37

ایس تھری منصوبے میں مزید تبدیلیاں، ورلڈ بینک اور نجی ادارے بھی شامل ، منصوبے میں پانچ سال تاخٖیر کا اندیشہ

کراچی سندھ حکومت کی جانب سے گریٹر سیوریج پلان ایس تھری یں کئی تبدیلیاں لائی جاچکی ہیں، منصوبے میں تبدیلی لاکر اسے مزید modify(بہتر)کیا جارہا ہے، پہلے یہ منصوبہ وفاقی و صوبائی حکومت کی فنڈنگ سے ہورہا تھا ، اب نہ صرف ورلڈ بینک اس منصوبے کے لیے فنڈنگ کررہا ہے بلکہ پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے ذریعے بھی منصوبے کے لیے نئے component(اجزاء) شامل کردیئے گئے ہیں، سپریم کورٹ نے ایس تھری منصوبے کی تکمیل کی مدت رواؓں سال دسمبر دی ہے لیکن ماضی میں ہونے والی ناقص منصوبہ بندی ، فنڈز کے اجراءمیں تاخیر اور اب نئے اسٹیک ہولڈرز کی شمولیت سے اس منصوبے کی تکمیل میں پانچ سال متوقع ہیں۔
تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم کے اعلان کردہ کراچی ترقیاتی پیکیج میں گریٹر سیوریج پلان S-III کی تکمیل کے لیے نئے اسٹیک ہولڈرز شامل کردیئے گئے ہیں، ایس تھری فیزون لیاری بیسن میں ٹرانسمیشن لائن ، ٹریٹمنٹ پلانٹ ون اور ٹریٹمنٹ پلانٹ تھری وفاقی و سندھ حکومت کی فنڈنگ سے تعمیر ہونگے جبکہ فیز ٹو ملیر بیسن میں ٹرانسمیشن لائن اور ٹریٹمنٹ پلانٹ فور ورلڈ بینک کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ایس تھری کی تکمیل کے بعد پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ٹی پی ون اور ٹی پی فور کے ٹریٹ ہونے والے سیوریج کو ری سائیکل کرکے اسے صنعتی استعمال کے قابل بنایا جائے گا،
واٹر بورڈ کے ایک آفیسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اگرچہ کہ ایس تھری کی نظرثانی شدہ پی سی ون 36.20ارب روپے وفاقی حکومت نے دوسال قبل منظور کررکھی ہے لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے بروقت فنڈنگ نہ ہونے اور صوبائی حکومت کو درپیش مالی بحران کے سبب وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ایس تھری منصوبے کا فیز ٹو ورلڈ بینک کے حوالے کردیا جائے، واضح رہے کہ ورلڈ بینک گذشتہ ایک سال سے کراچی واٹر سیوریج اینڈ سروسز امپروومنٹ پروجیکٹ (KWSSIP)پر کام کررہا ہے، اس پروجیکٹ کے ذریعے کراچی کے واٹر اینڈ سیوریج سسٹم، واٹر بورڈ کے ہیومن ریسورسز اور ٹیکس ریکوری کے نظام کو بہتر کیا جائے گا، یہ پروجیکٹ 12سال میں مکمل کیا جائے گا،
ورلڈ بینک ملیر ندی میں ٹرانسمیشن لائن کی تنصیب اور کورنگی میں ٹریٹمنٹ پلانٹ فور کی تعمیر کریگا، یہ ٹریٹمنٹ پلانٹ 180ایم جی ڈی سیوریج واٹر کو ٹریٹ کریگا، اس ضمن میں ورلڈ بینک ملیر بیسن اور ٹی پی فور کی فزیبیلیٹی اسٹڈی ایک سے ڈیڑھ سال میں مکمل کریگا جس کے بعد تعمیراتی کام شروع ہوگا جو تین سال میں مکمل کیا جائے گا جس پر 20ارب روپے لاگت آئے گی،
سندھ حکومت کی منصوبہ بندی کے تحت ایس تھری کی تکمیل کے بعد پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے ٹی پی ون اور ٹی پی فور کو ری سائیکل کرکے اسے صنعتی استعمال کے قابل بنایا جائے گا، ٹی پی ون کو ری سائیکل کرنے کے لیے 25ارب روپے اور ٹی پی فور کو ری سائیکل کرنے کے لیے 34 ارب روپے لاگت آئے گی،
واٹر بورڈ کے ایک ذرائع کے مطابق ایس تھری کے پروجیکٹ ڈائریکٹر کی زیر نگرانی لیاری بیسن میں ٹرانسمیشن لائن کی تنصیب ، ٹی پی ون اور ٹی پی تھری کی تعمیر نو کی جائے گی۔
واضح رہے کہ ایس تھری منصوبہ گذشتہ 12سال سے تاخیر کا شکار ہے، 2008ءمیں کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے تین ٹریٹمنٹ پلانٹس نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا اور جب سے سیوریج واٹر بغیر ٹریٹ کیے سمندر میں ڈالا جارہا ہے اسوقت تقریبا460ملین گیلن ڈیلی سیوریج واٹر سمندر میں بغیر ٹریٹ کیے ڈالا جارہا ہے جس سے سمندری حیاتیات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے ، ایس تھری منصوبہ کا آغاز 2013 ء میں ہوا اور اسے دو سال میں مکمل کیا جانا تھا لیکن ایس تھری منصوبہ کی لاگت میں اضافے کے باعث پانچ سال تک وفاقی و صوبائی حکومتوں کے درمیان متنازعہ بنا رہا ، علاوہ ازیں واٹر بورڈ کی غفلت کے باعث بھی یہ منصوبہ سست روی کا شکار ہے،
واٹر بورڈ کے ذرائع کے مطابق ایس تھری منصوبہ کے ذریعے 460 ملین گیلن یومیہ گھریلو سیوریج کو صاف کرکے سمندر برد کیا جانا ہے ، پہلے اس پر لاگت کا تخمینہ 7.9 ارب روپے تھا تاہم بعدازاں منصوبے کو مزید اپ گریڈ کیا گیا تو نظرثانی شدہ لاگت 36.2 ارب ہوگئی، اگرچہ کہ وفاقی حکومت نے یہ نظرثانی شدہ لاگت 2018ءکو منظور کرلی ہے لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے متواتر فنڈنگ نہیں ہورہی ہے، گذشتہ سال کچھ فنڈز مختص کیے تھے اس کا بھی اجراءنہ ہوسکا ہے، صوبائی حکومت نے رواں مالی سال کے بجٹ میں صرف 50ملین روپے مختص کیے ہیں۔
واٹر بورڈ ذرائع کے مطابق ایس تھری فیز ون کے تحت لیاری ندی میں پائپ لائن اور کنڈیوٹ کی تنصیب کا کام 33.32کلومیٹر ہے، یہ نظام TP-I ہارون آباد سائیٹ ایریا اور TP-III ماری پور روڈ سے منسلک کیے جائیگا، منصوبہ بندی کے تحت TP-I میں سیوریج کی ٹریٹمنٹ 100ایم جی ڈی ہوگی اور TP-III میں 180 ایم جی ڈی ٹریٹمنٹ کی صلاحیت ہوگی، فیز ون پر 21.31 ارب روپے کی لاگت آئیگی۔اب تک فیز ون پر لیاری ندی میں یاسین آباد تا ماڑی پور تک ٹرانسمیشن لائن بچھادی گئی ہے جبکہ یاسین آباد تا سرجانی ٹاﺅن ٹرانسمیشن لائن کی تنصیب جاری ہے جو اگلے سال دسمبر میں مکمل ہوگا، ٹی پی تھری کی تعمیر نو کے لیے بیشتر مشینری درآمد کرکے نصب بھی کردی گئی ہے، سپریم کورٹ کی ہدایت پر کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ نے 2018ءمیں ماڑی پور پر واقع ٹریٹمنٹ پلانٹ تھری (TPIII کی نئی مشینری نصب کردی تھی اور کچھ پرانی مشینری کو کارآمد بنادیا گیا تھا۔اس منصوبے کا افتتاح سپریم کورٹ آف پاکستان کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے 22جولائی 2018ءکو کیا تھا، ٹی پی تھری کی پرانی مشینری کی بحالی اور کچھ نئی مشینوں کی تنصیب سے 77ملین گیلن یومیہ سیوریج ٹریٹمنٹ کرکے ایک سال تک سمندر میں پھینکا جاتا رہا تاہم پانچ ماہ سے یہ بند پڑا ہے، مون سون کی بارشوں سے یہ زیر آب آگیا اور الیکٹریکل نظام تباہ ہوگیا، واٹر بورڈ نے الیکٹریکل سسٹم بحال کردیا گیا تاہم جمع شدہ برساتی پانی ابھی تک نہیں نکالا جاسکا ہے جس کی وجہ سے یہ ٹریٹمنٹ پلانٹ بدستور بند پڑا ہے، ٹریٹمنٹ پلانٹ ون کی تعمیر نو کے لیے مشینری درآمد کرلی گئی ہے لیکن ابھی تک نصب نہیں کی جاسکی ہے۔
واٹر بورڈ کے ذرائع کے مطابق اگرچہ کہ سندھ حکومت نے ایس تھری منصوبے میں کافی خوشنما تبدیلیاں کردی ہیں لیکن فی الحال یہ منصوبہ انتہائی سست روی کا شکار ہے اور سیوریج کا ایک قطرہ بھی ٹریٹمنٹ نہیں کیاجارہا ہے اور سمندری حیاتیات بدستور آلودگی کا شکار ہے، کراچی پیکیج میں بھی وفاقی و صوبائی حکومت دونوں جانب سے کراچی کی تعمیر و ترقی اور فنڈزکے لیے بڑے بڑے اعلانات کیے گئے ہیں لیکن ماضی کی تجربے کو دیکھ کر صرف یہی کہا جاسکتا ہے کہ کراچی کے ہرمیگا پروجیکٹ کو اتنا پیچیدہ بنادیا جاتا ہے کہ وہ سالوں تاخیر کا شکار ہوجاتا ہے، ایس تھری منصوبہ بھی ماضی میں وفاقی و صوبائی حکومت کی عدم توجہی کا شکار رہا ہے، اب جب کہ اس منصوبہ کو بھی کافی پیچیدہ بنادیا گیا ہے تو اس کی عملی شکل کیا ہوگی یہ وقت بتائے گا ، ذرائع کے مطابق ایس تھری منصوبے میں کافی تاخیر برتی جاچکی ہے، اب اگر نیک نیتی سے بھی کام لیا جائے تو اس منصوبے کی تکمیل میں کم ازکم پانچ سال لگیں گے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں