37

اورنج لائن بس منصوبے پر ترقیاتی کام بلاآخر بحال، تکمیل اگلے سال ہوگی

کراچی میں اورنج لائن بس منصوبہ پر ترقیاتی کام بلاآخر 10اگست کو بحال ہوگیا ہے،کوروناوائرس کی وجہ سے منصوبہ پر ترقیاتی کام چار ماہ مکمل طور پر بند رہا، وفاقی ھکومت نے جون میں تعمیراتی کاموں کی اجازت دیدی تھی لیکن یہاں سندھ حکومت کی روایتی نااہلی آڑے آگئی اور ترقیاتی کام بحال نہ ہوسکا، لاہو اور پشاور کی آبادی کراچی سے کہیں کم ہے لیکن دونوں شہروں میں شہری ماس ٹرانزٹ سہولت اٹھارہے ہیں لیکن کراچی وہ بدنصیب شہر ہے جو سندھ کو ریونیو کی مد میں نوے فیصد اوروفاق کو ستر فیصد دے رہا ہے لیکن پھر بھی اس کے شہری ماس ٹرانزٹ سہولت سے محروم ہیں اور ٹوٹی پھوٹی بسوں میں جانوروں کی طرح سفرکرنے پر مجبور ہیں، کراچی کے شہریوں کو بس ریپیڈ ٹرانزٹ کی سہولت حاصل کرنے کے لیے مزید ایک سال انتظار کرنا ہوگا،
یہ منصوبہ اورنگی ٹائون آفس تا میٹرک بورڈ صرف چار کلومیٹر تک محیط ہے لیکن حکومت سندھ کی بے حسی کے باعث چار سال گذرجانے کے باوجود ابھی تک مکمل نہیں ہوا ہے، اگرچہ کہ وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ کی ہدایت پر منصوبہ کی تکمیل کی ڈیڈ لائن رواں سال نومبر رکھی گئی ہے لیکن سست روی کے باعث منصوبہ کی تکمیل اگلے سال مارچ تک ہوسکے گی،
اورنج لائن بس منصوبہ صوبائ حکومت کے ادارے سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی(ایس ایم ٹی اے) کی زیر نگرانی 2016ءمیں شروع کیا گیا تھا اور اسے ایک سال میں مکمل کیا جانا تھا لیکن ساڑھے چار سال گذرجانے کے باوجود اس کا 80فیصد کام مکمل ہوا ہے۔سندھ ھکومت کے ایک سینیر بیوروکریٹ کے مطابق دیگر اداروں کی طرح ایس ایم ٹی اے میں بھی پیپلزپارٹی نے سیاسی بنیادوں پر بھرتیاں کی ہیں جس کی وجہ سے یہ ادارہ تباہ وبرباد ہوگیا ہے ،کراچی کے ہر منصوبہ میں تاخیر کی یہ سب سے بڑی وجہ ہے۔
منصوبہ پر اب تک ایلیوٹیڈٹریک مکمل ہوچکا ہے۔ میٹرک بورڈ تا بنارس پل سڑک کی تعمیر کا کام بھی مکمل ہے۔ چار اسٹیشن۔ چار پیڈسٹرین برجز اور ڈپو کا کام نامکمل ہے۔ اسسٹیشنوں ۔ پیڈسٹرین برجز اور ڈپو کا ترقیاتی کام 10اگست کو بحال کردیا گیا ہے۔ کام کی رفتار بھی تیز ہے لیکن ماضی میں ہونے والی سست روی اور غفلت اتنی زیادہ ہوچکی ہے کہ تین ماہ میں تکمیل ناممکن بات ہے۔ اسٹیشنوں کا کام فنی نوعیت کا ہوتا ہے۔ چھوٹے پارٹس کی فٹنگ وقت طلب کام ہوتا ہے۔ اسٹیشن کے لیے لفٹرز اور دیگر پارٹس چین سے درآمد کیے جاچکے ہیں۔ ایک لفٹر ابھی نہیں آیا ہے اور اگلے ماہ درآمد کرلیا جائے گا۔
واضح رہے کہ سندھ حکومت نے اپنی ناہلی کے باعث اورنج لائن کے لیے بسوں کی خریداری اور آپریشنل کی ذمہ داری وفاقی حکومت کے کاندھوں پر ڈال دی ہے، چھ ماہ قبل سندھ حکومت اور وفاقی حکومت میں معاہدہ طے پاچکا ہے کہ اورنج لائن کی بسوں کی خریداری اور آپریشنل کی ذمہ داری وفاقی حکومت سنبھالے گی، وفاقی حکومت اورنج لائن کے لیے اگلے سال تک بسیں درآمد کریگی، یہ بسیں اورنج لائن اور گرین لائن کی روٹ پرچلیں گی۔
سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے ذرائع نے بتایا کہ وفاقی حکومت اور سندھ حکومت کا معاہدہ طے پا چکا ہے ہے جس کے تحت وفاقی حکومت اورنج لائن منصوبے کے لیے 25بسوں کی خریداری اور آپریشنل انتظام تین سال سنبھالے گی لیکن اس کے تمام اخراجات سندھ حکومت برداشت کریگی، تین سال کے بعد وفاقی حکومت بسیں اور آپریشنل انتظامات سندھ حکومت کے حوالے کردیگی، اب سندھ حکومت کی ذمہ داری صرف اورنج لائن بس منصوبے کے کوریڈور کی تعمیر ہے لیکن اس میں بھی سندھ حکومت اپنی ذمہ داری سے عہدہ برآ نہیں ہوپارہی ہے۔

۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں