57

اسلام آباد ہائیکورٹ نے نواز شریف کو 10 ستمبر کو طلب کرلیا

اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کے خلاف درخواست پر کہا ہے کہ وہ نواز شریف کو سرینڈر کرنے کے لیے ایک موقع فراہم کر رہے ہیں، آئندہ سماعت پر نواز شریف کو عدالت پیش ہونا پڑے گا، یہ 10 ستمبر کو ہوگی۔جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویڑن بینچ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کی درخواست، نواز شریف کی جانب سے العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کے خلاف درخواستوں پر سماعت کی۔ساتھ ہی قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف کی بریت کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی۔مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز، شریف خاندان کے خلاف دائر مختلف ریفرنسز کی متفرق درخواستوں کی سماعت میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوئیں ان کے ہمراہ ان کے شوہر کیپٹن (ر) محمد صفدر، مسلم لیگ (ن) کے رہنما پرویز رشید بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔
سماعت کے آغاز میں عدالت نے ریمارکس دیے کہ عدالت میں اتنا رش ہے اگر کورونا وائرس پھیل گیا تو کون ذمہ دار ہوگا، تھوڑی احتیاط ہمیں خود بھی کرنی چاہیے، ہمارے اسٹاف کو بھی عدالت آنے میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑا، عام آدمی کو پریشانی نہیں ہونی چاہیے۔عدالت میں وکیل خواجہ حارث نے مو¿قف اختیار کیا کہ عالمی وبا کورونا کی وجہ سے میاں نواز شریف واپس نہیں آسکتے لاہور ہائی کورٹ میں بھی معاملہ زیر سماعت ہے۔جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ جو مجرمانہ اپیل ہمارے پاس ہیں اس پر وہ ضمانت پر تھے، کیا کرمنل اپیل نمبر ایک کا فیصلہ معطل ہو گیا ہے؟عدالت نے دریافت کیا کہ اگر لاہور ہائی کورٹ نے ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کا حکم دیا تھا تو کیا العزیزیہ کی سزا ختم ہوگئی؟ اسلام آباد ہائیکورٹ نے العزیزیہ کی سزا مختصر مدت کے لیے معطل کی تھی۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے وکیل کو ہدایت کی کہ آپ بیان حلفی کا پیراگراف نمبر 2 پڑھیں، کیا لاہور ہائیکورٹ کے حکم کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ کے آرڈر کو ایک طرف کیا جاسکتا ہے؟
جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کا ضمانت یا سزا معطلی سے کوئی تعلق نہیں، ضمانت اور سزا معطلی کا فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے دیا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ لاہور ہائی کورٹ نے نام ای سی ایل سے نکلنے والی درخواست پر فیصلہ کیا تھا جبکہ ہم نے یہاں سزا معطلی اور ضمانت کیس کو ریگولیٹ کرنا ہے۔
خواجہ حارث نے بتایا کہ نواز شریف ضمانت پر نہیں ہیں جس پر جسٹس عامر فاروق نے دریافت کیا کہ کیا انہوں نے سرینڈر کیا ہے؟
وکیل خواجہ حارث نے عدالت میں کہا کہ نواز شریف علاج کے لیے بیرون ملک گئے ہوئے ہیں، پنجاب حکومت کو ضمانت میں توسیع کی اپیل کی لیکن انہوں نے مسترد کر دی، نواز شریف نے ای سی ایل سے نام نکالنے کے لیے وزارت داخلہ سے رجوع کیا تھا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ وزارت داخلہ نے میڈیکل بورڈ بنا کر پنجاب حکومت سے رپورٹ طلب کی تھی، ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کی سزا معطلی کے بعد ضمانت منظور ہوئی تھی جبکہ العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کو مشروط ضمانت ملی۔
خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ نواز شریف کا موجودہ اسٹیٹس یہ ہے کہ وہ اس وقت ضمانت پر نہیں ہیں، یہ لیگل پوزیشن ہے کہ وہ ضمانت پر نہیں بلکہ علاج کے لیے بیرون ملک گئے اور ضمانت میں توسیع کی درخواست مسترد ہوئی تو بھی وہ بیرون ملک زیر علاج تھے۔
وکیل کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی بیماری پر متعدد میڈیکل بورڈز تشکیل دیے گئے تھے، نواز شریف کی بیماری کے باعث پرائیویٹ اور سرکاری میڈیکل بورڈز نے بیرون ملک علاج تجویز کیا، نواز شریف علاج کے لیے بیرون ملک گئے واپس نہ آنے کی وجوہات درخواست میں لکھی ہیں، نواز شریف کو جو بیماریاں تھیں اس کا علاج پاکستان میں موجود نہیں۔
خواجہ حارث نے مو¿قف اختیار کیا کہ بیان حلفی دیا گیا ہے کہ صحت یابی کے بعد ڈاکٹرز نے اجازت دی تو پاکستان واپس آ جائیں گے، نواز شریف کو طبی بنیادوں پر علاج کے لیے ایک مرتبہ بیرون ملک جانے کی اجازت ملی تھی۔
جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ نواز شریف کی ضمانت مشروط اور ایک مخصوص وقت کے لیے تھی۔
جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس جمع کرائی گئی تھیں کہ ان کی طبیعت ٹھیک نہیں، اس کے باوجود نواز شریف کی ضمانت میں توسیع کی درخواست مسترد کر دی گئی۔
جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ پنجاب حکومت نے کب ضمانت میں توسیع کی اپیل خارج کی جس پر خواجہ حارث نے بتایا کہ 27 جنوری کو ضمانت میں توسیع کی درخواست پر فیصلہ ہوا تھا۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے وکیل سے دریافت کیا کہ پنجاب حکومت نے جو آرڈر پاس کیا، کیا آپ نے اسے چیلنج کیا؟
جس پر خواجہ حارث نے بتایا کہ وہ آرڈر چیلنج نہیں کیا اور اس کی وجہ بھی درخواست میں لکھی ہے کہ نواز شریف ملک میں نہیں اس لیے آرڈر چیلنج نہیں کیا گیا۔
جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ پنجاب حکومت کا فیصلہ کہیں چیلنج نہیں ہوا، وہ فیصلہ اب حتمی ہو چکا ہے۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے سوال کیا کہ کیا نواز شریف اس وقت ہسپتال میں زیر علاج ہیں، جس پر خواجہ حارث نے بتایا کہ نہیں وہ اس وقت ہسپتال میں نہیں ہیں تاہم ان کا علاج چل رہا ہے جیسے ہی ٹھیک ہوں گے وہ واپس آجائیں گے۔
خواجہ حارث نے کہا کہ اب نواز شریف ضمانت پر نہیں ہیں لیکن انہیں ابھی تک سفر کی اجازت نہیں ملی جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ وہ میڈیکلی فٹ نہیں ہوں گے لیکن کوئی دستاویزات تو دکھائیں۔
خواجہ حارث نے کہا کہ نواز شریف کی تازہ ترین میڈیکل رپورٹ بھی موصول ہو گئی ہے جو دفتر خارجہ سے تصدیق کے بعد جمع کرائی جائے گی جس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ وہ رپورٹ ابھی ہمارے سامنے نہیں، ہمارے پاس جون کی میڈیکل رپورٹ جمع کرائی گئی ہے۔
جس پر وکیل نے کہا کہ نواز شریف پاکستان آنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں کورونا وبا کی وجہ سے علاج میں تاخیر ہوئی، پنجاب حکومت کو ہم نے کئی بار ضمانت میں توسیع کا کہا ہوا ہے۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے خواجہ حارث سے کہا کہ آپ عدالت کو مطمئن کریں کہ نوازشریف عدالت سے فرار نہیں ہوئے، نواز شریف کو عدالت میں پیش ہونا پڑے گا تب اپیل آگے چلے گی۔
عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ وفاقی حکومت کا نواز شریف کی صحت پر کیا موقف ہے؟ جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ نواز شریف کی صحت کو وفاقی حکومت نے ہائی کمیشن کے ذریعے چیک کرنا تھا تاہم ڈپٹی اٹارنی جنرل ارشد کیانی نے کہا کہ مجھے کوئی ہدایات نہیں ملیں۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ وفاقی حکومت کو پتا ہونا چاہیے تھا کہ عدالت کو آگاہ کرنا ہے۔
اگر نواز شریف مفرور ہیں تو علیحدہ سے 3 سال قید کی سزا ہوسکتی ہے، عدالت
اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ نواز شریف جان بوجھ کر مفرور تو نہیں اس کا جائزہ وفاقی حکومت لے سکتی ہے لیکن وفاقی حکومت نے نواز شریف کی صحت کا جائزہ لینے کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا، نواز شریف کا علاج جاری ہے جب علاج مکمل ہوگا واپس آئیں گے۔
اس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ نواز شریف کا علاج ہو رہا ہے یا نہیں ریکارڈ پر ایسی کوئی دستاویز نہیں، اگر نواز شریف مفرور ہیں تو علیحدہ سے 3 سال قید کی سزا ہوسکتی ہے۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے مزید ریمارکس دیے کہ ٹرائل یا اپیل میں پیشی سے فرار ہونا بھی جرم ہے لیکن ہم نواز شریف کو اس وقت مفرور قرار نہیں دے رہے۔
جسٹس عامر فاروق نے خواجہ حارث سے کہا کہ نواز شریف کی موجودگی کے بغیر اپیل کیسے سنی جاسکتی ہے دلائل دیں، جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ ایک میڈیکل سرٹیفکیٹ جمع کرا چکا ہوں، دوسرا بھی کروا دوں گا، عدالت تمام حقائق کو مدنظر رکھ کر اس پر فیصلہ کرے۔
جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ اگر نواز شریف کی غیر حاضری میں اپیل خارج ہو گئی تو کیا ہوگا؟ اگر عدالت نواز شریف کو مفرور ڈیکلیئر کر دے تو پھر اپیل کا کیا اسٹیٹس ہو گا؟
جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ اگر نواز شریف جان بوجھ کر نہیں آتے پھر عدالت چاہے انہیں مفرور قرار دے، عدالت نے دریافت کیا کہ اگر ہم نواز شریف کو مفرور قرار دیں تو اپیل کی کیا حیثیت ہوگی؟
سماعت میں قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب جہانزیب بھروانہ نے نواز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواستوں کی مخالفت میں دلائل دیے۔
نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی دونوں درخواستیں ناقابل سماعت ہیں، درخواستوں کے ساتھ تفصیلی بیان حلفی نہیں ہے۔
جہانزیب بھروانہ نے کہا کہ آج ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنس میں سزا کے خلاف دونوں اپیلیں سماعت کے لیے مقرر ہیں، نواز شریف کا پیش نہ ہونا عدالتی کارروائی سے فرار ہے اور نواز شریف جان بوجھ کر مفرور ہیں۔
نیب پراسیکیوٹر کے دلائل پر جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ اگر آپ کی بات مان لی جائے تو پھر دونوں اپیلوں کا کیا ہو گا؟
نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ جج ارشد ملک کی ویڈیو کا معاملہ بھی عدالت کے سامنے ہے جس پر عدالت نے انہیں ٹوکا کہ ابھی جج ارشد ملک کی ویڈیو پر دلائل نہ دیں پہلے حاضری سے استثنیٰ پر ہی دلائل دیں۔
جسٹس عامر فاروق نے دریافت کیا کہ کیا نواز شریف نمائندے کے ذریعے اپیلوں کی پیروی کرسکتے ہیں؟ جس کے جواب میں نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ اگر نواز شریف مفرور ہوگئے تو عدالت نمائندہ مقرر کرسکتی ہے اور نیب کو سن کر میرٹ پر فیصلہ کرسکتی ہے۔پراسیکیوٹر نے مزید کہا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے نواز شریف کی ضمانت مسترد کرنے کا حکم نامہ کہیں چیلنج نہیں ہوا۔
جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ ہم ایک تاریخ دیں گے اس پر نوازشریف کو پیش ہونا پڑے گا، ہمیں ضمانت دینے والوں کے خلاف بھی کارروائی کرنا ہو گی۔
جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ابھی ہم نواز شریف کو مفرور ڈیکلیئر نہیں کر رہے بلکہ سرینڈر کرنے کے لیے ایک موقع فراہم کر رہے ہیں، آئندہ تاریخ پر نواز شریف کو عدالت پیش ہونا پڑے گا۔
جس پر خواجہ حارث نے عدالت سے کہا کہ پھر تو آپ نے فیصلہ کر دیا کہ وہ ہر صورت واپس آئیں۔
خواجہ حارث کے اعتراض پر جسٹس محسن اختر کیانی سے دریافت کیا کہ آپ کو کوئی تحفظات ہیں کہ نوازشریف کو ائیرپورٹ پر گرفتار کر لیا جائے گا؟
جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ اگر ایسی بات ہے تو ہمیں بتائیں ہم نوازشریف کو عدالت آنے تک پورا تحفظ فراہم کریں گے۔جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ اگر ایسا خدشہ ہوا تو میں عدالت سے رجوع کر لوں گا، بعدازاں کیس کی سماعت 10 ستمبر تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں