54

اشتہاری کا سرنڈر کرنا ضروری، نوازشریف کو مفرور ڈکلئیر، پھر اپیل سنیں گے، ہائی کورٹ

اسلام اآباد ہائی کورٹ نے نوزشریف کی ایلوں پر سماعت کے دوران کہا ہےکہ اس قانونی نکتے پر عدالت کی معاونت کریں کہ اشتہاری ملزم کے سرنڈر کیے بغیرکسی دوسرے کیس میں اس کی درخواست سنی جاسکتی ہے یا نہیں؟جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ نواز شریف 19 نومبر 2018 کو بیرون ملک گئے، چار ہفتے کی مدت دسمبر میں ختم ہوئی اور وفاقی ھکومت نے ابھی تک ان کی صھت معلوم کرنے کی کوشش ہی نہیں کی، سوال یہ ہے کہ ایک کیس میں اشتہاری ہونے کے بعد انحیں سناجاسکتا ہےیا نہیں، خواجہ ھارث نے کہا کہ وقت دیا جاِئے اگر قانونی نکات پر کوئی معانت نہ کرسکا تو سرنڈر پر نظرثانی کی درخواست واپس لے لوں گا، جسٹس مھسن کیانی نے کہا کہ نواز شریف نے سرنڈر نہیں کیا، ہم انہیں استثنیِ نہیں دے رہے ہیں، صرف قانونی نکات پر دلائل کے لیے خواجہ حارث کو وقت دے رہے ہیں، اگر اشتہاری قرار دینا ہےتو اس کا پورا پراسیس ہے جو فالو ہونا ہے، اس عادالت نے ابھی تک نواز شریف کی استثنیِ کی درخواست منظور نہیں کی
جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ وفاقی حکومت نے اس متعلق ابھی تک کوئ کوشش نہیں کی، نواز شریف کو مفرور قرار دینے کے حوالے سے ہم قانونی کارروائ آگے بڑحاتے ہیں، ، جسٹس کیانی نے کہا کہ نواز شریف برطانیہ میں ہیں، ان کا ڈاکٹر امریکہ میں ہے، زبانی علاج کیاجارہا ہے، اگر کوئ اسپتال میں ہو تو پھر بات الگ ہوتی ہے، اس کے ہم پہلے مفرور ڈکلئیر کریں گے اور پھر اپیل سنیں گے، عدالت نے کیس کی سماعت منگل تک ملتوی کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں