60

بلدیاتی ادارے تحلیل، ناکام ترین مئیر کراچی بھی گھرروانہ، شہری وملازمین یوم نجات منائیں گے

کراچی سمیت سندھ بھر کے بلدیاتی ادارے پیر کے روز تحلیل ہورہے ہیں ، کراچی کی بلدیاتی تاریخ کے کمزوراور ناکام ترین مئیر کراچی وسیم اختر بھی اپنے عہدے سے سبکدوش ہوکر گھر روانہ ہوجائیں گے،اگرچہ کہ مئیر کراچی وسیم اختر کے پاس اختیارات او ر وسائل نہایت کم تھے لیکن جو ادارے انھیں میسر تھے اس میں بھی ان کی کارکردگی نہایت مایوس کن ثابت رہی ، یہی وجہ ہے کہ ان کی رخصتی پر افسران و ملازمین اور شہریوں میں خوشی کی لہر دوڑی ہوئی اور مختلف اداروں میں یہ دن یوم نجات کے طور پر منایاجارہا ہے،
مئیر کراچی وسیم اختر کی رخصتی کے ساتھ ہی ان کے داست راست افسران میں کھلبلی مچی ہوئی ہے کہ اب نیب کے ہاتھوں ان کا کٹا چھٹا کھلے گا، مئیر کراچی کے چار سالہ سیاہ ترین دور میں کراچی کے لیے کوئی ایک بہتر کام نہ ہوسکا صرف لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم رہا،
سندھ میں پیپلزپارٹی کی قائم صوبائی حکومت نے اگرچہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کو بے دست و پا کردیا تھا اور مئیر کراچی کو وہ اختیارات بھی حاصل نہیں تھے جو انگریزوں کے دور میں قائم بلدیہ کے مئیر کو تھے یا بعدازاں سابق ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کے نافذ کردہ شہری حکومت کے ناظمین کو میسر تھے، لیکن اس کے باوجود مئیر کراچی کے پاس درجن بھر ایسے ادارے تھے جن کو مثالی بناکر وہ شہر کی خدمت کرسکتے تھے ، مئیر کراچی وسیم اختر نے ان اداروں کو ٹھیک کرنے کے بجائے مسلسل ٹرانسفر پوسٹنگ کرکے اپنے من پسند افسران کی تعیناتی کی جس کی وجہ سے ان اداروں کا بیڑہ غرق تو بھی ہوا اور شہریوں کی خدمت بھی نہ ہوسکی، ان اداروں میں کراچی چڑیا گھر، سفاری پارک، پارکس اینڈ ہارٹیکلچرڈیپارٹمنٹ، ویٹرینیری ڈیپارٹمنٹ، کچی آبادی، محکمہ لینڈ، انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ، اسپورٹس اینڈ کلچر ڈیپارٹمنٹ، میونسپل سروسز، سٹی انسٹی ٹیوٹ امیج منیجمنٹ، ریکوری چارجڈ پارکنگ، سٹی وارڈن، اربن سرچ اینڈ ریسکیو، فائر بریگیڈ، اینٹی انکروچمنٹ سیل، آرکائیور اور ریسرچ ، فیومیگیشن ویکٹر کنٹرول اور میونسپل یوٹیلیٹی چارجز شامل ہیں،
ایکسپریس کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق منتخب بلدیاتی نمائندوں کے چار سالہ دور میں بیشتر اداروں میں بے قاعدگیاں عروج پر رہیں، اہل و تجربہ کار افسران کو گھر بیٹھاکر من پسند افسرن تعینات کیے گئے جس کی وجہ کئی اداروں کا بیڑہ غرق ہوگیا اور ریونیو کی مد میں شدید کمی کا سامنا رہا، ان تمام معاملات میں میونسپل کمشنر ڈاکٹر سید سیف الرحمان نے مئیر کراچی وسیم اختر اور ان کی ٹیم کا بھر پور ساتھ دیا اور کسی مرحلہ میں فرض شناس افسر کا کردار ادا نہیں کیا،
سجن یونین کے صدر اور آل پاکستان لوکل گورنمنٹ وکرز فیڈریشن کے چئیرمین سید ذوالفقار شاہ نے کہاہے کہ کراچی سمیت صوبے بھر کے بلدیاتی نمائندوں کی رخصتی پر یوم نجات اور یوم تشکر منایا جائے گا، ذوالفقار اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ سندھ کے تمام بلدیاتی نمائندوں نے شہریوں اور ملازمین کے لیے کچھ ڈیلیور نہیں کیا ہے، انھوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے بلدیاتی اداروں کو اختیارات نہیں دیئے، س معاملے میں ہماری یونین ہر مرحلے میں ان کے ساتھ کھڑی رہی لیکن جو اختیارات ان بلدیاتی نمائندوں کو میسر تھے اس میں بہتری لانے کے بجائے تنزلی کا باعث بنے،
ذوالفقار شا ہ نے مئیر کراچی وسیم اختر کی کارکردگی پر سوالیہ نشان بنایا ہے کہ ان کے دور میں نہ تو شہریوں کو سہولیات مل سکیں اور نہ ہی ملازمین اور پنشنرز کو ان کے جائز حقوق مل سکے، اس چار سالہ دور میں مختلف مدات میں ملازمین اور پنشنرز کے کروڑوں روپے کے واجبات ہیں جو ادا نہیں کیے جاسکے ہیں، من پسند ٹھیکیداروں کو ادائیگیاں کی گئی ہیں جبکہ بیشتر ٹھیکیدار اپنے واجبات سے محروم ہیں، سابقہ شہری ناظمین کے پاس جو اختیارات تھے ، سندھ حکومت نے بیشتر چھین لیے، اس میں کوئی شک نہیں کہ مئیر کراچی وسیم اختر کے پاس اختیارات اور فنڈز کی کمی کا سامنا تھا لیکن کے پاس محکمہ لینڈ، محکمہ کچی آبادی، محکمہ ویٹرینری، محکمہ لوکل ٹیکس، چارجڈ پارکنگ۔ محکمہ اسٹیٹ اور فوڈ کوالٹی کنٹرول جیسے ادارے تھے جن میں پلاننگ کے ذریعے بہتری لائی جاسکتی تھی اور اربوں روپے آمدنی میں اضافہ کیا جاسکتا تھا، قانون کے تحت سمندری ٹیکس نافذ کیا جاسکتا تھا لیکن افسوس منتخب بلدیاتی نمائندوں نے ان محکموں میں کسی قسم کی بہتری لانے کی کوشش نہیں کی، اس ضمن میں مئیر کراچی اوران کی ٹیم میں وژن کی کمی اور خدمت خلق کا فقدان نظر آیا،
بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ایک آفیسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مئیر کراچی وسیم اختر کے دور میں ٹرانسفر پوسٹنگ کے بنیادی قوانین کو شدید نظرانداز کیا گیا، مختلف اداروں کی تیکنیکی پوسٹوں پر نان ٹیکنیکل اور ناتجربہ کار افسران کو تعینات کیا گیا جن میں کراچی زو، سفاری پارک، محکمہ ویٹرینیری ، سٹی انسٹی ٹیوٹ آف امیج منیجمنٹ، فوڈ لیبارٹری، پارکس اینڈ ہارٹیکلچر، محکمہ فنانس، محکمہ اسٹیٹ، وغیرہ شامل ہیں، اہل و تجربہ کار افسران جن میں منصورقاضی، محمد شاہد، راشد نظام، اصغردرانی، احسن مرزا ودیگر ہیں ان سے کام لینے کے بجائے انھیں گھر بیٹھا کر رکھا جس کی وجہ اداروں کی کارکردگی شدید متاثر رہی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں