بس سروس فراہم کریں گے، بس ٹرانسپورت سسٹم میں ایندھن کی فراہمی کے لیے ملک بھر میں پہلی بار بائیو گیس پلانٹ لگایا جائے گا، یہ بائیو گیس پلانٹ کراچی کی بھینس کالونی میں تعمیر ہوگا جہاں مویشیوں کے فضلے سے یومیہ 20ہزار کلوگرام سی این جی پیدا ہوگی، بایو گیس پلانٹ کی تنصیب سے کئی فوائد میسر آئیں گے، بائیو گیس پلانٹ کی وجہ سے یہ منصوبہ ماحول دوست ہوگیا ہے، گرین کلائمنٹ فنڈ (جی سی ایف) بائیو گیس کے لیے اسپانسر کریگی۔
کراچی کی سب سے بڑی مویشی منڈی بھینس کالونی(کیٹل کالونی ) ہے جہاں ہزاروں جانور ہر وقت موجود رہتے ہیں، اس منڈی سے کراچی کے شہریوں کو گوشت اور دودھ فراہم ہوتا ہے، منڈی میں صفائی ستھرائی اور سڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے، کمیونیٹی ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت کیٹل کالونی میں صفائی ستھرائی اور سڑکوں کی تعمیر ہوگی، علاقے میں بائیو گیس کی تنصب سے جانوروں کے فضلے کے ٹھکانے لگانے کا مسئلہ بھی حل ہوجائیگا۔
بائیو گیس پلانٹ سے دس ہزار کلوگرام سی این جی ریڈ لائن بسوں کو فراہم کی جائے گی، بائیو گیس پلانٹ سے ریڈ لائن بسوں کو فراہم ہونے والی سی این جی صرف23 روپے کلو پڑیگی ، بقیہ دس ہزار کلو سی این جی سوئی سدرن گیس کمپنی کے سسٹم میںڈال دی جائیگی جس سے سالانہ ایک ارب روپے ریونیو جنریٹ ہونے کی توقع ہے اور سندھ حکومت کو ریڈ لائن بس آپریشنل کے لیے کسی قسم کی سبسڈی دینے کی ضرورت نہیں پڑیگی۔
رشید مغل کے مطابق ریڈ لائن بس کوریڈور ماڈل کالونی تا ٹاور 29کلومیٹر طویل ہے جس میں 24کلومیٹر اس
منصوبے کے تحت (dedicated corridor)خصوصی کوریڈور تعمیر کیا جائے گا، پانچ کلومیٹر نمائش چورنگی تا میونسپل پارک(جامع کلاتھ مارکیٹ) کامن کوریڈور ہےجو کہ وفاقی حکومت تعمیر کررہی ہے، کامن کوریڈور پر گرین لائن ، ریڈ لائن اور دیگر لائنوں کی بس سروسز آپریٹ کی جائیں گی، ریڈ لائن بس منصوبے کے تحت ماڈل کالونی تا نمائش چورنگی براستہ ملیر ہالٹ ، ملیر کینٹ گیٹ نمبر 6، صفورا چورنگی، یونیورسٹی روڈ ، پیپلزچورنگی اور نمائش چورنگی 22کلومیٹر اور پھر میونسپل پارک تا ٹاور 2کلومیٹر خصوصی کوریڈور تعمیر کیا جائے گا۔ کوریڈور کے راستے میں قائم تاریخی عمارات کو تزئین و آرائش بھی کی جائیگی اور پارکنگ ایریاز بھی قائم کیے جائیں گے۔ منصوبے کے تحت 24 اسٹیشن تعمیر ہونگے، کوریڈور کے راستے میں قائم تاریخی عمارات کو تزئین و آرائش بھی کی جائیگی اور پارکنگ ایریاز بھی قائم کیے جائیں گے۔ 53کلومیٹر طویل برساتی نالے بھی تعمیر کیے جائیں گے۔
ریڈ لائن کا خصوصی کوریڈور مکمل طور grade at(زمین) پر ہوگا اور کوئی ایلیوٹیڈ اسٹرکچر نہیں ہوگا، البتہ عام ٹریفک کے لیے مختلف مقامات پر ایلیوٹیڈ اور انڈر پاس اسٹرکچر تعمیر کیے جائیںگے جو مجموعی طور پر 10.3کلومیٹر طویل ہوگا ، ان مقامات میں نیوٹاﺅن پولیس اسٹیشن بس اسٹاپ، موسمیات بس اسٹاپ، شاہراہ قائدین اور سوسائٹی آفس شامل ہیں۔
ریڈ لائن بس منصوبے کے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر رشید مغل نے کہا کہ ریڈ لائن منصوبے کی ماحول دوست ہونے کی دوسری بڑی وجہ شہر میں سائیکلنگ کے کلچر کو فروغ دینا ہے، اس منصوبے کے تحت پیپلز چورنگی سے لے کر صفورا چورنگی 58کلومیٹر سائیکلنگ ٹریک بھی تعمیر کیا جائے گا، ریڈ لائن بس منصوبہ پر 213 جدید بسیں آپریٹ کی جائیں گی جن کا کرایہ پندرہ سے 55روپے ہے۔، تعمیراتی کام اگلے سال کے شروع میں متوقع ہے اور چوبیس ماہ میں مکمل کرلیا جائے گا، ریڈ لائن بس سروس ماڈل کالونی تا ٹاور مسافروں کو سفری سہولیات فراہم کریگی، منصوبہ کا خصوصی کوریڈور ماڈل کالونی تا نمائش چورنگی براستہ یونیورسٹی روڈ تعمیر کیا جائے گا۔ نمائش چورنگی تا جامع کلاتھ گرین لائن کوریڈور استعمال ہوگا، جامع کلاتھ تا ٹاور ریڈ لائن کا خصوصی کوریڈور تعمیر ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں