48

ایک ہزار بسیں، ڈیڑھ سال گذرگئے سندھ حکومت اور ڈائیو کا معاہدہ عملدرآمدنہ ہوسکا،

کراچی::سندھ حکومت اور نجی ٹرانسپورٹ کمپنی ڈائیو کے درمیان کراچی میں ایک ہزار بسیں چلانے کا معاہدے طے ہوئے ڈیڑھ سال کا عرصہ گذرچکا ہے تاہم ابھی تک ایک بس بھی نہیں آسکی ہے، پیپلزپارٹی کے 12سالہ دور حکومت میں کراچی کے لیے ایک نئی ]پبلک ٹرانسپورٹ کا اضافہ نہیں ہوا ہے،
تفصیلات کے مطابق 2019ئ میں نجی کورین کمپنی ڈائیو سے سندھ حکومت کا معاہدہ ایم او اےmemorandum of association سائن ہوا تھا جس کے تحت انھیں ایک سال میں یہ بسیں لانی تھیں تاہم یہ بسیں ابھی تک نہیں آسکی ہیں جس کی وجہ سے کراچی کے شہری بہتر پبلک ٹرانسپورٹ سروس سے محروم ہیں ،
صوبائی محکمہ ٹرانسپورٹ کے ایک آفیسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سندھ حکومت اور ڈائیو کمپنی کے درمیان کراچی میں نئی ایک ہزار ائیرکنڈیشنڈ سی این جی بسیں لانے اور آپریٹ کرنے کا معاہدہ طے پایا تھا، معاہدے کے تحت 2019ئ کے جون میں پہلے فیز میں 200بسیں لانی تھیں اور اس کے بعد بتدریج 800بسیں لانچ کرنی تھیں، اس ضمن میں صوبائی محکمہ ٹرانسپورٹ نے روٹ اور کرایہ جات بھی طے کرلیے تھے تاہم نجی کمپنی کی جانب سے یہ بسیں ابھی تک نہ آسکیں،
واضح رہے کہ کراچی میں گذشتہ 16 سالوں سے کوئی نئی بس اسکیم لانچ نہیں ہوسکی ہے، پیپلزپارٹی کی حکومت کو بھی سندھ میں حکومت کرتے 12 سال کا عرصہ گذرچکا ہے اور اس دوران دو پبلک ٹرانسپورٹ اسکمیں لانچ کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی تاہم سندھ حکومت کی عدم دلچسپی کی وجہ سے دونوں اسکیموں کو سرخ فیتہ پہنا دیا گیا، چنگچی رکشہ ، موٹرسائیکل چنگچی اور نجی پرائیویٹ کمپنیاں شہر میں اگرچہ ٹرانسپورٹ سروس پہنچارہی ہیں تاہم ان کا کرایہ اتنا زیادہ ہے کہ غریب آدمی اس کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
اس وقت سندھ حکومت کی ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے شہر کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ کی سخت قلت ہے، ڈھائی کروڑ آبادی والے شہر میں پندرہ ہزار بسوں کی ضرورت ہے۔
خبر کی تصدیق کے لیے نمائندہ اردو ٹائمز نے وزیر ٹرانسپورٹ اویس شاہ کو کئی بارفون کیا تاہم انھوں نے فون موصول کرنے کی زحمت نہیں کی، سیکریٹری ٹرانسپورٹ شارق احمد نے نمائندہ ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اگر شہر میں نئی بسیں آئی ہوتیں تو سب کو پتہ چل جاتا، انھوں نے کہا کہ انھیں یہ عہدہ سنبھالے ہوئے چھ ہفتے ہوئے ہیں اور انھیں اس منصوبے سے متعلق کچھ علم نہیں ہے، انھوں نے کہا کہ وہ متعلقہ افسران سے پوچھ کراس منصوبے کے متعلق بتائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں